Tafsir As-Saadi
39:53 - 39:59

کہہ دیجیے: اے میرے بندو! وہ جنھوں نے ظلم کیا ہے اپنی جانوں پر، نہ مایوس ہو تم اللہ کی رحمت سے، بلاشبہ اللہ معاف کر دیتا ہے گناہ سب، یقیناً وہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(53)اور رجوع کرو تم اپنے رب کی طرف اورمطیع ہو جاؤ اس کے پہلے اس کےکہ آ جائے تمھارے پاس عذاب ، پھر نہ تم مدد کیے جاؤ (54) اورپیروی کرو تم اس بہترین بات کی جو نازل کی گئی تمھاری طرف تمھارے رب کی طرف سے پہلے اس کےکہ آجائے تمھارے پاس عذاب اچانک اس حال میں کہ تم نہ شعور رکھتے ہو (55)(ایسا نہ ہو)کہ کہے کوئی نفس، ہائے افسوس اس پر جو کوتاہی کی میں نے اللہ کے حق میں اور بلاشبہ رہا میں ٹھٹھا کرنے والوں میں سے (56) یا کہے اگر بے شک اللہ ہدایت دیتا مجھے تو ضرور ہو جاتا میں پرہیز گاروں میں سے (57) یا کہے جس وقت دیکھے گا عذاب، اگر بے شک (ہو) میرے لیے دوبارہ لوٹنا تو ہو جاؤ ں گا میں نیکوکاروں میں سے (58)کیوں نہیں، تحقیق آئیں تیرے پاس میری آیتیں تو جھٹلایا تو نے ان کو اور تکبر کیا تو نے اور تھا تو کافروں میں سے(59)

[53] اللہ تعالیٰ اپنے حد سے بڑھ جانے والے، یعنی بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے، بندوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اس کا فضل و کرم بہت وسیع ہے نیز انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس سے قبل کہ رجوع کرنا ان کے لیے ممکن نہ رہے ، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اور جو کوئی دعوت دین میں آپ کا قائم مقام ہو! اپنے رب کی طرف سے بندوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے‘‘ یعنی جنھوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اور علام الغیوب کی ناراضی کے امور میں کوشاں ہو کر اپنے آپ پر زیادتی کی ﴿لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ کہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالو اور کہنے لگو کہ ہمارے گناہ بہت زیادہ اور ہمارے عیوب بہت بڑھ گئے اب ایسا کوئی طریقہ نہیں جس سے وہ گناہ زائل ہو جائیں ، پھر اس بنا پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مصر رہو اور اس طرح رحمٰنکی ناراضی مول لیتے رہو۔اپنے رب کو اس کے ان اسماء سے پہچانو جو اس کے جودوکرم پر دلالت کرتے ہیں اور جان رکھو کہ بے شک اللہ تعالیٰ ﴿يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا ﴾ ’’سارے ہی گناہ معاف کردیتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ شرک، قتل، زنا ، سودخوری اور ظلم وغیرہ تمام چھوٹے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے‘‘ یعنی مغفرت اور رحمت دونوں اللہ تعالیٰ کے لازم اور ذاتی اوصاف ہیں جو اس کی ذات سے کبھی جدا نہیں ہوتے اور نہ ان کے آثار ہی زائل ہوتے ہیں جو تمام کائنات میں جاری و ساری اور تمام موجودات پر سایہ کناں ہیں۔ دن رات اس کے ہاتھوں کی سخاوت جاری ہے، کھلے اور چھپے وہ اپنے بندوں کو اپنی لگاتار نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے۔ عطا کرنا اسے محروم کرنے سے زیادہ پسند ہے اور اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب اور اس پر سبقت لے گئی ہے۔
[54] اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے حصول کے کچھ اسباب ہیں، بندہ اگر ان اسباب کو اختیار نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ پر عظیم ترین اور جلیل ترین رحمت و مغفرت کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔ بلکہ خالص توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، دعا، اس کے سامنے عاجزی و انکسار اور اظہار تعبد کے سوا کوئی سبب نہیں۔ پس اس جلیل القدر سبب اور اس عظیم راستے کی طرف بڑھو۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف انابت میں جلدی کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَنِيۡبُوۡۤا اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو ﴿وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ﴾ اور اپنے اپنے جوارح کے ساتھ اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ اگر ’’انابت‘‘ کو مفرد بیان کیا گیا ہو تو اس میں اعمال جوارح بھی داخل ہیں اور اگر ’’انابت‘‘ کو دوسرے امور کے ساتھ بیان کیا گیا ہو جیسا کہ اس مقام پر کیا گیا ہے تو اس کا معنیٰ وہی ہو گا جو ہم نے بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِلٰى رَبِّكُمۡ وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ ﴾ اخلاص پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اخلاص کے بغیر ظاہری اور باطنی اعمال کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ﴿مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو۔‘‘ اور اسے روکا نہ جا سکے گا ﴿ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴾ پھر اس عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔
