تحقیق ہم نے نازل کی طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے تاکہ فیصلہ کریں درمیان لوگوں کے، ساتھ اس کے جو سکھلایا آپ کو اللہ نےاور نہ ہوں آپ، خیانت کرنے والوں کی خاطر، جھگڑنے والے(105) اور بخشش مانگیں اللہ سے، بے شک ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(106) اور نہ جھگڑا کریں آپ ان لوگوں کی طرف سے جو خیانت کرتے ہیں اپنے آپ سے، تحقیق اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہو خائن گناہ گار(107) چھپتے ہیں وہ لوگوں سے اور نہیں چھپ سکتے وہ اللہ سےاور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں ایسی چیز کا کہ نہیں راضی ہوتا وہ اس بات سےاور ہے اللہ اس کو جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا(108) ہاں! تم وہی لوگ ہو کہ جھگڑا کیا تم نے ان کی طرف سے زندگانیٔ دنیا میں، پس کون جھگڑا کرے گا اللہ سے ان کی طرف سے دن قیامت کے یا کون ہوگا ان کی طرف سے وکیل؟(109) اور جو کوئی عمل کرے برا یا ظلم کرے اپنی جان پر ، پھر وہ بخشش مانگے اللہ سے تو پائے گا اللہ کو بہت بخشنے والا نہایت مہربان(110) اور جو شخص کماتا ہے کوئی گناہ تو بلاشبہ کماتا ہے وہ اس کو اپنے ہی خلاف اور ہے اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا(111) اور جو شخص کرتا ہے کوئی خطا یا کوئی گناہ، پھر الزام لگاتا ہے اس کا (کسی) بے گناہ پر تو تحقیق اپنے ذمے لیا اس نے بہتان اور گناہ ظاہر(112)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا آپ پر اور اس کی رحمت تو یقیناً ارادہ کر لیا تھا ایک گروہ نے ان میں سے یہ کہ بہکاوے وہ آپ کو اور نہیں بہکاتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں نقصان پہنچا سکتے وہ آپ کو کچھ بھی اور نازل کی اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت اور سکھایا آپ کو وہ کچھ کہ نہیں تھے آپ جانتے اور ہے فضل اللہ کا آپ پر بہت بڑا(113)
[105] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا۔ بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی ہیں ﴿وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا ﴾(الانعام : 6؍115) ’’تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔‘‘اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لیے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾(النحل : 16؍44) ’’ہم نے آپ(ﷺ)کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کر دیں۔‘‘ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبیین کے بار ے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔فرمایا:﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰى ؕ۰۰ اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡيٌ يُّوۡحٰؔى﴾(النجم : 53؍3۔4) ’’ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہﷺان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپﷺنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے۔ نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ اور یہ نہیں فرمایا: (بِمَا رَایْتَ) ’’جو آپ نے دیکھا یا جو آپ کی اپنی رائے ہے‘‘ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو کتاب اللہ کی معرفت پر مترتب فرمایا ہے۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے مابین ایسے فیصلے کا حکم دیا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اس لیے ظلم وجور سے منع کیا ہے جو عدل و انصاف کی عین ضد ہے۔ پس فرمایا ﴿ وَلَا تَكُنۡ لِّلۡخَآىِٕنِيۡنَ خَصِيۡمًا﴾ ’’اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو‘‘ یعنی جس کی خیانت کے بارے میں آپﷺکو علم ہے کہ اس کا دعویٰ ناحق ہے یا وہ کسی کے حق کا انکار کر رہا ہے، اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کریں۔ خواہ وہ علم رکھتے ہوئے اس خیانت کا ارتکاب کر رہا ہو یا محض ظن و گمان کی بنا پر۔آیت کریمہ کے اس حصے میں کسی باطل معاملے میں جھگڑنے اور دینی خصومات اور دنیاوی حقوق میں کسی باطل پسند کی نیابت کی تحریم کی دلیل ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ کسی ایسے شخص کے جھگڑے کی نیابت کرنا جائز ہے جو کسی ظلم میں معروف نہ ہو۔
