Tafsir As-Saadi
42:19 - 42:20

اللہ بہت مہربان ہے اپنے بندوں کے ساتھ، وہ رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ خوب طاقت ور، زبردست ہے(19) جو شخص ارادہ کرتا ہے آخرت کی کھیتی کا، زیادتی کرتے ہیں ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اور جو شخص ارادہ کرتا ہے دنیا کی کھیتی کا، دیتے ہیں ہم اس کو اس میں سے کچھ اور نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ (20)

[19] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے لطف و کرم سے آگاہ فرماتا ہے تاکہ وہ اسے پہچانیں ، اس سے محبت کریں اور اس کے فضل و کرم کے حصول کے درپے رہیں۔لطف اللہ تعالیٰ کے اوصاف میں سے ایک وصف ہے جس سے مراد وہ ہستی ہے جو ضمائر اور نیتوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو بھی جانتی ہے، جو اپنے بندوں کو، خاص طور پر اہل ایمان کو اس مقام تک پہنچاتی ہے جس کے بارے میں انھیں کوئی علم ہوتا ہے نہ گمان۔ یہ بندۂ مومن پر اس کا لطف و کرم ہے کہ اس نے بھلائی کے اسباب مہیا کر کے اسے بھلائی کی راہ دکھائی، جس کا اس کے دل میں خیال تک نہیں آتا، اس کی فطرت میں موجود یہ اسباب محبت حق اور اس کی اطاعت کی طرف بلاتے ہیں، نیز یہ کہ اس نے اپنے مکرم فرشتوں کو الہام کیا کہ وہ اس کے مومن بندوں کو ثابت قدم رکھیں، انھیں بھلائی کی ترغیب دیں، ان کے دلوں میں حق کو مزین کریں تاکہ یہ تزیین حق، اتباع حق کی دعوت دے۔ یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اہل ایمان کو اجتماعی عبادات کا حکم دیا جن کے ذریعے سے ان کے عزائم میں قوت آتی ہے، ان کی ہمتیں بیدار ہوتی ہیں ،بھلائی میں رغبت پیدا ہوتی ہے، بھلائی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور ایک دوسرے کی پیروی کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندے کو ہر سبب مہیا کیا جو اسے معاصی سے باز رکھتا ہے اور اس کے اور معاصی کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر اللہ تعالیٰ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ دنیا، مال و متاع اور ریاست وغیرہ، جس کی خاطر دنیا دار ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے بندے کو اس کی اطاعت سے دور کر دے گی یا اس میں غفلت پیدا کر دے گی یا اسے معصیت پر ابھارے گی، تو وہ اس دنیا کو اس سے دور ہٹا دیتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے اور اپنے لطف و کرم کے مطابق جسے چاہتا ہے رزق سے بہرہ مند کرتا ہے ﴿وَهُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ بہت قوت والا، نہایت غالب ہے۔‘‘ وہ تمام قوت کا مالک ہے اس کی مدد کے بغیر مخلوق میں کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔اسی کے سامنے کائنات سرنگوں ہے۔
[20] پھر فرمایا: ﴿مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ حَرۡثَ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی آخرت کا اجروثواب چاہتے ہوئے اس پر ایمان لاتا ہے، اس کی تصدیق کرتا ہے اور اس کے حصول کے لیے پوری طرح کوشاں رہتا ہے ﴿نَزِدۡ لَهٗ فِيۡ حَرۡثِهٖ﴾ ’’ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کر دیتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم اس کے عمل اور اس کی جزا کو کئی گنا کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعۡيَهَا وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعۡيُهُمۡ مَّشۡكُوۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍19) ’’جو کوئی آخرت کا گھر چاہتا ہے اور اس کے لیے کوشش کرے جیسا کہ کوشش کا حق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔‘‘ اس کے باوجود دنیا میں سے اس کے لیے مقرر کیا گیا حصہ اسے ضرور ملے گا۔ ﴿وَمَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ حَرۡثَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے۔‘‘ یعنی دنیا ہی اس کا مطلوب و مقصود ہو، آخرت کے لیے کچھ بھی آگے نہ بھیجے، اسے آخرت کے ثواب کی امید ہے نہ اس کے عذاب کا ڈر۔ ﴿نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا ﴾ تو ہم اسے دنیا میں سے اس کا حصہ عطا کرتے ہیں جو اس کے لیے مقرر ہے۔ ﴿وَمَا لَهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ مِنۡ نَّصِيۡبٍ ﴾ ’’اور اس کے لیے آخرت کا کچھ حصہ نہیں ہوگا۔‘‘ اس پر جنت حرام کر دی گئی اور وہ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کا مستحق ٹھہرا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے: ﴿مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيۡهِمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فِيۡهَا وَهُمۡ فِيۡهَا لَا يُبۡخَسُوۡنَ ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَيۡسَ لَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖٞ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِيۡهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(ہود:11؍15، 16) ’’جو لوگ اس دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کے طلب گار ہیں ہم انھیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ اسی دنیا میں عطا کر دیتے ہیں اور اس میں ان کو کوئی گھاٹا نہیں دیا جاتا۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں کیا تھا، وہ سب اکارت ہے اور جو کچھ وہ کرتے تھے، سب برباد ہونے والا ہے۔‘‘