Tafsir As-Saadi
48:18 - 48:21

البتہ تحقیق راضی ہو گیا اللہ مومنوں سے جب وہ بیعت کر رہے تھے آپ سے نیچے اس درخت کے پس اس نے جان لیا جو (خلوص) ان کے دلوں میں تھا سو نازل کی اس نے سکینت ان پر اور بدلے میں دی انھیں فتح جلد ہی (18) اور (بھی) غتیمتیں بہت کہ وہ حاصل کریں گے ان کو اور ہے اللہ بڑا زبردست خوب حکمت والا(19) اور وعدہ کیا تم سے اللہ نے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم حاصل کرو گے ان کو، پس اس نے جلد ہی دے دی تمھیں یہ اور اس نے روک دیے ہاتھ لوگوں کے تم سے اور تاکہ ہو یہ نشانی مومنوں کے لیے اور تاکہ وہ ہدایت دے تمھیں صراط مستقیم کی (20) اور (غنیمتیں) دوسری کہ نہیں قادر ہوئے تم (ابھی) ان پر، تحقیق گھیر لیا ہوا ہے اللہ نے ان کو اور ہے اللہ ہر چیز پر خوب قادر (21)

[19،18] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم، اپنی رحمت اور اہل ایمان پر اپنی رضا کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جب وہ رسول اللہﷺ کے دست مبارک پر ایسی بیعت کر رہے تھے جس نے ان کو سرخرو کر دیا اور وہ اس بیعت کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ یہ بیعت جسے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ’’بیعت رضوان‘‘ کہا جاتا ہے اور اسے ’’بیعت اہل شجرہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز، جب رسول اللہﷺ کی آمد کے سلسلے میں آپ اور مشرکین مکہ کے درمیان بات چیت شروع ہوئی، کہ آپ کسی کے ساتھ جنگ لڑنے نہیں آئے، بلکہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لیے آئے ہیں ، تو رسول اللہﷺ نے حضرت عثمانt کو اس سلسلے میں مکہ مکرمہ بھیجا۔ آپ کے پاس ایک غیر مصدقہ خبر پہنچی کہ حضرت عثمانt کو مشرکین مکہ نے قتل کر دیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھ آئے ہوئے مومنین کو جمع کیا، جو تقریباً پندرہ سو افراد تھے، انھوں نے ایک درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر مشرکین کے خلاف قتال کی بیعت کی، کہ وہ مرتے دم تک فرار نہیں ہوں گے۔تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ مومنوں سے راضی ہو گیا، درآں حالیکہ یہ بیعت سب سے بڑی نیکی اور جلیل ترین ذریعۂ تقرب ہے۔ ﴿ فَعَلِمَ مَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ان کے دلوں میں جو ایمان ہے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے ﴿ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ﴾ تو ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کی قدر دانی کے لیے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا۔ ان شرائط کی وجہ سے، جو مشرکین نے رسول اللہﷺ پر صلح کے لیے عائد کی تھیں، مومنوں کے دلوں میں سخت غم اور بے چینی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر سکینت نازل فرمائی جس نے ان کو ثبات اور اطمینان عطا کیا۔ ﴿ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا﴾’’اور انھیں جلد فتح عنایت کی۔‘‘ اس سے مراد فتح خیبر ہے جس میں اہل حدیبیہ کے سوا اور کوئی شریک نہیں ہوا، چنانچہ ان کے لیے جزا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رضا کی تعمیل کی قدر و منزلت کے طور پر ان کو فتح خبیر اور اس کے اموال غنیمت سے مختص کیا گیا۔﴿ وَّمَغَانِمَ كَثِيۡرَةً يَّاۡخُذُوۡنَهَا۠١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا﴾ ’’اور بہت سے اموالِ غنیمت بھی وہ حاصل کریں گے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی طاقت اور قدرت کا وہی مالک ہے، جس کی بنا پر وہ تمام اشیاء پر غالب ہے، اگر وہ چاہے تو ہر اس معرکہ میں جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان برپا ہوتا ہے، کفار سے انتقام لے سکتا ہے، مگر وہ حکمت والا ہے وہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے اور مومن کا کافر کے ذریعے سے امتحان لیتا ہے۔
[20]﴿ وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِيۡرَةً تَاۡخُذُوۡنَهَا﴾ ’’اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے، کہ تم انھیں حاصل کرو گے؟‘‘ یہ ان تمام غنائم کو شامل ہے جو قیامت کے روز تک مسلمانوں کو حاصل ہوں گی ﴿ فَعَجَّلَ لَكُمۡ هٰؔذِهٖ﴾’’پس اس نے اس غنیمت کی تمھارے لیے جلدی فرمائی، یعنی غزوۂ خیبر کا مال غنیمت، پس تم صرف اتنا ہی غنیمت نہ سمجھو بلکہ اس کے علاوہ اور بھی اموال غنیمت ہوں گے جو اس کے بعد تمھیں حاصل ہوں گے۔﴿ وَؔ﴾ ’’اور‘‘ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو جب ﴿ كَفَّ اَيۡدِيَ النَّاسِ عَنۡكُمۡ﴾ اس نے ان لوگوں کے ہاتھ روک دیے جو تمھارے ساتھ جنگ کرنے کی قدرت اور اس کی خواہش رکھتے تھے﴿ عَنۡكُمۡ﴾ ’’تم سے‘‘ یہ ایک نعمت اور تمھارے لیے تخفیف ہے ﴿ وَلِتَكُوۡنَ﴾ یعنی یہ مالِ غنیمت ﴿ اٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان کے لیے نشانی ہے‘‘ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی سچی بھلائی، اس کے وعدۂ حق اور اہل ایمان کے لیے ثواب پر استدلال کرتے ہیں، جس نے اس غنیمت کو مقدر کیا ہے وہ اور بھی اموال غنیمت مقدر کرے گا۔ ﴿ وَيَهۡدِيَكُمۡ﴾ اور ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری راہ نمائی کرے گا جو اس نے تمھارے لیے مقدر کیے ہیں ﴿ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ علم، ایمان اور عمل کے سیدھے راستوں میں سے۔
[21]﴿ وَّاُخۡرٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے غنائم کا بھی تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهَا﴾ ’’جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے‘‘ یعنی اس خطاب کے وقت ۔ ﴿ قَدۡ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا﴾ ’’بے شک اللہ ہی نے ان کو گھیر رکھا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان غنائم پر قادر ہے، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت اور اس کی ملکیت میں ہیں، اس نے تمھارے ساتھ غنائم کا وعدہ کیا ہے، پس اس وعدے کا پورا ہونا لازمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل اقتدار کا مالک ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