اور لیکن ثمود (قوم) پس رہنمائی کی ہم نے ان کی تو انھوں نے پسند کیا اندھے پن کو اوپر ہدایت کے، پس پکڑ لیا ان کو کڑک نے عذابِ رسوائی کی بسبب اس کے جو تھے وہ کماتے (17) اور نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تھے وہ تقوٰی اختیار کرتے (18)
[17]﴿وَاَمَّا ثَمُوۡدُ ﴾ اور رہے ثمود تو یہ ایک معروف قبیلہ ہے جو حجر اور اس کے اردگرد کے علاقے میں آباد تھا۔ جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالحu کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو ان کے رب کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک سے روکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزے کے طور پر اونٹنی عطا کی، جس کے لیے پانی پینے کا ایک دن مقرر تھا۔ ثمود کے لوگ ایک دن اس اونٹنی کا دودھ پیتے تھے اور ایک دن پانی پیتے تھے اور اس پر انھیں کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ اونٹنی زمین پر چر کر گزارہ کرتی تھی۔ اس لیے ثمود کے بارے میں فرمایا:﴿وَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَهَدَيۡنٰهُمۡ ﴾ ’’جو ثمود تھے، ہم نے انھیں سیدھا راستہ دکھایا۔‘‘ یہاں ہدایت سے مراد ہدایت بیان ہے۔ ہرچندکہ ہلاکت کا شکار ہونے والی تمام امتوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی اور راہ راست ان کے سامنے واضح کر دی گئی، مگر اللہ تعالیٰ نے ثمود کے لیے ہدایت کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ ان کو بہت بڑا معجزہ عطا کیا گیا تھا، اس معجزے کو ان کے بچوں، بوڑھوں، مردوں اور عورتوں سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہدایت اور بیان کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔ مگر انھوں نے اپنے شر اور ظلم کی وجہ سے ہدایت یعنی علم و ایمان کی بجائے، اندھے پن یعنی کفر اور گمراہی کو پسند کیاتو جو کچھ وہ کمایا کرتے تھے، اس کی وجہ سے انھیں عذاب نے پکڑ لیا اور یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا ظلم نہ تھا۔
[18]﴿وَنَجَّيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان لوگوں کو بچالیا جو ایمان لائے اور (نافرمانی سے) بچتے رہے‘‘یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت صالحu اور ان کی اتباع کرنے والے ان مومنین کو نجات دی جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