جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)
[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔
[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔
[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔
[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔
[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