اللہ وہ ہے جس نے نازل کی کتاب ساتھ حق کے اور ترازو اور کیا معلوم آپ کو شاید قیامت قریب ہی ہو (17) جلدی مانگتے ہیں اس (قیامت) کو وہ لوگ جو نہیں ایمان رکھتے اس پر اور وہ لوگ جو ایمان لائے، ڈرنے والے ہیں اس سے، اور وہ جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے، آگاہ رہو! بلاشبہ وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں قیامت کے بارے میں، البتہ وہ دور کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں (18)
[17] یہ واضح کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کے دلائل واضح اور روشن ہیں، کیونکہ ہر وہ شخص ان کو قبول کرتا ہے جس میں کچھ بھی بھلائی ہے، ان کا قاعدہ اور اصول بیان کیا بلکہ تمام دلائل بیان کیے جو اس نے بندوں کو عطا کیے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ وَالۡمِيۡزَانَ ﴾ ’’اللہ ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور میزان۔‘‘ کتاب سے مراد قرآن عظیم ہے، جو حق کے ساتھ نازل ہوا اور حق، صدق اور یقین پر مشتمل ہے۔ تمام مطالب الٰہیہ اور عقائد دینیہ کے بارے میں وہ روشن نشانیوں اور واضح دلائل پر مشتمل ہے یہ کتاب عظیم بہترین مسائل اور واضح ترین دلائل لے کر آئی ہے۔ میزان سے مراد قیاس صحیح اور عقل راجح کے ذریعے سے عدل و تعبیر ہے ، چنانچہ تمام عقلی دلائل یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیاں، شرعی تعبیرات، مناسبات، علتیں، احکام اور حکمتیں، میزان میں داخل ہیں، جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرما کر بندوں کے سامنے پیش کیا ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے ان امور کا وزن کریں جن کا اللہ تعالیٰ نے اثبات کیا ہے یا جن کی اس نے نفی کی ہے اور ان امور کو پہچانیں جن کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے خبر دی ہے اور ان امور کو پہچانیں جو کتاب اور میزان پر پورے نہیں اترتے اور جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ حجت، برہان یا دلیل یا اس قسم کی کوئی تعبیر ہے کیونکہ یہ سب باطل اور متناقض ہیں ۔ ان کے اصول فاسد اور ان کی بنیاد اور ان کی فروع منہدم ہو گئے۔ اس میزان کے ذریعے سے مسائل کی خبر اور اس کے ماخذ کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے دلائل راجحہ اور دلائل مرجوحہ کے درمیان امتیاز اور اس کے ذریعے سے دلائل اور شبہات کے درمیان فرق کیا جاتا ہے۔ رہا وہ شخص جو آراستہ عبارات، ملمع شدہ خوبصورت الفاظ کے فریب میں مبتلا ہو کر معنیٔ مراد میں بصیرت حاصل نہیں کرتا تو وہ اس شان کے لوگوں میں شامل ہے نہ اس میدان کا شاہسوار ہے۔ پس اس کی موافقت اور مخالفت برابر ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے لیے جلدی مچانے والوں اور اس کا انکار کرنے والوں کو ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو۔‘‘ یعنی اس کے دور ہونے کا علم ہے نہ یہ معلوم ہے کہ وہ کب قائم ہو گی؟ پس اس کا وقوع ہر وقت متوقع ہے اور اس کے واقع ہونے کی آواز بہت خوفناک ہو گی۔
[18]﴿يَسۡتَعۡجِلُ بِهَا الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهَا ﴾ ’’اس کی جلدی انھیں پڑی ہے جو اسے نہیں مانتے۔‘‘ یعنی منکرین حق عناد اور تکذیب کے طور پر اور اپنے رب کو قیامت قائم کرنے سے عاجز سمجھتے ہوئے قیامت کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مُشۡفِقُوۡنَ مِنۡهَا ﴾ ’’اور اہل ایمان اس سے ڈرتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کے ڈرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ قیامت کے روز اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی اور وہ اپنے رب کی مغفرت کی بنا پر ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اعمال نجات کے حصول میں مدد نہ کر سکیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّهَا الۡحَقُّ ﴾ ’’اور وہ جانتے ہیں کہ یہ حق ہے۔‘‘ جس میں کوئی جھگڑا ہے نہ شک۔ ﴿اَلَاۤ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُمَارُوۡنَ فِي السَّاعَةِ ﴾ ’’آگاہ رہو! جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔‘‘ یعنی قیامت میں شک کرنے کے علاوہ قیامت کے بارے میں انبیاء اور ان کے پیرو کاروں سے جھگڑا کرتے ہیں، پس وہ دور کی مخالفت میں ہیں، یعنی صواب و درستی کے قریب نہیں ہیں بلکہ حق سے انتہائی دور معاندانہ اور مخاصمانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں ۔ اس شخص سے بڑھ کر حق سے کون دور ہو سکتا ہے جس نے آخرت کے گھر کو جھٹلایا، جو حقیقی گھر ہے جو دائمی طور پر باقی رہنے اور خلود سرمدی کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور وہ دارالجزا ہے ، جہاں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و عدل کو ظاہر کرے گا۔ دنیا کے گھر کی اس دائمی گھر سے بس اتنی سی نسبت ہے جیسے کوئی مسافر درخت کے سائے تلے آرام کرے ، پھر اس سایہ دار درخت کو چھوڑ کر کوچ کر جائے۔ یہ تو عبوری گھر اور گزرگاہ ہے، ہمیشہ رہنے کا ٹھکانا نہیں۔ چونکہ انھوں نے اس دارفانی کو دیکھا اور اس کا مشاہدہ کیا اس لیے انھوں نے اس کی تصدیق کی اور آخرت کے گھر کو جھٹلایا، جس کے بارے میں کتب الٰہیہ میں تواتر کے ساتھ اخبار وارد ہوئی ہیں اور انبیائے کرام علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں نے آگاہ کیا، جو عقل میں سب سے زیادہ کامل، علم میں سب زیادہ وسعت کے حامل اور سب سے زیادہ فہم و فطانت رکھنے والے نفوس قدسیہ ہیں۔