[106]﴿ وَّاسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔‘‘ اگر آپ سے کوئی کوتاہی صادر ہوئی ہے تو اس کی بخشش طلب کیجیے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے اور توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے بعد اس کو عمل صالح کی توفیق سے نوازتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عقاب کے زوال کا موجب بنتا ہے۔
[107] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَلَا تُجَادِلۡ عَنِ الَّذِيۡنَ يَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’اور آپ ان لوگوں کی طرف سے مت جھگڑیں جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں‘‘ (الاخْتِیَانُ) اور (اَلْخِیَانَۃُ) جرم، ظلم اور گناہ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس میں اس شخص کی طرف سے جھگڑنا بھی شامل ہے جو کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہے جس میں کوئی حد یا تعزیر لازم آتی ہو۔ اس شخص سے جو خیانت وغیرہ صادر ہوئی ہے اس کی مدافعت میں یا اس کو شرعی عقوبت سے بچانے کے لیے اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کیا جائے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ خَوَّانًا اَثِيۡمًا﴾ ’’کیونکہ اللہ خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو نہایت کثرت سے خیانت اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ جب محبت کی نفی ہو جائے تو اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے اور محبت کی ضد بغض ہے۔ آیت کریمہ کی ابتدا میں مذکور ممانعت کے لیے یہ چیز تعلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔
[108] پھر ان خائن لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا: ﴿ يَّسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ وَهُوَ مَعَهُمۡ اِذۡ يُبَيِّتُوۡنَ مَا لَا يَرۡضٰى مِنَ الۡقَوۡلِ ﴾ ’’وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں (لیکن) اللہ سے نہیں چھپ سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ راتوں کے وقت وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں‘‘ یہ ایمان کی کمزوری اور یقین کی کمی ہے کہ ان کے نزدیک مخلوق کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف سے بڑھ کر ہے۔ وہ مباح اور حرام ہر طریقے سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کی فضیحت نہ ہو ...بایں ہمہ...ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے علم کے ذریعے سے ان کے تمام احوال میں ان کے ساتھ ہے خاص طور پر جب وہ رات کے وقت مجرم کی براء ت اور بے گناہ پر جرم کے الزام کے بارے میں باتیں اور سازشیں کرتے ہیں، پھر رسول اللہﷺسے اپنی ان سازشوں پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے متعدد جرائم کا ارتکاب کیا مگر انھیں اللہ کا خوف نہ آیا جو زمین و آسمان کا رب ہے، جو ان کے بھیدوں اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطًا ﴾ ’’اور اللہ ان کے تمام کاموں پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ذریعے سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی بلکہ ان کو مہلت دی ان کو توبہ کا موقع دیا اور ان کو ان گناہوں پر اصرار کرنے پر ڈرایا جو بہت بڑی سزا کے موجب ہیں۔
[109]﴿ هٰۤاَنۡتُمۡ هٰۤؤُلَآءِ جٰؔدَلۡتُمۡ عَنۡهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١۫ فَمَنۡ يُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنۡهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَمۡ مَّنۡ يَّكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’ہاں تو یہ ہو تم لوگ کہ دنیا میں تم نے ان کی حمایت کی لیکن اللہ کے سامنے قیامت کے دن ان کی حمایت کون کرے گا اور کون ہے جو ان کا وکیل بن کر کھڑا ہو سکے گا‘‘ یعنی فرض کیا اس دنیا کی زندگی میں تم نے ان کی طرف سے جھگڑ لیا، تمھاری اس حمایت نے مخلوق کے سامنے ان کو عار اور فضیحت سے بچا لیا۔ تب قیامت کے روز کون سی چیز انھیں بچائے گی اور وہ اسے کیا فائدہ دے گی؟ اور قیامت کے روز جب حجت اس کے خلاف ہو گی، ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں پر گواہی دیں گے، کون ان کی حمایت میں بولے گا؟ ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ الۡمُبِيۡنُ ﴾(النور : 24؍25) ’’اس روز اللہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی برحق اور حق کو ظاہر کرنے والا ہے۔