Tafsir As-Saadi
40:18 - 40:20

اور ڈرائیں ان کو قریب آنے والے دن (قیامت) سے جبکہ دل نزدیک گلوں کے ہوں گے غم سے بھرے ہوئے، نہیں ہو گا ظالموں کے لیے کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی کہ جس کی بات مانی جائے (18) وہ جانتا ہے خیانت کرنے والی آنکھوں کو اور اس کو بھی جو کچھ چھپاتے ہیں سینے(19) اور اللہ فیصلہ کرے گا ساتھ حق (انصاف)کے اور وہ جن کو پکارتے ہیں اس کے سوا وہ نہیں فیصلہ کر سکتے کسی بھی چیز کا، بلاشبہ اللہ، وہی ہے خوب سننے والا خوب دیکھنے والا (20)

[18] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿وَاَنۡذِرۡهُمۡ يَوۡمَ الۡاٰزِفَةِ ﴾ ’’(اے نبی!) انھیں (قریب) آپہنچنے والے دن سے ڈرائیے‘‘ یعنی انھیں قیامت کے دن سے ڈرائیے جو بہت قریب ہے، اس کے اہوال اور اس کے زلزلوں کے پہنچنے کا وقت ہو گیا ہے ﴿اِذِ الۡقُلُوۡبُ لَدَى الۡحَنَاجِرِ ﴾ ’’جبکہ دل گلوں تک آرہے ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے دل ہوا ہو جائیں گے۔ خوف اور کرب سے دل گلے میں اٹک جائیں گے اور آنکھیں اوپر اٹھی کی اٹھی رہ جائیں گی ﴿كٰظِمِيۡنَ ﴾ وہ کلام نہیں کر سکیں گے سوائے اس شخص کے، جسے رحمٰن اجازت دے اور وہ درست بات کہے۔ وہ دلوں میں چھپے ہوئے خوف اور دہشت کو زبان پر نہیں لائیں گے۔ ﴿مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ ﴾ اور ظالموں کا کوئی قریبی اور ساتھی نہیں ہو گا۔ ﴿وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾ ’’نہ کوئی ایسا سفارشی ہو گا جس کی بات مانی جائے‘‘ کیونکہ اگر سفارشیوں کی سفارش کو فرض کر بھی لیا جائے تب بھی یہ سفارشی شرک کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں کی سفارش نہیں کریں گے۔ اگر یہ سفارش کریں بھی، تو اللہ تعالیٰ ان کی سفارش پر راضی ہو گا نہ اس کو قبول کرے گا۔
[19]﴿يَعۡلَمُ خَآىِٕنَةَ الۡاَعۡيُنِ ﴾ ’’وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔‘‘ یہ وہ نظر ہے جسے بندہ اپنے ہم نشین اور ساتھی سے چھپاتا ہے اور یہ چوری کی نظر ہے۔ ﴿وَمَا تُخۡفِي الصُّدُوۡرُ ﴾ ’’اور ان مخفی باتوں کو بھی جو سینوں نے چھپا رکھی ہیں۔‘‘ یعنی وہ امور جنھیں بندہ دوسروں پر ظاہر نہیں کرتا اللہ تعالیٰ سینوں میں چھپے ہوئے ان بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔ ظاہری امور سے آگاہ ہونا تو زیادہ اولیٰ ہے۔
[20]﴿وَاللّٰهُ يَقۡضِيۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ اس کا قول حق ہے، اس کا حکم شرعی حق ہے اور اس کا حکم جزائی حق ہے۔ اس کا علم محیط ہے، اس نے ہر چیز کو لکھ رکھا ہے اور اس کے پاس ہر چیز محفوظ ہے۔ وہ ظلم، نقص اور تمام عیوب سے پاک ہے۔ وہی ہے جو اپنی قضا و قدر کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، جب وہ کوئی چیز چاہتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے، جب نہیں چاہتا تو نہیں ہوتی۔ وہ دنیا میں اپنے مومن اور کافر بندوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور فتح و نصرت کے ذریعے سے اپنے اولیاء اور محبوب بندوں کی مدد کرتا ہے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’اور جن کو یہ اس (اللہ) کے سوا پکارتے ہیں۔‘‘ یہ ان تمام ہستیوں کو شامل ہے جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ ﴿لَا يَقۡضُوۡنَ بِشَيۡءٍ ﴾ ’’وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔‘‘ کیونکہ وہ عاجز اور بے بس ہیں ان میں بھلائی کا ارادہ معدوم اور وہ اس کے فعل کی استطاعت سے محروم ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ اللہ تعالیٰ ہی تمام آوازوں کو، اختلاف زبان اور اختلاف حاجات کے باوجود سنتا ہے۔ ﴿الۡبَصِيۡرُ ﴾ ’’وہ دیکھنے والا ہے۔‘‘ جو کچھ تھا اور جو کچھ ہے، جو کچھ نظر آتا ہے اور جو کچھ نظر نہیں آتا، جسے بندے جانتے ہیں اور جسے بندے نہیں جانتے، سب اس کی نظر میں ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو آیات کریمہ کی ابتدا میں فرمایا تھا:﴿وَاَنۡذِرۡهُمۡ يَوۡمَ الۡاٰزِفَةِ ﴾ ’’ان کو قریب آنے والے دن (قیامت) سے ڈرائیے۔‘‘ پھر اس کے یہ اوصاف بیان فرمائے جو اس عظیم دن کے لیے تیاری کا تقاضا کرتے ہیں کیونکہ یہ ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں۔