نہیں جھگڑا کرتے اللہ کی آیتوں میں مگر وہی لوگ جنھوں نے کفر کیا، پس نہ دھوکے میں ڈالے آپ کو چلنا پھرنا ان کا شہروں میں(4) جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح نے اور (دوسرے) گروہوں نے ان کے بعد، اور ارادہ کیا ہر امت نے اپنے رسول کی بابت کہ پکڑ یں وہ اس کو اور جھگڑا کیا انھوں نے جھوٹی باتوں کے ساتھ تاکہ ڈگمگا دیں اس کےذریعے سے حق کو پس پکڑ لیا میں نے ان کو، پس کیسی تھی میری سزا ؟(5) اور اسی طرح ثابت ہو گئی بات آپ کے رب کی اوپر ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا کہ بلاشبہ وہی ہیں دوزخی(6)
[4] اللہ تبارک وتعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ﴿مَا يُجَادِلُ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اللہ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں۔‘‘ یہاں مجادلہ سے مراد ہے، آیات الٰہی کو رد کرنا اور باطل کے ذریعے سے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے جھگڑا کرنا اور یہ کفار کا کام ہے، رہے اہل ایمان تو وہ حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے باطل کو نیچا دکھائیں۔انسان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنے دنیاوی احوال سے دھوکہ کھائے اور یہ سمجھنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کا دنیا میں اس کو اپنی نعمتوں سے نوازنا، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت کی دلیل ہے اور وہ حق پر ہے۔ بنابریں ارشاد فرمایا:﴿فَلَا يَغۡرُرۡكَ تَقَلُّبُهُمۡ فِي الۡبِلَادِ ﴾ ’’ان کا دنیا کے ملکوں میں چلنا پھرنا آپ کو کسی دھوکے میں نہ ڈال دے۔‘‘ یعنی مختلف انواع کی تجارت اور کاروبار کے سلسلے میں ان کا ملکوں میں آنا جانا آپﷺ کو دھوکے میں مبتلا نہ کردے۔ بلکہ بندے پر واجب یہ ہے کہ وہ لوگوں سے حق کے ساتھ عبرت حاصل کرے، حقائق شرعیہ کو دیکھے، ان کی کسوٹی پر لوگوں کو پرکھے، لوگوں کی کسوٹی پر حق کو نہ پر کھے جیسے ان لوگوں کا وتیرہ ہے جو علم وعقل سے محروم ہیں۔
[5] پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ڈرایا ہے جو آیات الٰہی کے ابطال کے لیے جھگڑتے اور بحث مباحثہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے گمراہ قومیں کیا کرتی تھیں ، مثلاً:﴿قَوۡمُ نُوۡحٍ ﴾ ’’قوم نوح‘‘ اور قوم عاد ﴿وَّالۡاَحۡزَابُ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے بعد کی دوسری جماعتوں نے (بھی جھٹلایا)‘‘ جو حق کو نیچا دکھانے اور باطل کی مدد کرنے کے لیے جمع ہو گئے ﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان کا یہ حال ہو گیا اور وہ اس بات پر اکٹھے ہو گئے کہ ﴿هَمَّتۡ كُلُّ اُمَّةٍۭ ﴾ ’’ہر گروہ نے ارادہ کر لیا‘‘ مختلف گروہوں میں سے ﴿بِرَسُوۡلِهِمۡ لِيَاۡخُذُوۡهُ ﴾ ’’کہ وہ اپنے رسول کو گرفتار کرلیں۔‘‘ یعنی اس کو قتل کردیں یہ انبیاء و مرسلین کے خلاف، جو اہل خیر کے قائد تھے، بدترین ہتھکنڈا تھا، جو صریح حق پر تھے جس میں کوئی شک وشبہ نہ تھا۔ انھوں نے انبیاء کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ کیا اس بغاوت، گمراہی اور بدبختی کے بعد اس عذاب عظیم کے سوا کچھ رہ جاتا ہے جس میں سے یہ کبھی نہ نکلیں گے؟ بنابریں ان کے لیے دنیاوی اور اخروی عذاب کے بارے میں فرمایا:﴿فَاَخَذۡتُهُمۡ ﴾ ’’ پھر میں نے انھیں پکڑ لیا۔‘‘ یعنی ان کو تکذیب حق اور حق کے خلاف اکٹھے ہونے کے سبب سے اپنی گرفت میں لے لیا ﴿فَكَيۡفَ كَانَ عِقَابِ ﴾ ’’ پھر (دیکھ لو) ہماری سزا کیسی سخت تھی۔‘‘ یہ سخت ترین اور بدترین عذاب تھا، یہ ایک زور دار آواز تھی، پتھروں کو اڑاتی ہوئی طوفانی ہوا تھی، یا اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا اور ان کو اپنی گرفت میں لے لیا یا سمندر کو حکم دیا اور ان کو غرق کر دیا، تب یہ مردہ پڑے کے پڑے رہ گئے۔
[6]﴿وَؔكَذٰلِكَ حَقَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا ﴾ ’’اسی طرح کافروں کے بارے میں بھی تمھارے رب کی بات پوری ہوچکی ہے۔‘‘ جیسا کہ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی بات سچ ثابت ہوئی تھی، اسی طرح ان پر گمراہی ثابت ہو گئی جس کے سبب سے وہ عذاب کے مستحق ہو گئے، اس لیے فرمایا:﴿اَنَّهُمۡ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ﴾ ’’بلاشبہ وہ دوزخی ہیں۔‘‘