‘‘ پس ان کی حمایت میں اس ہستی سے کون جھگڑے گا جو مخفی رازوں کو جانتی ہے جو ان کے خلاف ایسے گواہوں کو کھڑا کرے گی جن کے ہوتے ہوئے کسی کو انکار کی مجال نہ ہو گی؟اس آیت کریمہ میں اس امر کے مقابلہ کی طرف راہنمائی فرمائی ہے جو ان موہوم دنیاوی مصالح کے مابین، جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کرنے اور اس کی منہیات کے ارتکاب پر مترتب ہوتے ہیں اور اس اخروی ثواب کے مابین ہوتا ہے جس سے انسان محروم یا وہاں کے عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔ پس جس شخص کو اس کے نفس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے وہ اپنے آپ سے پوچھے ’’تو نے سستی اور کوتاہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کر دیا تو اس کے عوض تو نے کون سا منافع کمایا؟ اور کتنا اخروی ثواب ہے جو تجھے حاصل ہونے سے رہ گیا؟ اور اللہ کے حکم کو ترک کرنے کے نتیجے میں کتنی بدبختی، محرومی، ناکامی اور خسارے کا سامنا کرنا پڑا؟‘‘ اسی طرح جب اس کا نفس شہوات محرمہ کی طرف بلائے تو وہ اس سے مخاطب ہو کر کہے ’’فرض کیا جس چیز کی تو نے خواہش کی میں نے پوری کر دی، اس کی لذت تو ختم ہو جائے گی مگر یہ لذت اپنے پیچھے اتنے غم و ہموم، حسرتیں، ثواب سے محرومیاں اور عذاب چھوڑ جائے گی کہ ان کا کچھ حصہ بھی عقلمند شخص کو ان لذتوں کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔‘‘یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جس میں تدبر بندے کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہی حقیقی عقل مندی کی خصوصیت ہے، اس شخص کے برعکس جو عقل مندی کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہ عقلمند ہوتا نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے دنیا کی لذت و راحت کو ترجیح دیتا ہے خواہ اس پر کیسے ہی نتائج مرتب کیوں نہ ہوں۔۔۔ واللہ المستعان!
[110] پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهٗ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے ایسی مغفرت طلب کرتا ہے جو گناہ کے اقرار، اس پر پشیمانی، اس گناہ سے رک جانے اور اس گناہ کو دوبارہ نہ کرنے کے عزم کو مستلزم ہے تو ایسے ہی شخص کے ساتھ اس ہستی نے مغفرت اور رحمت کا وعدہ کیا ہے جو وعدہ خلافی نہیں کرتی۔پس اس سے جو گناہ صادر ہو چکا ہوتا ہے وہ اس کو معاف کر دیتا ہے نیز اس عیب اور نقص کو اس سے زائل کر دیتا ہے جو اس گناہ پر مترتب ہوتا ہے اور اس کے سابقہ اعمال صالحہ اس کو لوٹا دیتا ہے اور مستقبل میں اسے مزید اعمال صالحہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اس کے اور اپنی توفیق کے درمیان اس کے گزشتہ گناہ کو حائل نہیں ہونے دیتا۔ کیونکہ اس نے اس گناہ کو بخش دیا ہے اور جب وہ گناہ کو بخش دیتا ہے تو وہ ہر اس چیز کو بخش دیتا ہے جو اس گناہ کے نتیجے میں مرتب ہوتی ہے۔آپ کومعلوم ہونا چاہیے کہ ’’برا عمل‘‘ علی الاطلاق تمام گناہوں کو، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں، شامل ہے اور (سوء) ’’برائی‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ برے عمل کے مرتکب کو اس پر مترتب ہونے والا عذاب برا لگتا ہے۔ نیز برا عمل فی نفسہ برا ہے، اچھا نہیں ہے۔ اسی طرح نفس کا ظلم علی الاطلاق شرک اور اس سے کم تر ظلم وغیرہ سب کو شامل ہے۔ مگر ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ مقرون کیا جائے تو ہر ایک کی اس کے مناسب حال تفسیر کی جائے گی۔یہاں برے عمل کی تفسیر ’’ظلم‘‘ کی جائے گی جو لوگوں کو برا لگتا ہے اور وہ ہے خون، مال اور عزت و ناموس میں ان کا ایک دوسرے پر ظلم۔ اور نفس کے ظلم کی تفسیر ’’ظلم اور گناہ‘‘ بیان کی جائے گی جس کا تعلق اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ہے۔ نفس کے ظلم کو ظلم اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ انسان اپنے نفس کا مالک نہیں کہ وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے۔ انسان کے نفس کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، اس نے یہ نفس اپنے بندے کو امانت کے طور پر عطا کر کے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اسے انصاف و عدل کی راہ پر گامزن کرے اور علم و عمل کے اعتبار سے اس سے صراط مستقیم کا التزام کروائے۔ جس چیز کا اسے حکم دیا گیا ہے وہ اسے سکھائے اور جو اس پر واجب ہے اس سے اس پر عمل کروائے۔ اس کے علاوہ کسی اور راستے میں اس کی سعی اور کوشش اپنے نفس پر ظلم، خیانت اس عدل کے راستے سے انحراف ہے جس کی ضد ظلم و جور ہے۔
