Tafsir As-Saadi
4:100 - 4:100

اور جو شخص ہجرت کرے راستے میں اللہ کے، پائے گا وہ زمین میں جگہ بہت اور فراوانی اور جو شخص نکلے اپنے گھر سے ہجرت کرتے ہوئے طرف اللہ اور اس کے رسول کی، پھر آپکڑے اس کو موت پس تحقیق ثابت ہو گیا اس کا اجر اللہ پراور ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(100)

[100] اس آیت کریمہ میں ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے اور ان مصالح اور فوائد کا بیان ہے جو ہجرت میں پنہاں ہیں۔ اس سچی ہستی نے وعدہ کیا ہے کہ جو کوئی اس کی رضا کی خاطر اس کی راہ میں ہجرت کرتا ہے وہ زمین میں بہت سے راستے اور کشادگی پائے گا۔ پس یہ راستے دینی مصالح، زمین کی وسعت اور دنیاوی مصالح پر مشتمل ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہجرت، وصال کے بعد فراق، غنا کے بعد فقر، عزت کے بعد ذلت اور فراخی کے بعد تنگدستی میں پڑنے کا نام ہے۔ معاملہ دراصل یہ نہیں کیونکہ بندۂ مومن جب تک کفار کے درمیان رہ رہا ہے اس کا دین انتہائی ناقص ہے اس کی وہ عبادات بھی ناقص ہیں جن کا تعلق صرف اسی کی ذات سے ہے جیسے نماز وغیرہ۔ اور اس کی وہ عبادات بھی ناقص ہیں جن کا تعلق دوسروں سے ہے، مثلاً: قولی و فعلی جہاد اور اس کے دیگر توابع۔ کیونکہ یہ اس کے بس کی بات نہیں۔ اور وہ اپنے دین کے بارے میں ہمیشہ فتنے اور آزمائش میں مبتلا رہے گا۔ خاص طور پر جبکہ وہ مستضعفین ’’کمزوروں‘‘ میں شمار ہوتا ہو۔ پس جب وہ دارالکفر سے ہجرت کر جاتا ہے تو اقامت دین کی کوشش اور اللہ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کر سکتا ہے۔ کیونکہ (اَلْمُرَاغَمَۃ) ایک جامع نام ہے اور اس سے مراد ہر وہ قول و فعل ہے جس سے اللہ کے دشمنوں کے خلاف غیظ و غضب پیدا ہو۔ اسی طرح (مُرَاغَمٌ) سے مراد رزق وغیرہ کی فراخی ہے اور یہ چیز اسی طرح واقع ہوئی جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔چونکہ صحابہ کرامyنے اللہ کے راستے میں ہجرت کی، اللہ کی رضا کے لیے اپنا گھر بار، اپنا مال اور اپنی اولاد کو چھوڑ دیا اس لیے ہجرت کے ذریعے سے ان کے ایمان کی تکمیل ہوئی، انھیں ایمان کامل، جہاد عظیم اور اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت حاصل ہوئی۔ بنابریں وہ بعد میں آنے والوں کے لیے امام بن گئے۔ اس ایمان کی تکمیل پر انھیں فتوحات اور غنائم حاصل ہوئیں اور وہ سب سے زیادہ بے نیاز ہو گئے۔ اسی طرح، قیامت تک ہر وہ شخص جو ان کی سیرت کو اختیار کرے گا اس کو بھی انھی انعامات سے نوازا جائے گا جن انعامات سے ان کو نوازا گیا تھا۔پھر فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّخۡرُجۡ مِنۢۡ بَيۡتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرکے گھر سے نکل جائے۔‘‘ یعنی جو شخص صرف اپنے رب کی رضا اور اس کے رسولﷺکی محبت اور اللہ کے دین کی نصرت کی خاطر ہجرت کے لیے اپنے گھر سے نکلتا ہے اور اس کے سوا اس کا کوئی اور مقصد نہیں ﴿ ثُمَّ يُدۡرِكۡهُ الۡمَوۡتُ ﴾ ’’پھر اس کو موت آپکڑے۔‘‘ یعنی پھر قتل یا کسی اور سبب سے اسے موت آ جاتی ہے ﴿ فَقَدۡ وَ قَعَ اَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’تو اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہوچکا۔‘‘ یعنی اسے اس مہاجر کا اجر حاصل ہو گیا جسے اللہ تعالیٰ کی ضمانت سے اپنی منزل مقصود مل گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے عزم جازم کے ساتھ ہجرت کی نیت کی تھی اور اس پر عملدرآمد کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس پر، اور اس جیسے دوسرے لوگوں پر یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اگرچہ انھوں نے اپنے عمل کو مکمل نہیں کیا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو کامل عمل عطا کر دیا۔ اور ہجرت وغیرہ کے معاملے میں ان سے جو کوتاہی ہوئی اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو ان دو اسمائے حسنی پر ختم کیا ہے ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ان تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے جس کا وہ ارتکاب کرتے ہیں خاص طور پر، وہ اہل ایمان جو توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا﴾ یعنی وہ تمام مخلوق پر رحم کرنے والا ہے، اس کی رحمت ہی انھیں وجود میں لائی، اس کی رحمت ہی نے انھیں عافیت عطا کی اور اس کی رحمت ہی نے انھیں مال، بیٹوں اور قوت وغیرہ سے نوازا۔ وہ اہل ایمان پر رحم کرنے والا ہے، کیونکہ اسی نے اہل ایمان کو ایمان کی توفیق عطا کی، انھیں ایسے علم سے نوازا جس سے ایقان حاصل ہوتا ہے۔ ان کے لیے سعادت اور فلاح کی راہیں آسان کر دیں، جن کے ذریعے سے وہ بے انتہا فائدہ اٹھاتے ہیں وہ عنقریب اس کی رحمت اور فضل و کرم کے وہ نظارے دیکھیں گے جو کسی آنکھ نے دیکھے ہوں گے نہ کسی کان نے سنے ہوں گے اور نہ کسی بشر کے قلب سے ان کا گزر ہوا ہو گا۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہماری برائیوں کی وجہ سے اپنی بھلائیوں سے محروم نہ کرے۔