کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دیے گئے کچھ حصہ کتاب سے؟ ایمان لاتے ہیں وہ ساتھ بتوں اور شیطان کے اور کہتے ہیں واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، یہ لوگ زیادہ ہدایت والے ہیں، ان لوگوں سے جو ایمان لائے، راستے کے لحاظ سے(51) یہ لوگ وہ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نےاور جس پر لعنت کرے اللہ تو ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی مددگار(52) کیا ان کے لیے کچھ حصہ ہے بادشاہی سے؟ تب تو نہیں دیں گے وہ لوگوں کو تل برابر (بھی)(53) کیا حسد کرتے ہیں وہ لوگوں سے اوپر اس کے جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے؟ پس تحقیق دی ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت اور دی ہم نے ان کو بادشاہی بہت بڑی(54) پس بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو رکے رہے اس سےاور کافی ہے جہنم دہکتی ہوئی(55) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ ہماری آیتوں کے عنقریب داخل کریں گے ہم ان کو آگ میں۔ جب جل جائیں گی کھالیں ان کی تو بدل دیں گے ہم ان کو کھا لیں علاوہ ان کے تاکہ چکھیں وہ عذاب، یقیناً اللہ ہے بہت زبردست بڑا حکمت والا(56) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھو ں نے نیک، عنقریب داخل کریں گے ہم ان کو ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، ان کے لیے ان میں بیویاں ہیں پاک صاف اور داخل کریں گے ہم ان کو چھاؤں میں (جو) بہت گھنی ہوگی(57)
[51] یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہﷺاور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انھیں اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں۔‘‘ یعنی کفار کی خوشامد اور مداہنت کی خاطر اور ایمان سے بغض کی وجہ سے کہتے تھے ﴿ هٰۤؤُلَآءِ اَهۡدٰؔى مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِيۡلًا﴾ ’’طریقے کے اعتبار سے یہ کفار اہل ایمان سے زیادہ راہ ہدایت پر ہیں۔‘‘ وہ کتنے قبیح ہیں، ان کا عناد کتنا شدید، اور ان کی عقل کتنی کم ہے؟ وہ مذمت کی وادی میں، ہلاکت کے راستے پر کیسے گامزن ہیں؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات کسی عقلمند کو قائل کر لے گی یا کسی جاہل کی عقل میں آجائے گی؟کیا اس دین کو جو بتوں اور پتھروں کی عبادت کی بنیاد پر قائم ہے، جو طیبات کو حرام ٹھہرانے، خبائث کو حلال ٹھہرانے، بہت سی محرمات کو جائز قرار دینے، اللہ تعالی کی مخلوق پر ظلم کے ضابطوں کو قائم کرنے، خالق کو مخلوق کے برابر قرار دینے، اللہ، اس کے رسول اور اس کی کتابوں کے ساتھ کفر کرنے کو درست گردانتا ہے ۔۔۔ اس دین پر فضیلت دی جا سکتی ہے جو اللہ رحمن کی عبادت، کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، بتوں اور جھوٹے خداؤں کے انکار، صلہ رحمی، تمام مخلوق حتیٰ کہ جانوروں کے ساتھ حسن سلوک، لوگوں کے درمیان عدل کا قیام، ہر خبیث چیز اور ظلم کی تحریم اور تمام اقوال و اعمال میں صدق پر مبنی ہے؟.... کیا یہ تفضیل محض ہذیان نہیں؟ایسا کہنے والا شخص یا تو سب سے زیادہ جاہل یا سب سے کم عقل یا حق کے ساتھ سب سے زیادہ عناد رکھنے والا اور تکبر کا اظہار کرنے والا ہے۔ یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔
[52] اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے دور کر دیا اور انھیں اپنی سزا کا مستحق ٹھہرایا ﴿ وَمَنۡ يَّلۡعَنِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ نَصِيۡرًا﴾ ’’اور جس پر اللہ لعنت کردے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہیں پاؤگے۔‘‘ جسے اللہ تعالی دھتکار دے تو اس کے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا جو اس کی سرپرستی کرے، اس کے مصالح کی نگرانی کرے اور ناپسندیدہ امور میں اس کی حفاظت کرے۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے کسی کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کی انتہا ہے۔
[53]﴿ اَمۡ لَهُمۡ نَصِيۡبٌ مِّنَ الۡمُلۡكِ ﴾ ’’کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے۔‘‘ کہ وہ محض اپنی خواہشات نفس کی بنا پر جس کو چاہیں اور جس پر چاہیں فضیلت دیں اور تدبیر مملکت میں اللہ تعالی کے شریک بن جائیں؟ اگر وہ ایسے ہوتے تو وہ بہت زیادہ بخل سے کام لیتے۔ اسی لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاِذًا ﴾ یعنی اگر اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہوتا، تب ﴿ لَّا يُؤۡتُوۡنَ النَّاسَ نَقِيۡرًا﴾ ’’وہ لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیتے۔‘‘ یعنی وہ لوگوں کو تھوڑی سی چیز بھی نہ دیتے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ (کائنات کی) بادشاہی اور اقتدار میں ان کا حصہ ہے انتہائی شدید بخل ان کا وصف بیان کیا ہے۔یہ ہر ایک کے نزدیک تسلیم شدہ اور متحقق استفہام انکاری ہے۔