[111] پھر فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ اِثۡمًا فَاِنَّمَا يَكۡسِبُهٗ عَلٰى نَفۡسِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص گناہ کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہے‘‘ اس میں ہر قسم کا چھوٹا بڑا گناہ شامل ہے۔ جو کوئی کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی دنیاوی اور اخروی سزا صرف اسی کے لیے ہے یہ سزا کسی اور کی طرف منتقل نہ ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام : 6؍164) ’’کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ مگر جب برائیاں غالب آ جائیں اور ان پر نکیر نہ کی جائے تو ان کا عذاب عام ہو جاتا ہے اور ان کے گناہ میں سب شامل ہو جاتے ہیں اور کوئی شخص اس آیت کے حکم سے خارج نہیں۔ کیونکہ جو کوئی برائیوں پر نکیر نہیں کرتا جبکہ ایسا کرنا واجب ہے، تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عدل و حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کسی دوسرے کے گناہ کی سزا نہیں دیتا اور نہ کسی کو اس کے جرم سے بڑھ کر سزا دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ بخوبی جاننے والا، بہت حکمت والا ہے‘‘ یعنی وہ علم کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا علم و حکمت ہے۔ کہ اسے گناہ کا علم ہے اسے یہ بھی علم ہے کہ گناہ کس سے صادر ہوا۔ اس گناہ کا داعیہ کیا تھا۔ اور اس گناہ پر کیا سزا مترتب ہوگی۔ وہ گناہ کے مرتکب کے احوال کو بھی خوب جانتا ہے کہ اگر اس سے یہ گناہ نفس امارہ کے داعیہ کے غلبہ سے صادر ہوا اور وہ اپنے اکثر اوقات میں توبہ و انابت کے ذریعے سے اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ اسے بخش دے گا اور اسے توبہ کی توفیق عطا کرے گا اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کی نظر کا استخفاف اور اس کے عذاب کی تحقیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی ہے تو یہ شخص اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور توبہ کی توفیق سے بہت دور ہے۔
[112] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ خَطِيۡٓئَةً اَوۡ اِثۡمًا ﴾ ’’جو شخص کبیرہ یا صغیرہ گناہ تو خود کرے‘‘ ﴿ ثُمَّ يَرۡمِ بِهٖ ﴾ ’’پھر اس سے کسی (بے گناہ) کو متہم کرے۔‘‘ یعنی اپنے گناہ کو کسی اور کے سر تھوپ دے ﴿ بَرِيۡؔـٓـــًٔا ﴾ ’’جو اس گناہ سے بری ہے۔‘‘ خواہ اس نے کسی اور گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو ﴿ فَقَدِ احۡتَمَلَ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا﴾’’تو اس نے بہت بڑا بہتان باندھا اور کھلا گناہ کیا‘‘ یعنی اس نے بے گناہ پر لگائے گئے بہتان کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھا لیا اور اس ظاہری گناہ کا بوجھ بھی جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بہتان ہلاک کرنے والے کبائر میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں متعدد مفاسد جمع ہیں:(۱) گناہ کبیرہ کا ارتکاب۔ (۲) پھر اس گناہ کا بہتان اس شخص پر لگا دینا جو بے گناہ ہے۔ (۳) پھر اپنے آپ کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہ گار ثابت کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔ (۴) پھر اس گناہ پر جو دنیاوی عقوبت مترتب ہوتی ہے وہ عقوبت ایک بے گناہ پر نافذ کر دینا اور اس شخص کو اس سزا سے بچا لینا جو حقیقی مجرم ہے۔ (۵) پھر بے گناہ شخص کے بارے میں لوگوں کی باتیں اور دیگر مفاسد۔ان تمام مفاسد اور ہر شر سے ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
