Tafsir As-Saadi
30:58 - 30:60

اور البتہ تحقیق بیان کر دی ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر ایک مثال اور البتہ اگرلے آئیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی (معجزہ) تو البتہ ضرور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہو تم مگر باطل پرست (58) اسی طرح مہرلگاتا ہے اللہ دلوں پر ان لوگوں کے جو نہیں جانتے (59) پس آپ صبر کیجیے، بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور نہ ہلکا (بے وزن) بنا دیں آپ کو وہ لوگ جو نہیں یقین رکھتے (60)

[58، 59]﴿وَلَقَدۡ ضَرَبۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے بیان کی‘‘ اپنی عنایت، رحمت، لطف و کرم اور حسن تعلیم کی بنا پر ﴿لِلنَّاسِ فِيۡ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ ﴾ ’’لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال‘‘ جس سے حقائق واضح ہوتے ہیں، تمام امور کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور حجت تمام ہوتی ہے۔ یہ اصول ان تمام مثالوں میں عام ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے امور معقولہ کو امور محسوسہ کے قریب لانے کے لیے بیان کیا ہے۔ ان امور کے بارے میں جو ابھی واقع ہوں گے خبر دینے اور ان کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ضرب الامثال کا اسلوب بہت اہم ہے حتیٰ کہ یوں لگتا ہے جیسے یہ خبر واقع ہو چکی ہے۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے روز مجرموں کی حالت کیا ہو گی۔ وہ شدت غم میں مبتلا ہوں گے اور ان سے کسی قسم کا عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔یہ ظالم کفار واضح حق کے بارے میں عناد رکھنے سے باز نہ آئے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَىِٕنۡ جِئۡتَهُمۡ بِاٰيَةٍ ﴾ ’’اور اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں‘‘ جو آپ کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی ہو ﴿لَّيَقُوۡلَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُبۡطِلُوۡنَ ﴾’’تو کافر لوگ یہی کہیں گے کہ تم تو جعل سازی کرتے ہو۔‘‘ یعنی وہ حق کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ باطل ہے۔ یہ ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت کے باعث تھا نیز اس کا سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور وہ اپنی جہالت میں بہت دور تک نکل گئے۔﴿كَذٰلِكَ يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پرمہر لگا دیتا ہے جو علم نہیں رکھتے۔‘‘ اس لیے ان کے دلوں میں کوئی بھلائی داخل ہو سکتی ہے نہ وہ اشیاء کی حقیقت کا ادراک کر سکتے ہیں بلکہ اس کے برعکس انھیں حق باطل اور باطل حق دکھائی دیتا ہے۔
[60]﴿فَاصۡبِرۡ ﴾ ’’پس صبر کیجیے!‘‘ اپنی دعوت الیٰ اللہ اور جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اس پر ثابت قدم رہیے اگر آپ ان کے اندر روگردانی اور اعراض دیکھتے ہیں تو یہ چیز آپ کو اپنی دعوت سے نہ روک دے۔ ﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے‘‘ اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ چیز صبر میں مدد دیتی ہے کیونکہ جب بندے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا عمل رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ اس کا اجر اسے کامل طور پر مل جائے گا، تو اسے اس راستے میں جو تکالیف اور مصائب پہنچتے ہیں وہ انھیں معمولی نظر آتے ہیں، اس کے لیے ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے اور اسے ہر بڑا اور زیادہ عمل کم نظر آتا ہے۔
﴿وَّلَا يَسۡتَخِفَّنَّكَ۠ الَّذِيۡنَ لَا يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ آپ کو ہرگز ہلکا نہ پائیں جن کا ایمان کمزور اور یقین بہت کم ہے بنابریں ان کی عقل بہت خفیف اور ان میں صبر بہت کم ہے۔ پس یہ لوگ آپ کو ہرگز کمزور نہ پائیں آپ ان سے بچتے رہیں اور ان کی پروا نہ کریں ورنہ وہ آپ کو بہت کمزور اور ہلکا سمجھیں گے اور آپ کو اوامرونواہی میں عدم ثبات پر محمول کریں گے۔ اس بارے میں نفس ان کی معاونت کرتا ہے اور مشابہت اور موافقت تلاش کرتا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ہر مومن جو صاحب یقین ہو اور پختہ عقل رکھتا ہو اس کے لیے صبر کرنا بہت آسان ہے اور ہر کمزور یقین اور کمزور عقل شخص کم صبر والا ہوتا ہے۔ پہلی صورت گویا مغز کی مانند ہے اور دوسری صورت چھلکے کی سی ہے۔ واللہ المستعان۔