بلاشبہ اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، باغات میں، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ فائدہ اٹھاتے ہیں (دنیا ہی کا)، اور وہ کھاتے ہیں جس طرح کھاتے ہیں چوپائے اور آگ ہی ٹھکانا ہے ان کا (12)
[12] اس بات کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا سر پرست ہے یہ بھی بیان فرمایا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں داخل کرے گا، جہاں نہریں بہتی ہوں گی جو خوبصورت باغات، ہر قسم کے تر و تازہ پھل اور میوے دار درختوں کو سیراب کریں گی۔ چونکہ کفار کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کا کوئی والی و مددگار نہیں، اس لیے فرمایا کہ ان کو ان کے نفس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ بنابریں وہ مروت کی صفات سے متصف ہو سکے نہ انسانی صفات سے بلکہ وہ نچلی سطح پر گر کر چوپایوں کی مانند ہو گئے ہیں جو عقل سے محروم ہوتے ہیں اور ان میں کوئی فضیلت نہیں ہوتی۔ ان کا سب سے بڑا مقصد صرف دنیا کی لذات و شہوات سے متمتع ہونا ہے۔ اس لیے آپ دیکھیں گے کہ ان کی ظاہری و باطنی حرکات انھی لذات و شہوات کے دائرہ میں ہوتی ہیں اور ان امور کے لیے نہیں ہوتیں جن میں خیر اور سعادت ہوتی ہے۔ بنابریں ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا، یعنی جہنم کے اندر ان کے لیے گھر تیار کیا گیا ہو گا۔ جہاں ان کے عذاب میں کبھی انقطاع واقع نہیں ہو گا۔