Tafsir As-Saadi
43:57 - 43:65

اور جب بیان کی گئی ابن مریم کی مثال تو یکایک آپ کی قوم اس سے چلاتی ہے(خوشی سے)(57) اور انھوں نے کہا، کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ(عیسٰی)؟ نہیں بیان کی انھوں نے آپ کے لیے یہ مثال مگر جھگڑنے کے لیے، بلکہ وہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو (58) نہیں ہے وہ (عیسیٰ) مگر ایک ایسا بندہ کہ انعام کیا ہم نے اس پر اور بنا دیا ہم نے اس کو ایک نمونہ واسطے بنو اسرائیل کے (59) اور اگر چاہتے ہم تو البتہ کر دیتے ہم تم میں سے فرشتے زمین میں، وہ جانشین ہوتے (60) اور بے شک وہ البتہ ایک نشانی ہے واسطے قیامت کے، پس نہ ہرگز شک کرو تم اس (کے آنے) میں اور پیروی کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور نہ روک دے تم کو شیطان، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے صریح (62) اور جب آیا عیسٰی ساتھ واضح دلائل کے تواس نے کہا :تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ حکمت کے اور تاکہ واضح کروں میں تمھارے لیے بعض وہ باتیں کہ اختلاف کرتے ہو تم اس میں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (63) بلاشبہ اللہ، وہ رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا، پس تم (سب) اسی کی عبادت کرو، یہی ہے راستہ سیدھا (64) پس (ایک دوسرے سے) اختلاف کیا گروہوں نے(جو پیدا ہوئے)ان کے درمیان ہی میں سے، پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، عذاب سے ایک دردناک دن کے (65)

[57] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡيَمَ مَثَلًا ﴾ ’’اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی ۔‘‘ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ ﴿اِذَا قَوۡمُكَ ﴾ ’’تو آپ کی قوم‘‘ یعنی جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں۔ ﴿مِنۡهُ ﴾ یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے ﴿يَصِدُّوۡنَ﴾ آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کر لیا ہے۔
[58]﴿وَقَالُوۡۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَيۡرٌ اَمۡ هُوَ ﴾ ’’اور کہنے لگے: کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ؟‘‘ یعنی عیسیٰ(u) کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وعید میں شامل کیا گیا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی نازل ہوا ہے: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍98) ’’تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، سب جہنم کا ایندھن ہو۔ اور تم سب اس میں داخل ہوکر رہو گے۔‘‘ ان کی اس بے موقع دلیل کی توجیہ یہ ہے وہ کہتے ہیں کہ اے محمد (ﷺ) !تمھارے نزدیک اور ہمارے نزدیک یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے ان مقرب بندوں میں سے ہیں جن کا انجام بہت اچھا ہے ، پھر تو نے عیسیٰu اور ہمارے معبودوں کو ان کی عبادت کی ممانعت میں برابر کیوں کر قرار دے دیا؟ اگر تیری دلیل باطل نہ ہوتی تو اس میں کوئی تناقض نہ ہوتا اور تو نے یہ کیوں کہا:﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبياء: 98/21)ان کے زعم کے مطابق یہ حکم عیسیٰu اور تمام بتوں کو شامل ہے۔ تب کیا یہ تناقض نہیں؟ اور دلیل کا تناقض دلیل کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔ یہ بعید ترین دلیل ہے جس کے ذریعے سے لوگ اس شبہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس پر یہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شور مچا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں، حالانکہ یہ شبہ...الحمدللّٰہ… کمزور ترین اور باطل ترین شبہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحu کی عبادت کی ممانعت اور بتوں کی عبادت کی ممانعت کو مساوی قرار دیا ہے اور چونکہ عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے، مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، انبیاء و مرسلین اور دیگر کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، اس لیے عیسیٰu کی عبادت کی ممانعت اور دیگر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی ممانعت کے مساوی ہونے میں کون سا شبہ ہے؟
[59] اس مقام پر عیسیٰu کی فضیلت اور آپ کا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرب ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ کی عبادت اور بتوں کی عبادت کی حرمت میں کوئی فرق ہے۔ حضرت عیسیٰu کی حیثیت تو وہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ ’’وہ تو ہمارے ایک بندے ہیں جن پر ہم نے انعام کیا۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں نبوت و حکمت اور علم و عمل کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ﴿وَجَعَلۡنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کے لیے انھیں ایک نمونہ بنادیا۔‘‘ ان کے ذریعے سے بنی اسرائیل نے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو باپ کے بغیر بھی وجود میں لانے کی قدرت رکھتا ہے۔رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍98) تو اس کا جواب تین طرح سے دیا جاتا ہے: اول: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ میں ’’ما‘‘ غیر ذی عقل کے لیے استعمال ہوا ہے، اس میں حضرت مسیحu داخل نہیں ہیں۔ ثانی: یہ خطاب مکہ اور اس کے اردگرد رہنے والے مشرکین سے ہے، جو بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ثالث: اس آیت کریمہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى١ۙ اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جن کے لیے پہلے ہی سے ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہو چکا ہے، وہ اس جہنم سے دور کھے جائیں گے۔‘‘ بلاشبہ عیسیٰ u ، انبیاء و مرسلین علیہ السلام اور اولیاء اللہ Sاس آیت کریمہ میں داخل ہیں۔
