Tafsir As-Saadi
27:76 - 27:77

بلاشبہ یہ قرآن بیان کرتا ہے بنی اسرائیل پر اکثر وہ باتیں کہ وہ جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں (76) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ ہدایت اور رحمت ہے مومنوں کے لیے(77)

[76] یہ آیت کریمہ اس بارے میں خبر دیتی ہے کہ قرآن کتب سابقہ کی تصدیق و توضیح اور ان کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ چونکہ کتب سابقہ کے بارے میں بنی اسرائیل میں اشتباہ و اختلاف واقع ہوا ہے اس لیے قرآن کریم نے ایسی توضیحات بیان کی ہیں جن سے اشکال دور ہو جاتا ہے اور مختلف فیہ مسائل میں راہ صواب واضح ہو جاتی ہے۔
[77] اور جب اس میں جلالت و وضاحت، ہر اختلاف کا ازالہ اور ہر اشکال کی تفصیل جمع ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے مگر سب بندے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے، اس لیے واضح فرما دیا کہ قرآن کا فائدہ، اس کی روشنی اور راہنمائی صرف اہل ایمان کے لیے مختص ہے۔ پس فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَهُدًى ﴾ ’’اور بے شک یہ ہدایت ہے۔‘‘ یعنی ضلالت، شبہات اور گمراہی کے جھاڑ جھنکار کے درمیان راہ ہدایت ہے ﴿وَّرَحۡمَةٌ﴾ ’’اور رحمت ہے۔‘‘ اس سے ان کے سینے ٹھنڈے اور ان کے تمام دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ﴿ لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یہ ان لوگوں کے لیے رحمت ہے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں ، اس کی تصدیق کرتے ہوئے اس کو قبول کرتے ہیں ، اس میں تدبر اور اس کے معانی میں غور وفکر کرتے ہیں ۔ پس انھی لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف راہنمائی اور رحمت سے سرفراز کیا جائے گا جو سعادت اور فوز وفلاح کو متضمن ہے۔