بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے نازل کیا فرقان اوپر اپنے بندے کےتاکہ ہو وہ جہان (والوں ) کے لیے ڈرانے والا (1) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور نہیں بنائی اس نے کوئی اولاد اور نہیں ہے اس کا کوئی شریک بادشاہی میں اور پیدا کیا اس نے ہر چیز کو، پس اس نے اندازہ کیا اس کا (پورا) اندازہ کرنا (2)
[1] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظمت کاملہ، ہر لحاظ سے وحدانیت میں اس کے متفرد ہونے، اس کی بھلائی اور احسان کی کثرت کا بیان ہے، چنانچہ فرمایا:﴿تَبٰرَكَ﴾ یعنی وہ بہت بڑا ہے اس کے تمام اوصاف نہایت کامل اور اس کے احسانات بہت زیادہ ہیں ۔ اس کا سب سے بڑا احسان اور سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ عظیم قرآن نازل فرمایا جو حلال و حرام، ہدایت و ضلالت، اہل سعادت اور اہل شقاوت کے درمیان فرق بیان کرتا ہے۔﴿ عَلٰى عَبۡدِهٖ ﴾ یہ فرقان عظیم اس نے اپنے بندے محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمایا جنھوں نے تمام مراتب عبودیت مکمل کر لیے اور اللہ نے ان کو تمام انبیاء و مرسلین پر فوقیت عطا کی۔ ﴿لِيَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ ہو جائے۔‘‘ یعنی اپنے بندے پر اس فرقان کا نازل کرنا﴿ لِلۡعٰلَمِيۡنَ نَذِيۡرًا ﴾ ’’جہانوں کے لیے ڈرانے والا۔‘‘ جو ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب اور غصے سے ڈراتا ہے اور ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی ناراضی کے مقامات کو واضح کرتا ہے۔ جو کوئی اس کے اِنذار کو قبول کر کے اس پر عمل پیرا ہوتا ہے وہ دنیا و آخرت میں نجات پانے والوں میں شمار ہوتا ہے، جنھیں ابدی سعادت اور سرمدی بادشاہی حاصل ہوتی ہے۔ پس کیا اللہ تعالیٰ کی اس نعمت اور اس کے اس فضل و احسان سے بڑھ کر بھی کوئی اور چیز ہے؟ پس نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات، جس کے احسانات و برکات میں قرآن بھی شامل ہے۔
[2]﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی۔‘‘ یعنی وہ اکیلا ہی زمین و آسمان میں تصرف کرتا ہے اور زمین اور آسمانوں میں رہنے والے، سب اللہ تعالیٰ کے مملوک اور غلام ہیں ، اس کی عظمت کے سامنے فروتن، اس کی ربوبیت کے سامنے سرافگندہ اور اس کی رحمت کے محتاج ہیں ۔ ﴿ وَلَمۡ يَتَّؔخِذۡ وَلَدًا وَّلَمۡ يَؔكُنۡ لَّهٗ شَرِيۡكٌ فِي الۡمُلۡكِ ﴾ ’’اس نے کوئی اولاد بنائی ہے نہ اس کا بادشاہی میں کوئی شریک ہے۔‘‘ کوئی اس کا بیٹا یا شریک کیسے ہو سکتا ہے، حالانکہ وہ مالک ہے دیگر تمام لوگ اس کی مملوک ہیں ، وہ قاہر و غالب ہے اور تمام مخلوق مقہور ہے۔ وہ ہر لحاظ سے بذاتہ غنی ہے اور تمام مخلوق ہر لحاظ سے اس کی محتاج ہے؟ کوئی کیسے اقتدار میں اس کا شریک ہو سکتا ہے، حالانکہ تمام بندوں کی پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں ، اس کی اجازت کے بغیر ان میں کوئی حرکت ہے نہ سکون اور نہ وہ کسی تصرف کا اختیار رکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس شرک سے بہت بلند اور بالاتر ہے۔ جس کسی نے اس کے بارے میں یہ بات کہی ہے اس نے اس کی ویسی قدر نہیں کی جیسا کہ قدر کرنے کا حق ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَخَلَقَ كُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔‘‘ یہ تخلیق عالم علوی، عالم سفلی، تمام حیوانات، نباتات اور جمادات کو شامل ہے ﴿ فَقَدَّرَهٗ تَقۡدِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کا مناسب اندازہ کیا۔‘‘ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی کی ہر مخلوق کو ایسی تخلیق عطا کی جو اس کے لائق اور اس کے لیے مناسب ہے اور جو اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے۔ جہاں تمام مخلوق کی شکل ایسے ہے کہ عقل صحیح یہ تصور بھی نہیں کر سکتی کہ وہ کسی ایسی شکل میں ہو جو موجودہ شکل و صورت کے خلاف ہو جس کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں بلکہ مخلوق واحد کا کوئی جزو اور کوئی عضو صرف اسی جگہ مناسب ہے جہاں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّكَ الۡاَعۡلَىۙ۰۰الَّذِيۡ خَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰وَالَّذِيۡ قَدَّرَ فَهَدٰى ﴾(الاعلی:87؍1-3) ’’تسبیح بیان کیجیے اپنے عالی شان رب کے نام کی۔ جس نے (انسان کو) پیدا کیا اور اس کو نک سک سے برابر کیا اور جس نے اس کا اندازہ ٹھہرایا پھر اس کو راہ دکھائی۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ رَبُّنَا الَّذِيۡۤ اَعۡطٰى كُلَّ شَيۡءٍ خَلۡقَهٗ ثُمَّ هَدٰؔى ﴾(طہ:20؍50) ’’ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی تخلیق عطا کی پھر اس کو راہ دکھائی۔‘‘ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عظمت، اپنے کمال اور اپنے کثرت احسان کو بیان فرمایا اور یہ چیز اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ صرف اسی کو الٰہ، محبوب و معظم ہونا چاہیے، صرف اسی کے لیے عبادت کو خالص کیا جائے۔ اس کا کوئی شریک نہیں … تب مناسب ہے کہ غیر اللہ کی عبادت کے بطلان کو بھی بیان کیا جائے، اس لیے فرمایا: