[17] رہی اس کی جزا، تو فرمایا:﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ ﴾ یہاں سیاق نفی میں نکرہ کا استعمال ہوا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں تمام مخلوق کے نفوس شامل ہیں یعنی کوئی نہیں جانتا ﴿مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’کہ ان کے لیے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔‘‘ یعنی خیر کثیر، بے شمار نعمتیں، فرحت و سرور اور لذتیں۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی زبان پر فرمایا: ’’میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی اس کا خیال آیا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، التفسیر، باب قولہ:﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ…﴾(السجدۃ:32؍17) حدیث:4779 و صحیح مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمہا وأہلہا، باب صفۃ الجنۃ، حدیث:2824) جس طرح وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر نماز پڑھتے رہے، اللہ تعالیٰ کو پکارتے رہے، انھوں نے اپنے عمل کو چھپایا پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے عمل ہی کی جنس سے جزا عطا کی ہے اس لیے ان کے اجر کو چھپا دیا، اسی لیے فرمایا:﴿جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ اعمال کی جزا ہے جو وہ کرتے رہے ہیں۔‘‘
[18] اللہ تبارک و تعالیٰ، دو متفاوت اور متباین چیزوں کے درمیان عدم مساوات کے بارے میں عقل انسانی کو متنبہ کرتا ہے، جن کے درمیان عدم مساوات متحقق ہے۔ نیز آگاہ کرتا ہے کہ ان کے درمیان عدم مساوات اس کی حکمت کا تقاضا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اَفَمَنۡ كَانَ مُؤۡمِنًا ﴾ ’’کیا وہ جو مؤمن ہو‘‘ یعنی جس کا قلب نور ایمان سے منور اور اس کے جوارح شریعت کے تابع ہیں، نیز اس کا ایمان اپنے آثار اور ان امور کو ترک کرنے کے موجب کا تقاضا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہیں جن کا وجود ایمان کے لیے ضرر رساں ہے۔ ﴿كَمَنۡ كَانَ فَاسِقًا ﴾ ’’اس کی مثل ہے جو فاسق ہے‘‘ جس کا قلب غیر آباد اور ایمان سے خالی ہے اس کے اندر کوئی دینی داعیہ موجود نہیں۔ اس لیے اس کے جوارح جلدی سے ظلم اور جہالت کے موجبات کی وجہ سے ہر قسم کے گناہ اور معصیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے فسق کے سبب سے اپنے رب کی اطاعت سے نکل جاتا ہے۔ کیا یہ دونوں شخص برابر ہو سکتے ہیں؟ ﴿لَا يَسۡتَوٗنَ ﴾ عقلاً اور شرعاً کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ جس طرح دن اور رات، روشنی اور تاریکی برابر نہیں ہوتے اسی طرح قیامت کے روز مومن اور فاسق کا ثواب بھی برابر نہیں ہو گا۔
[19]﴿اَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ یعنی جو فرائض اور نوافل ادا کرتے ہیں ﴿فَلَهُمۡ جَنّٰتُ الۡمَاۡوٰى ﴾ ’’تو ان کے رہنے کے لیے باغ ہیں۔‘‘ یعنی وہ جنتیں جو لذتوں کا ٹھکانا، خوبصورت چیزوں کا گھر، مسرتوں کا مقام، نفوس اور قلب و روح کے لیے نعمت، ہمیشہ رہنے کی جگہ، بادشاہ معبود کے جوار رحمت، اس کے قرب سے متمتع ہونے، اس کے چہرے کا دیدار کرنے اور اس کا خطاب سننے کا مقام ہیں ﴿نُزُلًۢا﴾ یہ سب نعمتیں ان کی ضیافت اور مہمانی کے لیے ہوں گی ﴿بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’ان اعمال کی وجہ سے ہے جو وہ کرتے رہے۔‘‘ پس وہ اعمال جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز کیا، انھی اعمال نے ان کو ان عالی شان منزلوں تک پہنچایا ہے، جہاں مال و دولت، لشکر، خدام اور اولاد کے ذریعے سے تو کیا جان وروح کو کھپا کر بھی نہیں پہنچا جا سکتا اور نہ ایمان اور عمل صالح کے بغیر کسی دوسری چیز کے ذریعے سے ان منزلوں کے قریب ہی پہنچا جاسکتا ہے۔
[20]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ فَسَقُوۡا فَمَاۡوٰىهُمُ النَّارُ ﴾ ’’اور رہے وہ لوگ جنھوں نے نافرمانی کی تو ان کے رہنے کے لیے دوزخ ہے۔‘‘ یعنی ان کا دائمی مستقر اور ٹھکانا جہنم ہو گا جہاں ہر نوع کا عذاب اور ہر قسم کی بدبختی جمع ہو گی اور وہ ان سے ایک گھڑی کے لیے بھی علیحدہ نہ ہو گا۔ ﴿كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَاۤ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا﴾ عذاب کی انتہائی شدت کی وجہ سے جب کبھی وہ نکلنے کا ارادہ کریں گے، انھیں دوبارہ جہنم میں دھکیل دیا جائے گا، ان سے آرام اور چین رخصت ہو جائے گا اور غم اور رنج و ملال ان پر شدت اختیار کرجائے گا۔ ﴿وَقِيۡلَ لَهُمۡ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ ’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو۔‘‘ یہ جہنم کا عذاب ہے جہاں ان کا ٹھکانا ہوگا، رہا وہ عذاب جو اس سے پہلے اور اس کا مقدمہ تھا، یعنی عذاب برزخ تو اس کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے: