Tafsir As-Saadi
47:34 - 47:35

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے ، پھر وہ مر گئے اس حال میں کہ وہ کافر ہی تھے، تو ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو (34) سو نہ سستی کرو تم اور (نہ) بلاؤ تم صلح کی طرف جب کہ تم (ہی) بلند (غالب) ہو اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور ہرگز نہیں کم گرے گا، تم سے (ثواب) تمھارے عملوں کا (35)

[34] یہ آیت کریمہ اور وہ جو سورۂ بقرہ میں وارد ہوئی ہے یعنی ﴿ وَمَنۡ يَّرۡتَدِدۡ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡنِهٖ فَيَمُتۡ وَهُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾(البقرہ:2؍217) ’’تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے اور کفر کی حالت میں مر جائے، پس ان لوگوں کے اعمال دنیا و آخرت میں اکارت جائیں گے۔‘‘ یہ دونوں آیات ہر اس نصِ مطلق کو، جس میں کفر کی بنا پر اعمال کے اکارت جانے کا ذکر کیا گیا ہے، مقید کرتی ہیں۔ پس یہ حکم اس پر موت کے ساتھ مقید ہے۔یہاں فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ بے شک وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کیا ﴿ وَصَدُّوۡا﴾ اور مخلوق کو روکا ﴿ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی راہ سے ‘‘ انھیں راہ حق سے دور کرنے، باطل کی طرف دعوت دینے اور باطل کو مزین کرنے كے ذريعے سے﴿ ثُمَّ مَاتُوۡا وَهُمۡ كُفَّارٌ﴾ ’’پھر کافر ہی مر گئے۔‘‘ اور انھوں نے کفر سے توبہ نہ کی ﴿ فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾ تو اللہ تعالیٰ انھیں کسی سفارش وغیرہ کے ذریعے سے نہ بخشے گا۔ ان کے لیے عذاب واجب ہو چکا، وہ ثواب سے محروم ہو گئے اور جہنم میں ان کا ہمیشہ رہنا لازم ہو گیا ان پر رحیم و غفار کی رحمت کے تمام دروازے بند ہو گئے۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر وہ اپنی موت سے پہلے توبہ کر لیں تو بے شک اللہ تعالیٰ انھیں بخش دے گا، ان پر رحم کر کے جنت میں داخل کر دے گا خواہ انھوں نے اپنی عمریں کفر، اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کیوں نہ گزاری ہوں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیے، اس نے کسی شخص پر، جب تک وہ زندہ ہے اور توبہ کرنے پر قادر ہے، اپنی رحمت کے دروازوں کو بند نہیں کیا... اور پاک ہے وہ ذات جو نہایت حلم والی ہے، جو گناہ گاروں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتی، بلکہ ان کو معاف کرتی ہے اور انھیں رزق عطا کرتی ہے، گویا انھوں نے کبھی اس کی نافرمانی کی ہی نہیں، حالانکہ وہ ہستی ان پر پوری قدرت رکھتی ہے۔
[35] اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَلَا تَهِنُوۡا﴾ یعنی اپنے دشمن کے ساتھ قتال کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ اور تم پر خوف غالب نہ آئے، بلکہ صبر کرو اور ثابت قدم رہو اپنے رب کی رضا، اسلام کی خیر خواہی اور شیطان کو ناراض کرنے کے لیے اپنے نفس کو قتال اور جانفشانی پر آمادہ کرو اور محض آرام حاصل کرنے کے لیے تم دشمن کو امن اور صلح کی دعوت نہ دو۔﴿ وَ﴾ ’’اور‘‘ حالانکہ ﴿ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ١ۖ ۗ وَاللّٰهُ مَعَكُمۡ وَلَنۡ يَّتِرَؔكُمۡ﴾ ’’تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور وہ کمی نہیں کرے گا‘‘﴿ اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’تمھارے اعمال میں۔‘‘ یہ تین امور، ان میں سے ہر ایک صبر اور عدم ضعف کا تقاضا کرتا ہے:(۱)ان کا غالب آنا، یعنی ان کے لیے فتح و نصرت کے وافر اسباب مہیا کر دیے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے ساتھ سچا وعدہ کیا گیا ہے انسان صرف اس وقت کمزور ہوتا ہے جب وہ مخالفین کی نسبت کمتر تعداد، سازوسامان اور داخلی اور خارجی قوت کے اعتبار سے ان کی نسبت کمزور ہو۔(۲)اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے، کیونکہ وہ مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی نصرت اور تائید کے ذریعے سے اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ چیز ان کے دلوں کو طاقت اور قوت عطا کرنے اور دشمن کے خلاف اقدام کرنے کی موجب ہے۔(۳) اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا بلکہ انھیں پورا پورا اجر عطا کرے گا اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ عطا کرے گا۔ خاص طور پر جہاد کی عبادت میں، کیونکہ جہاد میں خرچ کیے ہوئے مال کا اجر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ لَا يُصِيۡبُهُمۡ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخۡمَصَةٌ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَطَـُٔوۡنَ مَوۡطِئًا يَّغِيۡظُ الۡكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّـيۡلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَۙ۰۰ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَ نَفَقَةً صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً وَّلَا يَقۡطَعُوۡنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾(التوبہ:9؍120-121) ’’یہ اس سبب سے ہے کہ انھیں اللہ کے راستے میں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، پیاس، تھکاوٹ یا بھوک کی تکلیف، یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جس سے کفار کو غصہ آئے، یا دشمنوں سے کچھ حاصل کرتے ہیں تو اس کے بدلے ان کے لیے ایک نیک عمل لکھ لیا جاتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ اور جو تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں، یا کوئی وادی طے کرتے ہیں تو سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کی بہترین جزا دے۔‘‘ جب انسان کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے عمل اور جہاد کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا تو یہ چیز اس کے لیے نشاط اور ان امور میں کوشش کرنے کی موجب بنتی ہے جن پر اجر و ثواب مترتب ہوتے ہیں۔ تب کیسی کیفیت ہو گی اگر یہ تینوں مذکورہ امور مجتمع ہوں؟ بلاشبہ یہ چیز نشاط کامل کی موجب ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ترغیب اور ایسے امور کے لیے ان میں نشاط اور قوت پیدا کرنا ہے جن میں ان کی بھلائی اور فلاح ہے۔