Tafsir As-Saadi
24:53 - 24:54

اور انھوں نے قسمیں کھائیں اللہ کی پختہ قسمیں اپنی البتہ اگر حکم دیں آپ ان کو (جہاد کا) تو وہ ضرور نکلیں گے، آپ کہہ دیجیے! مت قسمیں کھاؤ تم، اطاعت (تمھاری) معروف ہے بلاشبہ اللہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (53) آپ کہہ دیجیے! اطاعت کرو تم اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی، پس اگر تم روگردانی کرو گے تو یقینا اس (رسول) کے ذمے ہے جو کچھ بار رکھا گیا (اس پر) اور تمھارے ذمے ہے جو کچھ بار رکھا گیا (تم پر) اور اگر تم اطاعت کرو گے اس کی تو ہدایت پا جاؤ گےاور نہیں ہے رسول کے ذمے مگر پہنچا دینا کھلم کھلا (54)

[53] اللہ تبارک و تعالیٰ ان منافقین کا حال بیان کرتا ہے جو جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں نکلے اورپیچھے گھروں میں بیٹھ رہے، نیز ان کا حال بیان کرتا ہے جن کے دلوں میں مرض اور ضعف ایمان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں :﴿ لَىِٕنۡ اَمَرۡتَهُمۡ ﴾ ’’البتہ اگر آپ انھیں حکم دیں ‘‘ مستقبل میں یا جہاد کے لیے نکلتے وقت آپ ان کے نکلنے پر صراحت کے ساتھ اصرار کریں گے﴿ لَيَخۡرُجُنَّ ﴾ ’’تو وہ ضرور نکلیں گے۔‘‘ پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ لَّا تُقۡسِمُوۡا ﴾ ’’کہہ دیجیے! نہ قسمیں کھاؤ۔‘‘ یعنی ہمیں تم سے قسمیں اٹھوانے کی اور تمھارے عذروں کی توضیح کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے بارے میں ہمیں آگاہ فرما دیا ہے اور تمھاری اطاعت گزاری سب کے سامنے ہے، ہم پر مخفی نہیں ، ہم تمھاری سستی اور کسی عذر کے بغیر تمھاری کسل مندی کو خوب جانتے ہیں ، اس لیے تمھارے عذر پیش کرنے اور قسمیں اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا محتاج تو صرف وہ ہوتا ہے جس کے معاملے میں متعدد احتمالات ہوں اور اس کا حال مشتبہ ہو، ایسے شخص کے لیے کبھی کبھی عذر اس کی براء ت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ مگر تمھیں عذر کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ تمھارے بارے میں تو اس بات کا ڈر اور انتظار ہے کہ کب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اور اس کا غضب نازل ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے باخبر ہے‘‘ وہ تمھیں ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا…
[54] یہ ہے ان کی حقیقت احوال۔رہے رسول اللہﷺ تو آپ کا وظیفہ یہ ہے کہ آپ نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں اس لیے فرمایا: ﴿قُلۡ اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ﴾ ’’کہہ دیجیے! اطاعت کرو اللہ اور رسول کی۔‘‘ اگر وہ اس حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں تو یہ ان کی سعادت ہے۔ ﴿فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَيۡهِ مَا حُمِّلَ ﴾ ’’پس اگر تم نے روگردانی کی تو اس (پیغمبر) پر وہ (ذمے داری) ہے جو اس پر ڈالی گئی۔‘‘ یعنی رسالت کی ذمے داری، جو اس نے ادا کر دی﴿ وَعَلَيۡكُمۡ مَّا حُمِّلۡتُمۡ﴾ ’’اور تم پر وہ ہے جو تم پر ڈالی گئی۔‘‘ یعنی اطاعت کی ذمہ داری اور اس بارے میں تمھارا حال ظاہر ہو گیا ہے، تمھاری گمراہی اور تمھارا استحقاق عذاب واضح ہو گیا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تُطِيۡعُوۡهُ تَهۡتَدُوۡا﴾’’اور اگر تم اس کی اطاعت کرو تو ہدایت پالو گے۔‘‘ اپنے قول و فعل میں راہ راست کی۔ اس کی اطاعت کے سوا تم کسی طریقے سے بھی راہ راست نہیں پا سکتے، یہ ناممکن ہی نہیں بلکہ سخت محال بھی ہے۔﴿ وَمَا عَلَى الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ یعنی رسولﷺکے ذمے تمھیں واضح طور پر پیغام الٰہی پہنچا دینا ہے، جس میں کسی کے لیے کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے۔ اور رسول اللہﷺ نے ایسا ہی کیا اور پیغام الٰہی کو واضح طور پر پہنچا دیا ہے اور اب اللہ تعالیٰ ہی تمھارا حساب لے گا اور تمھیں اس کی جزا دے گا۔ رسول کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں اس نے تو اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