[54]﴿ اَمۡ يَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے‘‘ یعنی یہ کہنے پر ان کو بزعم خود ان کے اللہ تعالی کے شریک ہونے نے آمادہ کیا ہے کہ جس کو چاہیں فضیلت دیں یارسول اللہﷺاور اہل ایمان کے ساتھ حسد اس کا باعث تھا کہ اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺاور اہل ایمان کو اپنے فضل سے نوازا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل کے لیے یہ کوئی انوکھی اور نئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ ﴿ فَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’پس ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بڑی سلطنت عطا فرمائی ہے‘‘ یہ ان نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جن سے اللہ تعالی نے حضرت ابراہیمuاور انکی اولاد کو نوازا۔ یعنی نبوت، کتاب اور حکومت جو اس نے اپنے بعض انبیاء کو عطا کی جیسے داؤد اور سلیمانu۔اللہ تعالی کے مومن بندوں پر یہ نعمتیں ہمیشہ سے چلی آ رہی ہیں۔ پس وہ محمدﷺکی نبوت، آپ کے لیے اللہ تعالی کی فتح و نصرت اور آپ کے اقتدار کا کیسے انکار کر سکتے ہیں۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے افضل، سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے زیادہ اللہ تعالی کی معرفت رکھنے والے اور سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والے ہیں۔
[55]﴿ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ بِهٖ ﴾ ’’پھر ان میں سے بعض اس پر ایمان لائے۔‘‘ یعنی ان میں سے بعض لوگ محمدﷺپر ایمان لائے۔ اس لیے وہ دنیاوی خوش بختی اور اخروی فلاح سے بہرہ ور ہوئے ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ صَدَّ عَنۡهُ ﴾ اور ان میں سے بعض نے محض عناد، بغاوت اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کے لیے اس سے اعراض کیا اس لیے وہ دنیا میں بدبختی اور مصائب کا شکار ہو گئے۔ جو ان کے گناہوں کے اثرات ہیں۔ ﴿ وَكَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِيۡرًا﴾ ’’اور (ان کے لیے) دہکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے‘‘ یہ آگ یہود و نصاریٰ اور دیگر اقسام کے کفار پر بھڑکائی جائے گی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے انبیاء علیہ السلام کا انکار کیا۔
[56] بنابریں اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيۡهِمۡ نَارًا ﴾ ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا انھیں ہم یقینا آگ میں ڈال دیں گے‘‘ یعنی ہم ان کو ایسی آگ میں جھونکیں گے جو ایندھن کے لحاظ سے بہت بڑی اور حرارت کے لحاظ سے بہت شدید ہو گی ﴿ كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ ﴾ ’’جب ان کی جلد جل جائے گی۔‘‘ ﴿ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ﴾ ’’ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں‘‘ تاکہ عذاب ان کے جسم کے ہر مقام تک پہنچ جائے۔چونکہ وہ کفر اور عناد کا بار بار مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ کفر اور عناد ان کا وصف اور عادت بن گیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالی ان کو بار بار عذاب کا مزا چکھائے گا تاکہ ان کو پورا پورا بدلہ مل جائے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’یقینا اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالی عظیم غلبے کا مالک ہے، اس کی تخلیق، اس کے امر اور اس کے ثواب و عقاب میں اس کی حکمت جاری و ساری ہے۔
[57]﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالی پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانا واجب ہے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کرتے رہے۔‘‘ یعنی وہ واجبات اور مستحبات پر عمل کرتے ہیں ﴿ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمۡ فِيۡهَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ﴾ ’’ہم عنقریب انھیں ان جنتوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کے لیے وہاں صاف ستھری بیویاں ہوں گی‘‘ یعنی یہ بیویاں ان رذیل عادات اور گندے اخلاق اور ہر میل اور عیب سے پاک ہوں گی جن میں دنیا کی عورتیں ملوث ہوتی ہیں ﴿ وَّنُدۡخِلُهُمۡ ظِلًّا ظَلِيۡلًا ﴾ ’’اور ہم انھیں گھنے سائے میں داخل کریں گے۔‘‘ یعنی ہم انھیں ہمیشہ رہنے والے سائے میں داخل کریں گے ۔