Tafsir As-Saadi
4:13 - 4:14

یہ حدیں ہیں اللہ کی اور جو اطاعت کرے گا اللہ اور اس کے رسول کی تو داخل کرے گا وہ اس کو ایسے باغوں میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ ہے کامیابی بہت بڑی(13) اور جونافرمانی کرے گا اللہ اور اس کے رسول کی اور تجاوز کرے گا اس کی حدوں سے تو داخل کرے گا وہ اس کو آگ میں، ہمیشہ رہے گا وہ اس میں اور اس کے لیے عذاب ہے رسوا کن(14)

[13] یہ تفاصیل جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے میراث کے ضمن میں کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں جن پر رکنا، ان سے تجاوز نہ کرنا اور ان میں کوتاہی سے بچنا فرض ہے اور اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ وارث کے لیے وصیت منسوخ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام ورثاء کے حصے مقرر کر دیے ہیں اور اس کے بعد فرمایا:﴿تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ اللہ کی حدیں ہیں‘‘ بنابریں وارث کے لیے اس کے حق سے زیادہ وصیت کرنا اس تعدی میں داخل ہے۔ نیز رسول اللہﷺنے فرمایا ہے: ’لَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ‘ (جامع الترمذی، الوصایا، باب ماجاء لا وصیۃ لوارث، حديث:2120، 2121)’’کسی وارث کے حق میں وصیت کرنا جائز نہیں۔‘‘پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے عمومی طور پر اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا اور نافرمانی سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ تاکہ اس عمومی اطاعت کے حکم میں فرائض (وراثت) کی حدود کا التزام اور اس سے تجاوز نہ کرنا بھی شامل ہو جائے۔ فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کو بجا لاکر، جس میں سب سے بڑی چیز توحید میں ان کی اطاعت کرنا ہے، پھر اوامر میں ان کے درجات کے مطابق اطاعت کرنا اور ان کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کرنا ہے، جن میں سب سے بڑا ممنوع اللہ کے ساتھ شرک ہے، پھر دوسری معاصی ہیں، ان کی درجہ بندی کے ساتھ۔ ﴿ يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’اسے اللہ باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتا ہے اور منہیات سے بچتا ہے وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا اور اسے جہنم سے نجات ملے گی۔ ﴿وَذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’یہی وہ بڑی کامیابی ہے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات کے حصول کی ضمانت ہے اور اسی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کے ثواب اور اس کی دائمی نعمتوں سے بہرہ ور ہوا جا سکتا ہے جن کا کوئی وصف بیان نہیں کر سکتا۔
[14]﴿ وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا‘‘ اور نافرمانی میں کفر اور اس سے کم تر گناہ سب شامل ہیں۔ یہاں خوارج کے لیے کوئی شبہ کی گنجائش نہیں جو گناہ گاروں کے کفر کے قائل ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت اور اپنے رسول کی اطاعت پر دخول جنت کو مترتب کیا ہے اور اپنی نافرمانی اور اپنے رسول کی نافرمانی پر دخول جہنم کو مترتب کیا ہے۔ پس جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی کامل اطاعت کرتا ہے وہ بلاعذاب جنت میں داخل ہو گا، اسی طرح جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مکمل نافرمانی کرتا ہے، جس میں شرک اور دیگر گناہ بھی شامل ہیں وہ جہنم میں داخل ہو گا اور ہمیشہ وہاں رہے گا اور جس میں اطاعت اور نافرمانی دونوں مجتمع ہیں تو گویا اس میں اس کی اطاعت اور نافرمانی کی مقدار کے مطابق ثواب اور عذاب کی موجبات موجود ہیں اور نصوص متواترہ دلالت کرتی ہیں کہ موحدین جن کے ساتھ اطاعت توحید ہے، جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ پس جن کے ساتھ توحید ہے، وہ توحید ان کے جہنم میں ہمیشہ رہنے سے مانع ہے (یعنی ایسے لوگ اپنی نافرمانیوں کی سزا بھگت کر بالآخر جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دیے جائیں گے)