اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ، البتہ ضرور آزمائے گا تمھیں اللہ کچھ شکار سے کہ پہنچ سکتے ہیں اس تک تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے تاکہ معلوم کر لے اللہ کہ کون ڈرتا ہے اس سے بن دیکھے؟ پس جو حد سے گزرے بعد اس کے، سو اس کے لیے عذاب ہے بہت دردناک(94) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ مارو تم شکار کو جبکہ تم احرام میں ہو اور جو کوئی مارے گا تم میں سے اس کو جان بوجھ کر تو بدلہ ہے (اس پر) مثل اس کے جو مارا اس نے، چوپاؤں سے، فیصلہ کریں گے اس کا دو انصاف والے تم میں سے، بطور قربانی کے پہنچنے والی کعبہ میں یا کفارہ ہے کھانا کھلانا کچھ مسکینوں کو یا برابر اس کے روزے رکھنے ہیں تاکہ چکھے وہ سزا اپنے کام کی۔ معاف کیا اللہ نے اس سے جو گزر چکااور جو کوئی پھر کرے تو انتقام لے گا اللہ اس سےاور اللہ غالب ہے انتقام لینے والا(95) حلال کیا گیا ہے تمھارے لیے شکار سمندر کا اور کھانا اس کا فائدے کے لیے تمھارے اور مسافروں کےاور حرام کیا گیا ہے تم پر شکار خشکی کا جب تک ہو تم احرام میں اور ڈرو تم اللہ سے، وہ جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے(96)
[94] اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو خبر دی ہے کہ وہ قضا و قدر کے اعتبار سے یہ فعل سرانجام دے گا۔ تاکہ وہ اس کی اطاعت کریں اور بصیرت کے ساتھ آگے آئیں اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان کا امتحان لے ﴿ لَيَبۡلُوَنَّـــكُمُ اللّٰهُ بِشَيۡءٍ مِّنَ الصَّيۡدِ ﴾ ’’البتہ ضرور آزمائے گا تم کو اللہ ایک بات سے ایک شکار میں ‘‘ یعنی کسی زیادہ بڑی چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں نہیں آزمائے گا بلکہ اپنے لطف و کرم کی بنا پر تخفیف کرتے ہوئے بہت معمولی سی چیز کے ذریعے سے تمھارا امتحان لے گا۔ یہ شکار ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمھیں آزمائے گا ﴿ تَنَالُهٗۤ اَيۡدِيۡكُمۡ وَرِمَاحُكُمۡ ﴾ ’’جس پر پہنچتے ہیں تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے‘‘ یعنی تم اس کے شکار پر متمکن ہوتے ہو تاکہ اس طرح آزمائش مکمل ہو جائے اگر ہاتھ یا نیزے کے ذریعے سے شکار قدرت و اختیار میں نہ ہو تو آزمائش کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آزمائش کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿لِيَعۡلَمَ اللّٰهُ ﴾ ’’تاکہ جان لے اللہ‘‘ یعنی ایسا جاننا جو مخلوق پر ظاہر ہو اور اس پر ثواب و عذاب مترتب ہوتا ہو ﴿مَنۡ يَّخَافُهٗ بِالۡغَيۡبِ ﴾’’کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے۔‘‘ پس جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، اس پر قدرت و اختیار ہونے کے باوجود وہ اس سے رک جاتا ہے تو وہ اسے بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے، اس کے برعکس وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے غائبانہ طور پر ڈرتا نہیں اور اس کی نافرمانی سے باز نہیں آتا، اس کے سامنے شکار آجاتا ہے، اگر اس پر قابو پا سکتا ہے تو اس کو شکار کر لیتا ہے۔۔۔۔﴿فَمَنِ اعۡتَدٰؔى ﴾ ’’تو جو زیادتی کرے۔‘‘ یعنی تم میں سے جو کوئی حد سے تجاوز کرے گا ﴿ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اس کے بعد‘‘ یعنی اس بیان کے بعد جس نے ہر قسم کی حجت کو باطل کر کے راستے کو واضح کر دیا ہے ﴿ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پس اس کے لیے انتہائی دردناک عذاب ہے‘‘ جس کا وصف اللہ کے سوا کوئی بیان نہیں کر سکتا۔ کیونکہ حد سے تجاوز کرنے والے اس شخص کے لیے کوئی عذر نہیں ۔ اعتبار اس شخص کا ہے جو لوگوں کی عدم موجودگی میں غائبانہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ رہا لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے خوف کا اظہار کرنا تو یہ کبھی کبھی لوگوں کے خوف کی وجہ سے بھی ہوتا ہے تب اس پر کوئی ثواب نہیں ۔
