اور جب ذکرکیا جاتا ہے اللہ اکیلے کا تو (توحید الٰہی سے) نفرت کرتے (تنگ پڑ جاتے) ہیں دل ان کے جو نہیں ایمان رکھتے آخرت پراور جب ذکر کیاجاتا ہے ان (معبودوں) کا جو اس کے سوا ہیں تو اس وقت وہ بڑے خوش ہوتے ہیں(45) کہہ دیجیے: اے اللہ! پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے، جاننے والے چھپے اور ظاہر کے! تو ہی فیصلہ کرے گا درمیان اپنے بندوں کے ا ن باتوں میں کہ تھے وہ ان میں اختلاف کرتے (46)
[45، 46] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے حال اور ان کے شرک کے تقاضے کا ذکر کرتا ہے۔ ﴿وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحۡدَهُ ﴾ ’’جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے‘‘ یعنی جب اس کی توحید کا ذکر کیا جاتا ہے، دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرکے عمل کرنے اور اس کے سوا دیگر معبودوں کو چھوڑنے کے لیے کہا جاتا ہے جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، تو وہ منقبض ہو جاتے ہیں، نفرت کرتے ہیں اور شدید ناگواری کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ﴾ اور جب اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور خود ساختہ معبودوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور دعوت دینے والا ان کی عبادت اور ان کی مدح کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾ تو وہ اپنے معبودوں کا ذکر سن کر فرحت اور خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔ کیونکہ شرک ان کی خواہشات نفس کے موافق ہے ، ان کی یہ حالت بدترین حالت ہے، مگر ان سے روز جزا تک کے لیے مہلت کا وعدہ کیا گیا ہے، اس لیے اس دن ان سے حق وصول کیا جائے گا اور اس دن دیکھا جائے گا کہ آیا ان کے معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکتے ہیں جن کی یہ لوگ عبادت کیا کرتے ہیں؟ اسی لیے فرمایا:﴿قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی کہہ دیجیے: اے اللہ! زمین و آسمان کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے والے ﴿عٰؔلِمَ الۡغَيۡبِ ﴾ اور ان تمام امور کو جاننے والے جو ہماری آنکھوں اور ہمارے علم سے غائب ہیں ﴿وَالشَّهَادَةِ ﴾ اور جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ ﴿اَنۡتَ تَحۡكُمُ بَيۡنَ عِبَادِكَ فِيۡ مَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’تو ہی اپنے بندوں میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں، فیصلہ کرے گا۔‘‘ اور سب سے بڑا اختلاف جو موحد و مخلص بندوں، جو کہتے ہیں کہ ان کا موقف حق ہے اور آخرت میں صرف انھی کے لیے بھلائی ہے، اور مشرکین کے درمیان ہے جنھوں نے تجھے چھوڑ کر بتوں اور دوسری ہستیوں کو اپنا معبود بنا لیا اور ان ہستیوں کو تیرے برابر ٹھہرایا جو کسی طرح بھی برابر نہیں ہیں وہ تجھے انتہائی حد تک ناقص قرار دیتے ہیں، جب ان کے خود ساختہ معبودوں کا ذکر ہوتا ہے تو خوشی سے کھل اٹھتے ہیں اور جب تیرا ذکر ہوتا ہے تو وہ نہایت کراہت سے منقبض ہو جاتے ہیں بایں ہمہ ان کو زعم ہے کہ وہ حق پر ہیں اور دوسرے باطل پر ہیں اور وہ آخرت میں بھلائی سے بہرہ مند ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالصّٰؔبِــِٕيۡنَ وَالنَّصٰرٰى وَالۡمَجُوۡسَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡۤا١ۖ ۗ اِنَّ اللّٰهَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾(الحج: 22؍17) ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے، جو یہودی، عیسائی، صابی اور مجوسی ہیں اور وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ بے شک اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس کے بعد آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فیصلے سے آگاہ فرمایا:﴿هٰؔذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِيۡ رَبِّهِمۡ١ٞ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٌ مِّنۡ نَّارٍ١ؕ يُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُؔءُوۡسِهِمُ الۡحَمِيۡمُۚ۰۰ يُصۡهَرُ بِهٖ مَا فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ وَالۡجُلُوۡدُؕ۰۰ وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ۰۰كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا مِنۡ غَمٍّ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا١ۗ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِؒ۰۰ اِنَّ اللّٰهَ يُدۡخِلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ وَّلُؤۡلُؤًا١ؕ وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾(الحج: 22؍19-23) ’’یہ جھگڑے کے دو فریق ہیں جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔ پس ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان کو آگ کے کپڑے پہنائے جائیں گے اور ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔ جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر تک کے حصے گل جائیں گے اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے، جب بھی وہ غم کے مارے جہنم سے نکلنا چاہیں گے تو اسی میں لوٹادیے جائیں گے (اور انھیں کہا جائے گا:) اب جلا دینے والے عذاب کا مزا چکھو، بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ انھیں اس میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کے لباس ریشم کے ہوں گے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يَلۡبِسُوۡۤا اِيۡمَانَهُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الۡاَمۡنُ وَهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍82) ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہ کیا، وہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے (مکمل) امن ہے اور وہی راہ راست پر ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿اِنَّهٗ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ ﴾(المائدۃ: 5؍72) ’’جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو بلاشبہ اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عموم تخلیق، عموم علم اور بندوں کے درمیان عموم حکم کا بیان ہے، تمام مخلوقات اس کی قدرت سے پیدا ہوئی ہے اس کا علم ہر شے کو محیط ہے اور دلالت کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور انھیں دوبارہ زندہ کرے گا، بندوں کے اچھے برے اعمال اور ان کی جزاوسزا اور اس کی تخلیق اس کے علم پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ ﴾(الملک:67؍14)’’ کیا وہ نہیں جانتا جس نے (انھیں) پیدا کیا؟‘‘