نہیں ہیں وہ (سب) برابر، اہل کتاب میں سے ایک جماعت ہے (حق پر) قائم، تلاوت کرتے ہیں وہ آیتیں اللہ کی رات کی گھڑیوں میں اور وہ سجدہ کرتے ہیں(113)ایمان لاتے ہیں وہ ساتھ اللہ کے اور دن آخرت کے اور حکم کرتے ہیں ساتھ اچھے کاموں کے اور روکتے ہیں وہ برے کاموں سے اور جلدی کرتے ہیں وہ بھلائیوں میں اور یہی لوگ ہیں صالحین میں سے(114) اور جو کچھ کریں گے وہ بھلائی سے، پس ہرگز نہیں محروم کیے جائیں گے وہ اس (کے ثواب) سے اور اللہ خوب جاننے والا ہے پرہیزگاروں کو(115)
[114,113] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے فاسق گروہ کا ذکر کیا، ان کی بداعمالیاں اور ان کی سزائیں بیان کیں، تو ان آیات میں حق پر قائم رہنے والی جماعت کا ذکر فرمایا، ان کے نیک اعمال اور ان کا ثواب ذکر فرمایا۔ اور یہ بتایا کہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں گروہ برابر نہیں۔ بلکہ ان کے درمیان اتنا زیادہ فرق ہے کہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس فاسق گروہ کا ذکر تو پہلے ہوچکا۔ باقی رہے یہ مومن ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں ﴿ اُمَّةٌ قَآىِٕمَةٌ ﴾ ایک جماعت اللہ کے دین پرقائم رہنے والی، اور اللہ نے جن کاموں کا حکم دیا ہے ان پر عمل پیرا رہنے والی ہے۔ ان نیک اعمال میں نماز قائم کرنا بھی شامل ہے۔ ﴿ يَّتۡلُوۡنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّيۡلِ وَهُمۡ يَسۡجُدُوۡنَ ﴾ ’’وہ راتوں کے وقت کلام اللہ کی تلاوت بھی کرتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں‘‘ یہ رات کے اوقات میں ادا کی جانے والی ان کی نمازوں کا بیان ہے کہ وہ طویل تہجد پڑھتے ہیں، اور اپنے رب کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ اللہ کے لیے خشوع وخضوع کے ساتھ رکوع اور سجدے کرتے ہیں۔ ﴿يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’اللہ پر اور قیامت کے دن پرایمان بھی رکھتے ہیں‘‘ جس طرح مسلمانوں کا ایمان ان کے لیے ضروری قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے ہر نبی پر، اور اللہ کی نازل کی ہوئی ہر کتاب پر ایمان رکھیں ۔ وہ بھی اس طرح کا ایمان رکھتے ہیں۔ قیامت پر ایمان کا خاص طورپر ذکر فرمایا، کیونکہ قیامت پر صحیح یقین و ایمان ہی مومن کو ان اعمال پر آمادہ کرتا ہے جو اسے اللہ سے قریب کرتے ہیں۔ اور جن کا قیامت کو ثواب ملے گا۔ اور ہر اس عمل کے ترک پر آمادہ کرتا ہے جس سے اس دن سزا ملے۔ ﴿ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں‘‘ اس طرح ان سے یہ عمل انجام پاتا ہے۔ ایمان اور ایمان کے لوازم کے ذریعے سے اپنی تکمیل کرتے ہیں، اور دوسروں کو ہر نیکی کا حکم دے کر ہر برائی سے منع کرکے دوسروں کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اپنے ہم مذہبوں کو اور دوسرے لوگوں کو محمدﷺپر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں۔ پھر ان کی عالی ہمتی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ﴿ وَيُسَارِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں‘‘ نیکی کے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور جب بھی ہوسکے فوراً نیکی کرلیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نیکی کی شدید رغبت اور خواہش رکھتے ہیں، اور اس کے فوائد و ثمرات سے خوب واقف ہیں۔ یہ لوگ جن کی تعریف اللہ نے ان عمدہ صفات اور عظیم اعمال کے ساتھ کی ہے۔ ﴿ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’یہی نیک لوگوں میں سے ہیں‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل کرے گا، انھیں اپنی بخشش کے سائے میں لے لے گا، اور انھیں اپنے فضل و احسان سے نوازے گا۔
[115]﴿ وَمَا يَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ﴾ ’’اور یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں‘‘ تھوڑی ہوں یا زیادہ ﴿ فَلَنۡ يُّكۡفَرُوۡهُ ﴾’’ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی‘‘ انھیں ان کے ثواب سے محروم نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں ان اعمال کا مکمل ترین ثواب دے گا۔ لیکن اعمال کے ثواب کا دارومدارعمل کرنے والے کے دل میں موجود ایمان و تقویٰ پر ہوتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور اللہ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے‘‘ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ہے: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾(المائدۃ:5؍27) ’’اللہ صرف پرہیز گاروں کی قربانی قبول کرتا ہے۔‘‘