[95] پھر اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع کر کے شکار کرنے کو حرام قرار دے دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡتُلُوا الصَّيۡدَ وَاَنۡتُمۡ حُرُمٌؔ ﴾ ’’اے ایمان دارو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا۔‘‘ یعنی جب تم نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا ہوا ہو۔ شکار مارنے کی ممانعت، شکار مارنے کے مقدمات کی ممانعت کو بھی شامل ہے۔ جیسے شکار مارنے میں اشتراک، شکار کی نشاندہی کرنا اور شکار کرنے میں اعانت کرنا، احرام کی حالت میں سب ممنوع ہے۔ حتی کہ محرم کو وہ شکار کھانا بھی ممنوع ہے جو اس کی خاطر شکار کیا گیا ہو۔ یہ سب کچھ اس عظیم عبادت کی تعظیم کے لیے ہے کہ محرم کے لیے اس شکار کو مارنا حرام ہے جو احرام باندھنے سے پہلے تک اس کے لیے حلال تھا۔ ﴿ وَمَنۡ قَتَلَهٗ مِنۡكُمۡ مُّتَعَمِّدًا ﴾ ’’اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے۔‘‘ یعنی اس نے جان بوجھ کر شکار مارا ﴿ فَجَزَآءٌ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ ﴾ ’’تو اس پر بدلہ ہے اس مارے ہوئے کے برابر مویشی میں سے‘‘ یعنی اس پر لازم ہے کہ اونٹ، گائے اور بکری کا فدیہ دے۔ شکار کے بارے میں دیکھا جائے گا کہ وہ کس سے مشابہت رکھتا ہے تو اس جیسا مویشی ذبح کر کے صدقہ کیا جائے گا۔ اور مماثلت کی تعیین میں کس کا فیصلہ معتبر ہو گا؟ ﴿ يَحۡكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدۡلٍ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے دو عادل شخص اس کا فیصلہ کریں گے‘‘ یعنی دو عادل اشخاص جو فیصلہ کرنا جانتے ہوں اور وجہ مشابہت کی بھی معرفت رکھتے ہوں جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا۔ انھوں نے کبوتر کا شکار کرنے پر بکری، شتر مرغ کا شکار کرنے پر اونٹنی اور نیل گائے کی تمام اقسام پر گائے ذبح کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی طرح تمام جنگلی جانور جو مویشیوں میں کسی کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں تو فدیہ کے لیے وہی اس کے مماثل ہیں ۔ اگر کوئی مشابہت نہ ہو تو اس میں قیمت ہے۔ جیسا کہ تلف شدہ چیزوں میں قاعدہ ہے۔یہ بھی لازم ہے کہ یہ ہدی بیت اللہ پہنچے ﴿ هَدۡيًۢا بٰلِغَ الۡكَعۡبَةِ ﴾ ’’وہ جانور بطور قربانی پہنچایا جائے کعبے تک‘‘ یعنی اس کو حرم کے اندر ذبح کیا جائے ﴿ اَوۡ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِيۡنَ ﴾ ’’یا اس جزا کا کفارہ چند مساکین کو کھانا کھلانا ہے‘‘ یعنی مویشیوں میں سے مماثل کے مقابلے میں مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔ بہت سے علماء کہتے ہیں کہ جزا یوں پوری ہو گی کہ مماثل مویشی کی قیمت کے برابر غلہ وغیرہ خریدا جائے اور ہر مسکین کو ایک مد گیہوں یا گیہوں کے علاوہ کسی دوسری جنس میں سے نصف صاع دیا جائے ﴿ اَوۡ عَدۡلُ ذٰلِكَ ﴾ ’’یا اس کھانے کے بدل میں ‘‘ ﴿ صِيَامًا ﴾ ’’روزے رکھے۔