جس دن کہ سفید ہوں گے کئی چہرے اور سیاہ ہوں گے کئی چہرے۔ پس لیکن وہ لوگ کہ سیاہ ہوں گے چہرے اُن کے (ان سے کہا جائے گا) کیا کفر کیا تھا تم نے بعد اپنے ایمان کے؟ تو (اب) چکھو تم عذاب بہ سبب اس کے جو تھے تم کفر کرتے(106) اور لیکن وہ لوگ کہ سفید ہوں گے چہرے ان کے، پس وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(107)
[107,106] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے حالات بیان فرمائے ہیں۔ اس دن عدل اور فضل کی بنیاد پر ملنے والی جزا و سزا کے اثرات بیان فرمائے ہیں۔ اس بیان کا مقصد ترغیب وترہیب ہے جس کا فائدہ خوف اور امید کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ ﴾ ’’جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے‘‘ وہ خوش نصیبوں اور نیکی کرنے والوں کے چہرے ہوں گے، جنھوں نے آپس میں الفت و محبت رکھی اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ ﴿ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ ﴾ ’’اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے‘‘ وہ بدنصیبوں اوربدکاروں کے چہرے ہوں گے، جو اختلاف و افتراق پیدا کرنے والے تھے۔ ذلت و رسوائی کی وجہ سے ان کے دلوں کی جو کیفیت ہوگی، اس کے نتیجے میں ان کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے۔ اور نیک لوگوں کو نعمتیں اور خوشیاں نصیب ہوں گی، ان کے اثرات ان کے چہروں پر ظاہر ہوں گے۔ اور ان کے چہرے سفید اور روشن ہوں گے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَقّٰىهُمۡ نَضۡرَةً وَّسُرُوۡرًا﴾(الدہر:76؍11) ’’اور انھیں تازگی اور خوشی پہنچائی‘‘ تروتازہ ہونے کا تعلق چہروں سے ہے، اور خوشی دلوں میں ہوتی ہے۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہے:﴿وَالَّذِيۡنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَآءُ سَيِّئَةٍۭ بِمِثۡلِهَا١ۙ وَتَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغۡشِيَتۡ وُجُوۡهُهُمۡ قِطَعًا مِّنَ الَّيۡلِ مُظۡلِمًا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾(یونس:1؍27) ’’جنھوں نے گناہ کمائے تو ہر برائی کا بدلہ اس کے برابر ہے۔ اور ان پر ذلت چھائی ہوگی۔ انھیں اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ یوں ہوگا گویا ان کے چہروں پر رات کے تاریک ٹکڑے اوڑھا دیے گئے ہیں۔ یہی لوگ آگ والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ ﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ ﴾ ’’اور جن کے چہرے سیاہ ہوں گے‘‘انھیں ڈانٹ ڈپٹ اور زجر و توبیخ کے انداز سے کہا جائے گا: ﴿ اَكَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا‘‘ یعنی تم نے ہدایت اور ایمان کے بجائے کفر و ضلالت کو کیوں ترجیح دی؟ تم نے ہدایت والا راستہ چھوڑ کر گمراہی کا راستہ کیوں اختیار کیا؟ ﴿ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ اب ’’اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو‘‘ تمھارے لائق صرف جہنم کا مقام ہے تم صرف ذلت و رسوائی کے مستحق ہو۔ ﴿ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ ابۡيَضَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ ﴾ ’’اور جن کے چہرے سفید ہوں گے‘‘ انھیں مبارک باد دی جائے گی، اورعظیم ترین بشارت ملے گی، یعنی انھیں جنت میں داخلے کی، رب کی خوشنودی کی اور اس کی رحمت کی خوش خبری دی جائے گی۔ ﴿ فَفِيۡ رَحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اللہ کی رحمت میں داخل ہوں گے، اور اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ چونکہ وہ ہمیشہ رحمت میں رہیں گے اور جنت بھی اللہ کی رحمت کا ایک مظہر ہے۔ لہٰذا وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے جس میں دائمی نعمتیں اور سلامتی والی زندگی ہوگی۔ وہ ارحم الراحمین کے پڑوس میں ہوں گے۔