Tafsir As-Saadi
52:29 - 52:43

سو آپ نصیحت کریں، پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور نہ دیوانے(29) کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ (وہ پیغمبر)شاعر ہے، ہم انتظار کرتے ہیں اس کی بابت حوادث زمانہ (موت) کا (30) آپ کہہ دیجیے! تم انتظار کرو، پس بلاشبہ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (31)کیا حکم دیتی ہیں ان کو ان کی عقلیں اسی (بات) کا یا وہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ (32) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟بلکہ نہیں وہ ایمان لاتے (33) پس چاہیے کہ وہ لے آئیں ایک بات مثل اس (قرآن) کے، اگر ہیں وہ سچے (34) کیا پیدا کیے گئے ہیں وہ بغیر کسی چیز (خالق) کے یا وہی ہیں (خود) پیدا کرنے والے؟ (35) کیا انھوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟بلکہ نہیں وہ یقین رکھتے (36) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کے؟ یا وہ (ان کے) داروغے ہیں؟ (37) کیا ان کے لیے کوئی سیڑھی ہے کہ وہ سن لیتے ہیں اس پر (چڑھ کر)؟ پس چاہیے کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی دلیل واضح (38) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟(39) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی معاوضہ، پس وہ (اس کے) تاوان سے بوجھل ہیں؟ (40) یا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ لکھتے ہیں؟ (41) کیا وہ ارادہ کرتے ہیں کسی فریب کا؟ پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہی ہیں فریب خوردہ (42) کیا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے سوائے اللہ کے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (43)

[29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ﴾ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ﴾ ’’کاہن‘‘ جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍ﴾ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔
[30] اور کبھی کبھی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾ ’’شاعر ہے۔‘‘ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾(یٰسین:36؍69) ’’ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔‘‘ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيۡبَ الۡمَنُوۡنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔
[31]﴿قُلۡ﴾ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوۡا﴾ یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِيۡنَ﴾ ’’پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔
[32]﴿ اَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰؔذَاۤ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان کا آپ کو یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں، ان کی عقل و خردسے صادر ہوئی ہیں؟ کتنی بری ہے ان کی عقل و خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو کذب اور باطل قرار دیا، ایسی (فاسد) عقلوں سے تو مجانین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں، جہاں آ کر رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول و فعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔
[33]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) نے خود ہی یہ (قرآن )گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلۡ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔
[34]﴿ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّؔثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد (ﷺ) نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔
[35]﴿ اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ﴾ ’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے آپ کو )پیدا کرنے والے ہیں‘‘ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہیں یا ان کا عقل و دین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہو جائے گا ۔۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء و رسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔(۱)ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے ، یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو۔ بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔(۲)انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔(۳) جب مذکورہ بالا دونوں امور باطل ہو گئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہو گیا تو تیسری بات متعین ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہو گئی تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔
[36]﴿ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟‘‘ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلۡ لَّا يُوۡقِنُوۡنَ﴾ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔
[37]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾(الزحزف:43؍32) ’’کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔‘‘ ﴿ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔
[38]﴿ اَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ﴾ ’’کیا ان کے پاس سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں۔‘‘ یعنی کیا انھیں غیب کا علم ہے اور وہ ملأاعلیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنھیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ ﴾ ’’پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔‘‘ یعنی ملأ ا علیٰ کی باتیں سننے کا دعوے دار ﴿ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کوئی صریح دلیل‘‘ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے، وہ کسی پر غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے، جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو، وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جبکہ محمد مصطفیﷺ، رسولوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں، اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی اور عناد میں مبتلا ہیں، تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جبکہ رسول اللہ ﷺ نے جن امور کی خبر دی ہے، ان پر دلائل و براہین قائم ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے۔ ان کا اپنے دعوے (انبیاء کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کر سکتے۔
[39]﴿ اَمۡ لَهُ الۡبَنٰتُ﴾ ’’یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟‘‘ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾’’اور تمھارے لیے بیٹے‘‘ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو ، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟
[40]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ﴾ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجۡرًا﴾ تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔
[41]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ﴾ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہﷺ کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفیﷺ ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔
[42]﴿ اَمۡ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ کیا وہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح و قدح کر کے ﴿ كَيۡدًا﴾ کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں؟ ﴿ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هُمُ الۡمَكِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ وللہ الحمد. کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت و اختیارمیں تھی، انھوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا، اپنے دین کو غالب فرمایا، ان کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑا اور ان سے انتقام لیا۔
[43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ﴾ یعنی کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے، جسے پکارا جائے اس سے کسی نفع کی امید رکھی جائے اور اس کے ضرر سے ڈرا جائے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وحدانیت اور عبودیت میں۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر کلام لایا گیا اور وہ ہے قطعی دلائل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ہستی کی عبادت کا بطلان اور اس کے فاسد ہونے کا بیان۔ جس موقف پر مشرکین قائم ہیں وہ باطل ہے۔ وہ ہستی جس کی عبادت کی جانی چاہیے، جس کے لیے نماز پڑھنی چاہیے، جس کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے، دعا ، یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو اسی کے لیے خالص کرنا چاہیے، وہ اللہ تعالیٰ معبود حقیقی کی ہستی ہے، جو اسماء و صفات میں کامل، بے شمار نعوت حسنہ اور افعال جمیلہ کا مالک، صاحب جلال و اکرام، قوت و غلبہ کا مالک، جس کو مغلوب کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو اکیلا، یکتا، متفرد، بے نیاز، بہت بڑا، قابل حمد و ثنا اور مالک مجد و جلال ہے۔