Tafsir As-Saadi
25:41 - 25:44

اور جب وہ دیکھتے ہیں آپ کو تو نہیں پکڑتے وہ آپ کو مگر ٹھٹھا مذاق (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جسے بھیجا ہے اللہ نے رسول (بنا کر)؟ (41) تحقیق قریب تھا وہ کہ گمراہ کر دیتا ہمیں ہمارے معبودوں سے، اگر نہ ہوتی یہ بات کہ جمے رہے ہم ان پر اور عنقریب جان لیں گے وہ، جب وہ دیکھیں گے عذاب، کہ کون زیادہ گمراہ تھا راستے سے؟ (42) کیا آپ نے دیکھا اس شخص کو کہ بنا لیا اس نے اپنا معبود اپنی خواہش کو؟ کیا پس آپ ہیں اس کے ذمے دار؟ (43) یا گمان کرتے ہیں آپ کہ بے شک اکثر ان کے سنتے یاسمجھتے ہیں ؟ نہیں ہیں وہ مگر چوپایوں ہی کی طرح بلکہ وہ زیادہ گمراہ ہیں باعتبار راستے کے (44)

[41] اے محمد! (ﷺ) آپ کی تکذیب کرنے والے، اللہ تعالیٰ کی آیات سے عناد رکھنے والے اور زمین پر تکبر سے چلنے والے جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے استہزاء کرتے ہیں اور آپ کی تحقیر کرتے ہیں ، آپ کو معمولی سمجھتے ہوئے حقارت آمیز لہجے میں کہتے ہیں :﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوۡلًا ﴾ ’’کیا یہی وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟‘‘ یعنی یہ مناسب اور لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسول بناتا۔ یہ سب کچھ ان کے شدت ظلم، ان کے عناد اور حقائق بدلنے کے سبب تھا کیونکہ ان کے اس کلام سے یہ ذہن میں آتا ہے کہ (معاذ اللہ) رسول (ﷺ)انتہائی خسیس اور حقیر شخص تھے اور اگر رسالت کا منصب کسی اور شخص کو عطا کیا گیا ہوتا تو زیادہ مناسب تھا۔ ﴿ وَقَالُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡيَتَيۡنِ عَظِيۡمٍ ﴾(الزخرف:43؍31) ’’وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں شہروں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اتارا گیا۔‘‘ پس یہ کلام کسی جاہل ترین اور گمراہ ترین شخص ہی سے صادر ہو سکتا ہے یا کسی ایسے شخص سے صادر ہو سکتا ہے جو بڑا عناد پسند اور جانتے بوجھتے جاہل ہو۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اپنے نظریات کو رائج کرے اور حق اور حق پیش کرنے والے میں جرح و قدح کرے، ورنہ اگر کوئی شخص، رسول مصطفیٰ محمد بن عبداللہ ﷺ کے احوال پر غور کرے تو وہ آپ کو عقل، علم، ذہانت، وقار، مکارم اخلاق، محاسن عادات، عفت، شجاعت اور تمام اخلاق فاضلہ میں دنیا کا سب سے بڑا شخص، ان کا سردار اور ان کا قائد پائے گا۔ آپ کو حقیر جاننے اور آپ کے ساتھ دشمنی رکھنے والے شخص میں حماقت، جہالت، گمراہی، تناقض، ظلم اور تعدی جمع ہیں جو کسی اور شخص میں جمع نہیں ۔ اس کی جہالت اور گمراہی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس عظیم رسول اور بہترین قائد میں جرح و قدح کرتا ہے۔ اس جرح و قدح سے اس کا مقصد آپ کا تمسخر اڑانا، اپنے باطل نظریات پر ڈٹے رہنا اور ضعیف العقل لوگوں کو فریب دینا ہے۔
[42] اس لیے انھوں نے کہا: ﴿ اِنۡ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنۡ اٰلِهَتِنَا ﴾ ’’یقینا یہ تو ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکا چلا تھا۔‘‘ کیونکہ یہ سب معبودوں کو ختم کر کے ایک ہی معبود قرار دیتا ہے۔ ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ صَبَرۡنَا عَلَيۡهَا ﴾ ’’اگر ہم ان معبودوں کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے‘‘ تو اس نے ہمیں گمراہ کر دیا ہوتا۔ وہ سمجھتے تھے… اللہ ان کا برا کرے… کہ توحید گمراہی ہے اوران کے شرکیہ عقائد ہی سراسر ہدایت ہیں ، لہٰذا وہ اپنے ان عقائد پر ثابت قدم رہنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرتے تھے۔ ﴿ وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ﴾(صٓ:38؍6) ’’اور سرداران قوم یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ چلو اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہو۔‘‘ یہاں ان مشرکین نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ صَبَرۡنَا عَلَيۡهَا ﴾ اور صبر سوائے اس مقام کے ہر مقام پر قابل تعریف ہے کیونکہ یہ اسباب غضب اور جہنم کا ایندھن بننے پر صبر کرنا ہے۔ رہے اہل ایمان تو ان کے رویے کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَتَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ١ۙ۬ وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ﴾(العصر:103؍3) ’’وہ ایک دوسرے کو حق کی تلقین اور ایک دوسرے کو صبر کی تاکید کرتے ہیں ۔‘‘ چونکہ ان کا فیصلہ تھا کہ وہ راہ راست پر گامزن ہیں اور رسول گمراہ ہے حالانکہ یہ بات متحقق ہے کہ ان کے پاس تصرف کی قدرت اور کوئی اختیار نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے آگاہ فرمایا: ﴿حِيۡنَ يَرَوۡنَ الۡعَذَابَ﴾ ’’کہ جب وہ عذاب کو دیکھیں گے‘‘ تب انھیں اس حقیقت کا علم ہو گا کہ ﴿ مَنۡ اَضَلُّ سَبِيۡلًا﴾ ’’راہ راست سے کون زیادہ بھٹکا ہوا ہے؟‘‘ ﴿ وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27) ’’اور اس روز ظالم اپنا ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔‘‘
[43] کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی گمراہی ہے کہ انسان اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لے اور جو جی چاہے کرتا رہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ اَرَءَيۡتَ مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ﴾ ’’کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا۔‘‘ کیا آپ کو اس کے حال پر تعجب نہیں ، کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ وہ کس گمراہی میں مبتلا ہے اور حال یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بلند منازل کا مستحق سمجھتا ہے؟ ﴿ اَفَاَنۡتَ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’کیا آپ اس پر وکیل ہوں گے؟‘‘ یعنی آپ کو اس پر نگران مقرر نہیں کیا آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں ۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
[44] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حد کو پہنچی ہوئی گمراہی پر یہ فیصلہ کیا کہ ان کی عقل اور سماعت کو سلب کر لیا اور گمراہی میں ان کو مویشیوں سے تشبیہ دی جو آواز اور پکار کے سوا کچھ نہیں سنتے وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں اس لیے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا، بلکہ یہ تو چوپایوں سے بھی زیادہ گمراہ ہیں ۔ کیونکہ مویشیوں کو جب ان کا چرواہا راہ دکھاتا ہے تو وہ اس راہ پر چل پڑتے ہیں وہ ہلاکت کی راہوں کو پہچانتے ہیں اس لیے ان سے بچتے ہیں ۔ ان چوپایوں کی عاقبت ان گمراہوں کی نسبت زیادہ محفوظ ہے۔پس اس سے واضح ہو گیا کہ رسول (ﷺ)پر گمراہی کا الزام لگانے والا خود اس وصف کا زیادہ مستحق ہے اور جانور بھی اس سے زیادہ راہ راست پر ہیں ۔