Tafsir As-Saadi
4:114 - 4:114

نہیں ہے کوئی بھلائی اکثر میں ان کی سرگوشیوں سے مگر جو شخص حکم دے صدقے کا یا نیکی کا یا صلح کرانے کا درمیان لوگوں کےاور جو شخص کرے یہ تلاش کرنے کے لیے رضامندی اللہ کی تو عنقریب ہم دیں گے اس کو اجر بہت بڑا(114)

[114] یعنی بہت سی ایسی سرگوشیاں جو لوگ آپس میں کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہیں ان میں کوئی بھلائی نہیں۔ اور جس کلام میں کوئی بھلائی نہ ہو تو وہ یا تو بے فائدہ کلام ہوتا ہے مثلاً فضول مگر مباح بات چیت۔ یا وہ محض شر ہوتا ہے مثلاً محرم کلام کی تمام اقسام۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے استثناء بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ اِلَّا مَنۡ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ ﴾ ’’ہاں وہ شخص جو صدقہ کا حکم دے۔‘‘ یعنی اس میں سے وہ شخص مستثنی ہے جو مال، علم یا کسی اور منفعت میں صدقہ کا حکم دیتا ہے۔ بلکہ شاید بعض چھوٹی عبادات بھی اس زمرے میں شمار ہوتی ہیں۔ مثلاً تسبیح و تحمید وغیرہ۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا: ’’ہر تسبیح صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، ہر تہلیل صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے اور تم میں سے کسی کا اپنی بیوی کے پاس جانا بھی صدقہ ہے۔‘‘ الحدیث۔ (صحیح مسلم، الزکاۃ، حدیث:1006 ،صحیح مسلم، الزکاۃ، باب بیان ان اسم الصدقۃ یقع علی کل نوع من المعروف، ح: 1006)﴿ اَوۡ مَعۡرُوۡفٍ ﴾’’یا نیک بات‘‘ معروف سے مراد بھلائی اور نیکی ہے اور ہر وہ کام، جسے شریعت نے نیکی قرار دیا اور عقل نے اس کی تحسین کی، معروف کے زمرے میں آتا ہے جب ’’اَمَر بِالْمَعْرُوف‘‘ کا لفظ ’’نَہْیِ عَنِ الْمُنْکَر‘‘ کے ساتھ ملائے بغیر استعمال کیا جائے تو برائی سے روکنا اس میں شامل ہوتا ہے کیونکہ منہیات کو ترک کرنا بھی نیکی ہے، نیز بھلائی اس وقت تک تکمیل نہیں پاتی جب تک کہ برائی کو ترک نہ کر دیا جائے اور جب ’’امر بالمعروف‘‘ اور ’’نہی عن المنکر‘‘ کا ایک ساتھ ذکر ہو تو، ’’معروف‘‘ سے مراد ہر وہ کام ہے جس کا شریعت میں حکم دیا گیا ہو ’’منکر‘‘ سے مراد ہر وہ کام ہے جس سے شریعت میں روکا گیا ہو۔﴿ اَوۡ اِصۡلَاحٍ ۭ بَيۡنَ النَّاسِ ﴾ ’’یا لوگوں کے مابین صلح کرانے کا حکم کرے‘‘ اور اصلاح صرف دو جھگڑنے والوں کے درمیان ہی ہوتی ہے۔ نزاع، جھگڑا، مخاصمت اور آپس میں ناراضی اس قدر شر اور تفرقہ کا باعث بنتے ہیں جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ پس اسی لیے شارع نے لوگوں کو ان کے قتل، مال، اور عزت ناموس کے جھگڑوں میں اصلاح کی ترغیب دی ہے بلکہ تمام ادیان میں اس کی ترغیب دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا ﴾(آل عمران : 3؍103) ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔‘‘ فرمایا ﴿ وَاِنۡ طَآىِٕفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا١ۚ فَاِنۢۡ بَغَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا عَلَى الۡاُخۡرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيۡ تَبۡغِيۡ حَتّٰى تَفِيۡٓءَ اِلٰۤى اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾(الحجرات : 49؍9) ’’اگر مومنوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو اگر ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَالصُّلۡحُ خَيۡرٌ ﴾(النساء: 4؍128) ’’اور صلح اچھی چیز ہے۔‘‘لوگوں کے درمیان صلح کروانے والا اس شخص سے بہتر ہے جو کثرت سے (نفلی) نماز روزے اور صدقہ کا اہتمام کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اصلاح کرنے والے کے عمل اور کوشش کی اصلاح کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے والے کے عمل اور کوشش کی اصلاح نہیں کرتا اور نہ اس کا مقصد پورا کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾(یونس : 10؍81) ’’اللہ فساد کرنے والوں کے کام کی اصلاح نہیں کرتا۔‘‘یہ تمام افعال جہاں کہیں بھی بجا لائے جائیں گے۔ بھلائی کے زمرے میں آئیں گے، جیسا کہ یہ استثناء دلالت کرتا ہے۔ مگر پورا اور کامل اجر بندے کی نیت پر منحصر ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ابۡتِغَآءَؔ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ فَسَوۡفَ نُؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’اور جو شخص اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کے ارادہ سے یہ کام کرے اسے ہم یقینا بہت بڑا ثواب دیں گے‘‘ بنابریں بندے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھے اور ہر وقت چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے تاکہ اسے اجر عظیم حاصل ہو، تاکہ اس میں اخلاص کی عادت راسخ ہو اور وہ اہل اخلاص کے زمرے میں شمار ہو اور اس کے اجر کی تکمیل ہو خواہ اس کے مقصد کی تکمیل ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو کیونکہ اس نے اس نیک مقصد کی نیت کی تھی اور امکان بھر اس پر عمل بھی کیا تھا۔