[113] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول پر اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو ان لوگوں کے ارادوں سے محفوظ رکھا جو آپ کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔ ﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ وَرَحۡمَتُهٗ لَهَمَّؔتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّضِلُّوۡكَ ﴾’’اگر اللہ کا فضل و رحم آپ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے آپ کو بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا‘‘ ان آیات کریمہ کے بارے میں اصحاب تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ ان کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک گھرانے نے مدینہ میں چوری کا ارتکاب کیا۔ جب چوری کی اطلاع لوگوں کو ہوئی تو انھوں نے فضیحت اور رسوائی سے ڈرتے ہوئے چوری کا سامان کسی بے گناہ شخص کے گھر پھینک دیا۔ پھر چور نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے مدد طلب کی کہ وہ رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر لوگوں کے سامنے اسے بری کروائیں۔ اس کے قبیلہ والوں نے رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ان کے آدمی نے چوری نہیں کی۔ چوری تو اس شخص نے کی ہے جس کے گھر سے مسروقہ سامان برآمد ہوا ہے۔ رسول اللہﷺنے ان کے آدمی کو بری قرار دینے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے حقیقت حال بیان کرنے اور رسول اللہﷺکو خیانت کاروں کی حمایت کرنے سے بچانے کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں کیونکہ باطل پسندوں کی حمایت کرنا گمراہی ہے۔ گمراہی کی دو اقسام ہیں:(۱)علم میں گمراہی، یہ حق سے لاعلمی اور جہالت کا نام ہے۔(۲) عمل میں گمراہی، عمل واجب کے خلاف عمل کرنا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو اس نوع کی گمراہی سے اسی طرح محفوظ رکھا جس طرح اس نے آپﷺکو عمل کی گمراہی سے محفوظ و مصون رکھا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان کا مکر و فریب انھی کی طرف لوٹے گا جیسا کہ ہر فریبی کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ﴿ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں‘‘ کیونکہ اس فریب اور حیلہ سازی سے انھیں اپنا مقصد حاصل نہ ہو سکا اور انھیں سوائے ناکامی، محرومی، گناہ اور خسارے کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺپر بہت بڑی نعمت ہے جو نعمت عمل کو متضمن ہے اور یہ اس فعل کی توفیق ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور ہر قسم کے محرمات سے آپﷺکی حفاظت ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر اپنی نعمت علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل فرمائی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر قرآن عظیم اور ذکر حکیم نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان اور اولین و آخرین کا علم ہے۔حکمت سے مراد یا تو سنت ہے جس کے بارے میں سلف میں سے کسی کا قول ہے کہ سنت بھی رسول اللہﷺپر وحی کے ذریعے سے نازل ہوتی ہے جیسے قرآن نازل ہوتا ہے یا اس سے مراد اسرار شریعت کی معرفت ہے جو احکام شریعت کی معرفت سے زائد چیز ہے۔ نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور ہر شے کو اس کے مطابق ترتیب دینا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَعَلَّمَكَ مَا لَمۡ تَكُنۡ تَعۡلَمُ ﴾ ’’اور آپ کو وہ (کچھ) سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے‘‘ یہ ان تمام امور کو شامل ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو عطا فرمایا۔ ورنہ نبوت سے قبل آپﷺکے جو احوال تھے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كُنۡتَ تَدۡرِيۡ مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ ﴾(الشوری : 42؍52) ’’آپ نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟‘‘ اور فرمایا ﴿وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰؔى ﴾(الضحی : 93؍7) ’’اس نے آپ کو رستے سے ناواقف پایا تو سیدھا راستہ دکھایا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ آپﷺکی طرف وحی بھیجتا رہا، آپ کو علم سکھاتا رہا اور آپ کے علم کی تکمیل کرتا رہا یہاں تک کہ آپﷺعلم کے ایسے مقام پر فائز ہو گئے کہ اولین و آخرین وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ پس رسول اللہﷺعلی الاطلاق مخلوق میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے، صفات کمال کے سب سے زیادہ جامع اور ان صفات میں سب سے زیادہ کامل تھے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ عَظِيۡمًا ﴾ ’’اللہ کا آپ پر بڑا بھاری فضل ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کا فضل مخلوق میں سب سے زیادہ محمد رسول اللہﷺپر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کی ہر جنس سے آپﷺکو نوازا ہے جن کی تہہ تک پہنچنانا ممکن اور ان کو شمار کرنا آسان نہیں۔