Tafsir As-Saadi
57:20 - 57:21

تم جان لو ! یقیناً حیات دنیا کھیل ہے اور تماشہ ہے اور زینت ہے اور فخر کرنا ہے آپس میں اور ایک دوسرے پر کثرت جتلانا ہے مالوں اور اولاد میں، مانند بارش کے کہ خوش لگتا ہے کسانوں کو سبزہ اس کا ، پھر وہ خشک ہو جاتا ہے پس آپ دیکھتے ہیں اس کو زرد شدہ، پھر ہو جاتا ہے وہ چورا چورا اور آخرت میں عذاب ہے بہت سخت اور مغفرت ہے اللہ کی طرف سے اور رضا مندی اور نہیں زندگانی ٔ دنیا مگر سامان دھوکے کا (20) دوڑو تم مغفرت کی طرف اپنے رب کی اور اس جنت کی (طرف) کہ اس کی چوڑائی ہے مانند چوڑائی آسمان اور زمین کے وہ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے، یہ ہے فضل اللہ کا، وہ دیتا ہے یہ جسے چاہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے (21)

[20] اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا اور ان کے امور کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن پر دنیا کا دارومدار ہے، نیز دنیا اور دنیا والوں کی غایت و انتہا بیان فرماتا ہے۔ دنیا بس لہو و لعب ہے، جس کے ساتھ بدن کھیلتے ہیں اور اس کی وجہ سے قلب غافل ہوتے ہیں۔ جو کچھ دنیا میں موجود ہے اور ابنائے دنیا سے جو کچھ واقع ہوتا ہے وہ اس کا مصداق ہے۔ آپ ابنائے دنیا کو پائیں گے کہ انھوں نے اپنی عمر کے اوقات کو غفلت قلب میں صرف کیا اور وہ ذکر الٰہی اور آئندہ پیش آنے والے وعد و وعید سے غافل رہے۔ آپ اہل بیدار اور آخرت کے لیے عمل کرنے والوں کو ان کے برعکس دیکھیں گے ، کیونکہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی معرفت اور اس کی محبت سے معمور ہیں۔ وہ اپنے اوقات کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والے ایسے اعمال میں صرف کرتے ہیں جن کا فائدہ صرف ان کو پہنچتا ہے یا دوسروں کو بھی پہنچتا ہے ۔اورفرمایا:﴿ وَّزِيۡنَةٌ﴾ یعنی لباس، مشروبات، سواریوں، گھروں، محلات اور دنیاوی جاہ وغیرہ کے ذریعے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے۔ ﴿ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيۡنَكُمۡ﴾ ’’اور آپس میں فخر کرنا ہے۔‘‘ یعنی ان چیزوں کو رکھنے کے لیے ہر شخص دوسرے پر فخر کا اظہار کرنا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ان امور میں وہی غالب رہے اور ان احوال میں بس اسی کو شہرت حاصل رہے۔ ﴿ وَتَكَاثُرٌ فِي الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِ﴾ یعنی ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ وہ مال اور اولاد میں دوسروں سے بڑھ کر ہو۔ دنیا سے محبت کرنے والے اور اس پر مطمئن رہنے والے اس کا مصداق ہیں۔ اس کے برعکس وہ شخص جو دنیا اور اس کی حقیقت کو جانتا ہے، وہ اسے مستقل ٹھکانا نہیں بناتا بلکہ اسے گزرگاہ خیال کرتا ہے، وہ ایسے اعمال میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور ایسے وسائل اختیار کرتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہیں۔ جب وہ کسی ایسے شخص کو دیکھتا ہے جو اس کے ساتھ دنیا، مال و متاع اور اولاد کی کثرت میں مقابلہ کرتا ہے تو یہ اعمال صالحہ میں اس کا مقابلہ کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس دنیائے فانی کے لیے بارش کی مثال دی ہے، جو زمین پر برستی ہے اور اس کی نباتات کو سیراب کرتی ہے جس سے لوگ اور مویشی اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں، یہاں تک کہ جب زمین پوری طرح لہلہانے لگتی ہے اور اس کی نباتات کفار کو بھلی لگتی ہے جن کی نظر و ہمت صرف دنیا ہی پر مرکوز ہوتی ہے تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم آ جاتا ہے جو اسے ہلاک کر دیتا ہے ۔یہ نباتات خشک ہو کر اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جاتی ہے، گویا کہ وہاں کبھی ہریالی اگی ہی نہیں تھی اور نہ وہاں کبھی کوئی خوبصورت منظر ہی دیکھا گیا تھا۔یہی حال اس دنیا کا ہے۔ یہ اپنے چاہنے والے کے لیے نہایت خوش نما اور خوبصورت ہوتی ہے۔ وہ جب بھی اس دنیا میں سے اپنا مطلوب حاصل کرنا چاہتا ہے، حاصل کر لیتا ہے اور جب بھی وہ کسی دنیاوی معاملے کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کے دروازوں کو کھلا ہوا پاتا ہے۔ جب تقدیر نے اس کو آ لیا اور اس سے وہ سب کچھ چھین لیا جو اس کے ہاتھ میں تھا، اور اس پر سے اس کے تسلط کو زائل کر دیا یا اسے خوشنما دنیا سے دور کر دیا اور وہ اس دنیا سے خالی ہاتھ روانہ ہوا اور کفن کے سوا اس کے پاس کوئی زاد راہ نہ تھا۔ پس ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جس کی آرزو کی انتہا یہ دنیا ہے اور اسی کے لیے اس کے اعمال اور اس کی بھاگ دوڑ تھی۔رہا وہ عمل جو آخرت کے لیے کیا جاتا ہے تو یہی وہ عمل ہے جو فائدہ دیتا ہے اور عمل کرنے والے کے لیے ذخیرہ کر دیا جاتا ہے اور ہمیشہ بندے کے ساتھ رہتا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَفِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ١ۙ وَّمَغۡفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانٌ﴾ ’’اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے۔‘‘ یعنی آخرت کا حال ان دو امور سے خالی نہیں۔اولاً: تو اس شخص کے لیے جہنم کی آگ میں سخت عذاب، جہنم کی بیڑیاں اور زنجیریں اور اس کی ہولناکیاں ہوں گی جس کی غایت مقصود اور منتہائے مطلوب محض دنیا ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کرتا ہے، آیات الٰہی کو جھٹلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی کرتا ہے۔ثانیاً: یا اس شخص کے لیے گناہوں کی بخشش، عقوبتوں کا ازالہ اور دار رضوان میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہو گی، یہ سب اس شخص کے لیے ہے جس نے دنیا کی حقیقت کو پہچان لیا اور اس نے آخرت کے لے بھرپور کوشش کی۔یہ سب کچھ دنیا میں زہد اور آخرت میں رغبت کی دعوت دیتا ہے، اس لیے فرمایا :﴿ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ﴾ ’’اور دنیا کی زندگی تو محض متاع فریب ہے۔‘‘ یعنی یہ صرف ایسی متاع ہے جس سے فائدہ اٹھایا جاتا اور اس سے ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں، اس کی وجہ سے فریب میں صرف وہی لوگ مبتلا ہوتے اور اس پر مطمئن رہتے ہیں جو ضعیف العقل ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں شیطان نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔
[21] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو مغفرت، رضا اور جنت کی طرف مسابقت کا حکم دیا ہے اور یہ چیز مغفرت کے اسباب کے لیے کوشش کرنے، یعنی خالص توبہ اور نفع مند استغفار کرنے، گناہ اور گناہ کے اسباب سے دور رہنے ہی سے ممکن ہے، نیز عمل صالح کے ذریعے سے اللہ کی رضا کی طرف سبقت، ان امور پر دوام کی حرص کرنے سے ممکن ہے جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے ، یعنی خالق کی عبادت میں احسان اور مخلوق کو ہر لحاظ سے فائدہ پہنچا کر ان کے ساتھ حسن سلوک کے ذریعے سے ہی یہ چیز حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کا ذکر فرمایا جو اس کے موجب ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ﴾ ’’اور جنت جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے۔ جو ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان میں دین کے تمام اصول و فروع داخل ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ یعنی ہم نے تمھارے سامنے جو کچھ بیان کیا ہے اور جنت تک پہنچانے والے طریقوں اور جہنم میں گرانے والے جن راستوں کی نشاندہی کی ہے، وہ سب اللہ کا فضل ہے، نیز اللہ تعالیٰ کا اجر عظیم اور ثواب جمیل، اس کا اپنے بندوں پر سب سے بڑا احسان اور فضل و کرم ہے ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘جس کی ثنا کو کوئی شمار نہیں کر سکتا بلکہ وہ اسی طرح ہے جس طرح اس نے خود اپنی ثنا بیان کی، اس کے بندوں میں سے جو کوئی اس کی ثنا بیان کرتا ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