اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی آیت ان کے رب کی آیات سے مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے(4) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے حق کو جب آیا ان کے پاس، سو عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ اس کے ساتھ استہزا کرتے(5) کیا نہیں دیکھا انھوں نے کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے ایسی امتیں کہ طاقت دی تھی ہم نے ان کو زمین میں ، وہ جو نہیں طاقت دی ہم نے تمھیں اور بھیجی ہم نے بارش اوپر ان کے موسلا دھاراور بنائیں ہم نے نہریں کہ وہ بہتی تھیں ان کے (گھر کے) نیچے سے ، پھر ہلاک کر دیا ہم نے انھیں بوجہ ان کے گناہوں کےاور پیدا کیں ہم نے ان کے بعد امتیں اور(6)
[4] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشرکین کے اعراض، ان کی شدت تکذیب اور ان کی عداوت کے بارے میں خبر ہے۔ نیز یہ کہ آیات و معجزات انھیں کوئی فائدہ نہیں دیں گے جب تک کہ ان پر عبرتناک عذاب نازل نہ ہو جائے، چنانچہ فرمایا:﴿وَمَا تَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ مِّنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے‘‘ جو حق پر دلیل قطعی ہیں جو حق کے قبول کرنے اور اس کی اتباع کرنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر وہ اس سے اعراض کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ ان آیات کو غور سے سنتے نہیں اور ان میں تدبر نہیں کرتے ان کے دل دوسرے امور میں مصروف ہیں اور انھوں نے پیٹھ پھیر لی ہے۔
[5]﴿ فَقَدۡ كَذَّبُوۡا بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَؔهُمۡ ﴾ ’’انھوں نے حق کو جھٹلایا جب ان کے پاس آیا‘‘ حالانکہ حق اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اور اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے ان کے لیے حق کو آسان کر دیا اور وہ ان کے پاس حق لے کر آیا مگر انھوں نے اس حق کا سامنا اس رویہ کے برعکس رویے کے ساتھ کیا جس رویے کے ساتھ انھیں اس کا سامنا کرنا چاہیے تھا۔ اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ ﴿فَسَوۡفَ يَاۡتِيۡهِمۡ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَؔ ﴾ ’’سو اب آئی جاتی ہے ان کے پاس حقیقت اس بات کی جس پر وہ ہنستے تھے‘‘ یعنی وہ چیز جس کا تمسخر اڑایا کرتے تھے اس کے بارے میں عنقریب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ حق اور سچ ہے، اللہ تعالیٰ جھٹلانے والوں کے جھوٹ اور بہتان کو کھول دے گا۔ یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جانے، جنت اور جہنم کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ قیامت کے روز ان جھٹلانے والوں سے کہا جائے گا ﴿ هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾(الطور: 52؍14) ’’یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘﴿ وَاَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ١ۙ لَا يَبۡعَثُ اللّٰهُ مَنۡ يَّمُوۡتُ١ؕ بَلٰى وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقًّا وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَؔۙ۰۰لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيۡ يَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰذِبِيۡنَ﴾(النحل: 16؍38،39) ’’اور اللہ کی سخت قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ جو مر جاتا ہے اللہ اسے دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا۔ کیوں نہیں یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ تاکہ جن باتوں میں یہ لوگ اختلاف کرتے تھے ان پر ظاہر کر دے اور اس لیے بھی کہ کافروں کو معلوم ہو جائے کہ وہ جھوٹے تھے۔‘‘
[6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ امم سابقہ کے انجام سے عبرت پکڑیں چنانچہ فرمایا: ﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا كَمۡ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے جھٹلانے والی کتنی ہی قوموں کو پے در پے ہلاک کر دیا؟‘‘ اور اس ہلاکت سے پہلے ہم نے انھیں مہلت دی ﴿ مَّؔكَّـنّٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَؔكِّنۡ لَّـكُمۡ ﴾ ’’ہم نے ان کو زمین میں وہ قوت و طاقت دی جو تمھیں ہم نے نہیں دی‘‘ یعنی ہم نے انھیں مال، اولاد اور خوشحالی سے نوازا ﴿وَاَرۡسَلۡنَا السَّمَآءَؔ عَلَيۡهِمۡ مِّؔدۡرَارًا١۪ وَّجَعَلۡنَا الۡاَنۡهٰرَ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهِمۡ ﴾ ’’اور چھوڑ دیا ہم نے ان پر آسمان کو لگاتار برستا ہوا اور بنا دیں ہم نے نہریں بہتی ہوئی ان کے نیچے‘‘ پھر اللہ تعالیٰ جو چاہتا اس پانی سے کھیتیاں اور پھل اگتے تھے جن سے وہ لوگ فائدہ اٹھاتے تھے اور جو دل چاہتا تھا تناول کرتے تھے۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا، شہوات نے ان کو اپنی گرفت میں لے لیا اور لذات نے ان کو غافل کر دیا۔ پس ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ ان کے پاس آئے مگر انھوں نے ان کی تصدیق نہ کی بلکہ ان کو ٹھکرا دیا اور ان کو جھٹلا دیا ﴿ فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ۠ بِذُنُوۡبِهِمۡ وَاَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کر دیا اور پیدا کیا ہم نے ان کے بعد دوسری امتوں کو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا پھر ان کے بعد اس نے اور قومیں پیدا کر دیں ۔ گزری ہوئی اور آنے والی قوموں کے بارے میں یہی اللہ تعالیٰ کی سنت ہے پس اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے ان کا جو قصہ بیان کیا ہے اس سے عبرت پکڑو۔