‘‘ یعنی ایک مسکین کو کھانا کھلانے کے بدلے میں ایک روزہ رکھے ﴿ لِّيَذُوۡقَ ﴾ ’’تاکہ چکھے وہ‘‘ اس مذکورہ جزا کے وجوب کے ذریعے سے ﴿ وَبَالَ اَمۡرِهٖ ﴾ ’’سزا اپنے کام کی‘‘ ﴿وَمَنۡ عَادَ ﴾ ’’اور پھر جو کرے گا‘‘ یعنی اس کے بعد ﴿ فَيَنۡتَقِمُ اللّٰهُ مِنۡهُ١ؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا اور اللہ تعالیٰ غالب اور انتقام لینے والا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے جان بوجھ کر شکار مارنے پر اس کی سزا کی صراحت کی ہے باوجود اس بات کے کہ بدلہ تو ہر غلطی کا ضروری ہوتا ہے، چاہے اس کا مرتکب جان بوجھ کر کرے یا غلطی سے۔ جیسا کہ شرعی قاعدہ ہے کہ جان اور مال کو تلف کرنے والے پر ضمان لازم ہے خواہ کسی بھی حال میں اس سے یہ اتلاف صادر ہوا ہو۔ جبکہ یہ اتلاف ناحق ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر بدلہ اور انتقام مترتب کیا ہے اور یہ سب جان بوجھ کر کرنے والے کے لیے ہے۔ لیکن غلطی سے کرنے والے کے لیے سزا نہیں ہے، صرف بدلہ ہے۔ یہی جمہور علماء کی رائے ہے مگر صحیح وہی ہے جس کی آیت کریمہ نے تصریح کی ہے کہ جس طرح بغیر جانے بوجھے اور بغیر ارادے کے شکار مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں اسی طرح اس پر جزا بھی لازم نہیں ہے۔
[96] چونکہ شکار کا اطلاق بری اور بحری دونوں قسم کے شکار پر ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سمندری شکار کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ اُحِلَّ لَكُمۡ صَيۡدُ الۡبَحۡرِ وَطَعَامُهٗ ﴾ ’’احرام کی حالت میں تمھارے لیے سمندر کا شکار کرنا اور اس کا کھانا حلال ہے‘‘ اور ’’سمندر کے شکار‘‘ سے مراد سمندر کے زندہ جانور ہیں اور (طعام) ’’اس کے کھانے‘‘ سے مراد سمندر میں مرنے والے سمندری جانور ہیں ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرے ہوئے بحری جانور بھی حلال ہیں ۔ ﴿ مَتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِلسَّيَّارَةِ ﴾ ’’تمھارے فائدے کے لیے اور مسافروں کے لیے‘‘ یعنی اس کی اباحت میں تمھارے لیے فائدہ ہے تاکہ تم اور تمھارے وہ ساتھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں جو تمھارے ساتھ سفر کرتے ہیں ﴿ وَحُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ صَيۡدُ الۡـبَرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمًا ﴾ ’’اور جب تک تم احرام کی حالت میں ہو، تم پر خشکی (جنگل)کا شکار حرام ہے‘‘ یہاں لفظ ’’شکار‘‘ سے یہ مسئلہ اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ شکار کیا ہوا جانور جنگلی ہو۔ کیونکہ پالتو اور گھریلو جانور پر شکار کا اطلاق نہیں ہوتا۔ نیز یہ ایسا جانور ہو جس کا گوشت کھایا جاتا ہو کیونکہ جس جانور کا گوشت کھایا نہ جاتا ہو اس کو شکار نہیں کیا جاتا اور نہ اس پر ’’شکار‘‘ کا اطلاق ہی کیا جاتا ہے۔﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ﴾ ’’اور اس اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے اس پر عمل کر کے اور جس چیز سے روکا ہے اس کو ترک کر کے تقویٰ اختیار کرو۔ اور اپنے اس علم سے حصول تقویٰ میں مدد لو کہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے پاس اکٹھا کیا جائے گا اور وہ تمھیں اس بات کی جزا دے گا کہ آیا تم نے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کیا تھا۔ تب وہ تمھیں بہت زیادہ ثواب سے نوازے گا یا اگر تقویٰ کو اختیار نہیں کیا تب اس صورت میں وہ تمھیں سخت سزا دے گا۔