[60] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ مَّلٰٓىِٕكَةً فِي الۡاَرۡضِ يَخۡلُفُوۡنَ ﴾ یعنی اگر ہم چاہتے تو تمھاری جگہ فرشتوں کو مقرر کر دیتے جو زمین میں تمھاری جانشینی کرتے اور زمین میں رہتے حتی کہ ہم فرشتوں کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجتے۔ اے نوع بشری! تم یہ طاقت نہیں رکھتے کہ فرشتوں کو رسول بنا کر تمھاری طرف مبعوث کیا جائے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ اس نے تمھاری جنس ہی سے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا جس سے سیکھنے کی تم طاقت رکھتے ہو۔
[61]﴿وَاِنَّهٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَةِ ﴾ ’’اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا وجود قیامت کی دلیل ہے۔ وہ ہستی جو حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے وجود میں لانے پر قادر ہے، وہ مردوں کو ان کی قبروں میں سے دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت بھی رکھتی ہے… یا اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰu آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور ان کا نزول قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ ﴿فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِهَا ﴾ یعنی قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں شک نہ کرو، اس کے بارے میں شک کرنا کفر ہے۔ ﴿وَاتَّبِعُوۡنِ﴾ اور جو میں نے تمھیں حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرو اور جس سے روکا ہے اس سے اجتناب کرو۔ ﴿هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہی سیدھا راستہ ہے ۔‘‘جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔
[62]﴿وَلَا يَصُدَّنَّـكُمُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ اور شیطان تمھیں اس چیز سے نہ روک دے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔ بے شک شیطان ﴿لَكُمۡ عَدُوٌّ ﴾ ’’تمھارا دشمن ہے۔‘‘ وہ تمھیں گمراہ کرنے کا حریص ہے اور اس بارے میں وہ پوری جدوجہد کر رہا ہے۔
[63]﴿وَلَمَّا جَآءَ عِيۡسٰؔى بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ جب حضرت عیسیٰ u وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی نبوت کی صداقت اور ان کی دعوت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتے تھے، مثلاً: مردوں کو زندہ کرنا، مادرزاد اندھے اور برص زدہ کو شفایاب کرنا اور دیگر معجزات ﴿قَالَ ﴾ تو عیسیٰu نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِالۡحِكۡمَةِ ﴾ میں تمھارے پاس نبوت اور ان امور کا علم لے کر آیا ہوں جس کا علم تمھیں ہونا چاہیے اور اس طریقے سے ہونا چاہیے جو مناسب ہے۔ ﴿وَلِاُبَيِّنَ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ ﴾ یعنی تاکہ میں تمھارے سامنے تمھارے اختلافات میں راہ صواب اور جواب واضح کر دوں اور اس طرح تمھارے شکوک و شبہات زائل ہو جائیں۔ پس عیسیٰu شریعت موسوی اور احکام تورات کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، آپ بعض آسانیاں لے کر آئے جو آپ کی اطاعت اور آپ کی دعوت کو قبول کرنے کی موجب تھیں۔ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو، مجھ پر ایمان لاؤ ، میری تصدیق اور میری اطاعت کرو۔
[64]﴿اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ١ؕ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’یقیناً اللہ میرا رب بھی ہے اور تمھارا بھی، لہٰذا اسی کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے۔‘‘اس آیت کریمہ میں توحید ربوبیت کا اقرار ہے، اللہ تعالیٰ مختلف انواع کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ نیز توحید عبودیت کا اقرار ہے یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور عیسیٰu کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ وہ بھی اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے ہیں۔ ’’وہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا یا تین میں سے تیسرا‘‘ نہیں ہیں جیسا کہ نصاریٰ کا خیال ہے اور یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ یہی راستہ سیدھا راستہ ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔
[65] جب حضرت عیسیٰu یہ دعوت لے کر ان کے پاس آئے ﴿فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ تو آپ کی تکذیب پر گروہ بندی کرنے والوں نے اختلاف کیا ﴿مِنۢۡ بَيۡنِهِمۡ﴾ ان میں سے ہر گروہ نے حضرت عیسیٰu کے بارے میں باطل بات کہی اور جو کچھ آپ لے کر آئے تھے اسے رد کر دیا، سوائے مومنین کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، جنھوں نے رسالت کی گواہی دی اور ہر اس چیز کی تصدیق کی جو آپ لے کر آئے تھے اور کہا کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’پس ظالموں کے لیے ہلاکت ہے دردناک عذاب والے دن سے۔‘‘ ظالموں کو کتنا شدید حزن و غم ہو گا، اس روز انھیں کتنے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