[55] گویا کہ پوچھا گیا کہ ’’انابت‘‘ اور ’’اسلام‘‘ کیا ہیں ،ان کی جزئیات و اعمال کیا ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿وَاتَّبِعُوۡۤا اَحۡسَنَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور پیروی کرو ان بہترین باتوں کی جو نازل کی گئیں تمھاری طرف تمھارے پروردگار کی طرف سے۔‘‘ یعنی باطنی اعمال کو بجا لاؤ جن کا تمھیں حکم دیا گیا ہے ، مثلاً: محبت الٰہی، خشیت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، اس کے بندوں کی خیرخواہی، ان کے لیے ہمیشہ بھلائی چاہنا اور ان امور سے متضاد امور سے اجتناب اور ظاہری اعمال بجالانا ، مثلاً: نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا، صدقہ دینا اور بھلائی کے مختلف کام کرنا جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور یہی بہترین کام ہیں جن کو ہمارے رب نے ہماری طرف نازل فرمایا ہے ، لہٰذا ان امور میں اپنے رب کے احکام کی تعمیل کرنے والا ’’منیب‘‘ اور ’’مسلم‘‘ ہے۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ بَغۡتَةً وَّاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اور یہ سب کچھ جلدی کرنے اور فرصت سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب ہے۔
[56] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈراتے (اوران کی خیرخواہی کرتے) ہوئے فرمایا: ﴿اَنۡ ﴾ کہ وہ اپنی غفلت پر نہ جمے رہیں یہاں تک کہ وہ دن آجائے جس دن انھیں نادم ہونا پڑے اور اس دن ندامت کسی کام نہیں آئے گی۔ اور ﴿تَقُوۡلَ نَفۡسٌ يّٰحَسۡرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطۡتُّ فِيۡ جَنۢۡبِ اللّٰهِ ﴾ ’’کوئی نفس کہے: اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے اللہ کے حق میں کی۔‘‘ ﴿وَاِنۡ كُنۡتُ ﴾ ’’بے شک میں تو تھا‘‘ دنیا میں ﴿لَمِنَ السّٰخِرِيۡنَ﴾ ’’مذاق اڑانے والوں میں سے‘‘ یعنی میں دنیا میں جزاوسزا کا تمسخر اڑایا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے اسے عیاں (آنکھوں سے) دیکھ لیا۔
[57]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ لَوۡ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰؔىنِيۡ لَكُنۡتُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’یا یوں کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔‘‘ اس مقام پر (لَوْ) تمنا کے معنی میں ہے۔ یعنی کاش اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت عطا کی ہوتی تو میں بھی پرہیز گار بن جاتا اور عذاب سے بچ جاتا اور ثواب کا مستحق بن جاتا۔ یہاں (لو) شرطیہ نہیں ہے اگر یہاں (لو) شرطیہ ہو تا تو ان کو اپنی گمراہی کے لیے قضاوقدر کی حجت ہاتھ آجاتی ہے اور یہ باطل حجت ہے اور قیامت کے روز ہر باطل حجت مضمحل ہو جائے گی۔
[58]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ حِيۡنَ تَرَى الۡعَذَابَ ﴾ ’’یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے۔‘‘ جب اسے عذاب کے وارد ہونے کا یقین ہو جائے گا تو وہ کہے گا ﴿لَوۡ اَنَّ لِيۡ كَرَّةً ﴾ یعنی اگر ایک بار اور مجھے دنیا میں واپس بھیجا جائے تو میں ہوجاؤں گا ﴿مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ نیک عمل کرنے والوں میں سے۔
[59] اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا کہ اس کا دنیا میں دوبارہ بھیجا جانا ممکن ہے نہ مفید، یہ تو محض باطل آرزو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ انسان کو دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا۔ اگر اسے دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو پہلے بیان اور احکام کے بعد اب کوئی نیا بیان اور حکم نہیں آئے گا۔ ﴿بَلٰى قَدۡ جَآءَتۡكَ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی تھیں۔‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں، ایسی دلالت کہ اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا تھا۔ ﴿فَكَذَّبۡتَ بِهَا وَاسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ ’’تونے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا۔‘‘ اور تکبر کی بنا پر تو نے ان کی اتباع نہیں کی ﴿وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو کافر بن گیا۔‘‘ اس لیے دنیا کی طرف لوٹائے جانے کا مطالبہ عبث ہے۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28) ’’اگر انھیں پھر دنیا کی زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا تھا اور بے شک وہ جھوٹے ہیں۔‘‘