اور بدلہ برائی کا برائی ہے اسی کی مثل، پس جو معاف کر دے اور صلح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، بلاشبہ وہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو (40) اور البتہ جس نے بدلہ لیا بعد اپنے آپ پر ظلم ہونے کے تو یہی لوگ ہیں کہ نہیں ہے اوپر ان کے کوئی راستہ (گرفت کرنے کا)(41) بلاشبہ راستہ تو ان لوگوں پر ہے جو ظلم کرتے ہیں لوگوں پر اور سرکشی کرتے ہیں زمین میں ناحق، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہے عذاب درد ناک (42) اور البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا تو بے شک یہ ہمت کے کاموں سے ہے (43)
[40] اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عقوبات کے مراتب بیان کیے ہیں، عقوبات کے تین مراتب ہیں: عدل، فضل اور ظلم۔ 1کسی کمی بیشی کے بغیر، برائی کے بدلے میں اسی جیسی برائی، مرتبۂ عدل ہے۔ پس جان کے بدلے جان ہے، عضو کے بدلے اس جیسا عضو اور مال کی ضمان اسی جیسا مال ہے۔ 2برائی کرنے والے کو معاف کر کے اصلاح کرنا مرتبۂ فضل ہے اس لیے فرمایا:﴿فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’پس جو کوئی درگزر کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اسے اجر عظیم اور ثواب جزیل عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے درگزر کرنے میں اصلاح کی شرط دلالت کرتی ہے کہ اگر مجرم عفو کے لائق نہ ہو اور مصلحت شرعیہ اس کو سزا دینے کا تقاضا کرتی ہو تو اس صورت میں وہ عفو پر مامور نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا معاف کرنے والے کو اجر عطا کرنا، عفو پر آمادہ کرتا ہے نیز اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ مخلوق کے ساتھ وہ معاملہ کرے، جو وہ اپنے بارے میں چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کرے۔ جیسا کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے، لہٰذا اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کو معاف کر دے۔ اور جیسا کہ وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ نرمی کرے، تب اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ نرمی کرے۔ کیونکہ جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ 3 رہا مرتبۂ ظلم، تو اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ جو دوسروں پر زیادتی کرنے میں ابتدا کرتے ہیں، یا جرم کرنے والے سے اس کے جرم سے بڑھ کر بدلہ لیتے ہیں تو یہ زیادتی ظلم ہے۔
[41]﴿وَلَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهٖ﴾ جو ظلم کے وقوع کے بعد ظلم کرنے والے سے بدلہ لیتا ہے۔ ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ مَا عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سَبِيۡلٍ﴾ تو یہی وہ لوگ ہیں جن پر بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الۡبَغۡيُ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَلَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهٖ﴾ دلالت کرتے ہیں کہ ظلم و زیادتی کے وقوع کے بعد بدلہ لینا ضروری ہے۔ رہا کسی پر ظلم اور زیادتی کا ارادہ کرنا اور ابھی اس سے ظلم و زیادتی واقع نہیں ہوئی تو اسے وہ سزا تو نہیں دی جائے گی جو جرم کے ارتکاب پر دی جاتی ہے، البتہ اس کو تادیبی سزا ضرور دی جائے گی جو اسے اس قول و فعل سے باز رکھ سکے جو اس سے صادر ہوا۔
[42]﴿اِنَّمَا السَّبِيۡلُ ﴾ یعنی عقوبت شرعیہ کی حجت تو صرف انھی لوگوں پر قائم ہوگی۔ ﴿عَلَى الَّذِيۡنَ يَظۡلِمُوۡنَ النَّاسَ وَيَبۡغُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں، اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں۔‘‘ یہ آیت لوگوں کے خون، مال اور ناموس کے بارے میں ظلم و زیادتی کو شامل ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یعنی ان کے ظلم و زیادتی کے مطابق ان کے قلوب و ابدان کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ہو گا۔
[43]﴿وَلَمَنۡ صَبَرَ ﴾ ’’اور جو صبر کرے۔‘‘ یعنی مخلوق کی طرف سے جو تکلیف اسے پہنچتی ہے اس پر صبر کرتا ہے۔ ﴿وَغَفَرَ ﴾ یعنی ان سے جو جرم واقع ہوا، ان سے مسامحت کرتے ہوئے ان کو بخش دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴾ یعنی یہ چیز ایسے امور میں شمار ہوتی ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے ترغیب دی ، اس پر تاکید فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ صرف انھی لوگوں کو عطا ہوتی ہے جو صبر سے بہرہ مند اور بڑے نصیبے والے ہیں اور یہ ان امور میں سے ہے جن کی توفیق بڑے عزم و ہمت اور عقل و بصیرت والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ نفس کے لیے قول یا فعل سے انتقام نہ لینا انتہائی باعث مشقت ہے اور اذیت پر صبر کرنا، اس سے درگزر کرنا، اس کو بخش دینا اور اس کے مقابلے یں حسن سلوک سے پیش آنا تو بہت ہی پرمشقت کام ہے، مگر یہ اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے اور وہ بھی اس وصف سے متصف ہونے کے لیے اپنے نفس سے جہاد کرے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے، پھر بندہ جب اذیت برداشت کرنے کی حلاوت کو چکھ لیتا ہے اور اس کے آثار کو دیکھ لیتا ہے تو اسے شرح صدر، کشادہ دلی اور ذوق و شوق سے قبول کرتا ہے۔