Tafsir As-Saadi
6:1 - 6:2

تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہے جس نے پیدا کیے آسمان و زمین اور بنائے اندھیرے اور روشنی، پھر وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اپنے رب کے ساتھ (اوروں کو) برابر ٹھہراتے ہیں (1) اسی نے پیدا کیا تمھیں مٹی سے، پھر مقرر کیا اس نے ایک وقت اور ایک وقت معین ہے اس کے ہاں (قیامت کا)، پھر (بھی) تم شک کرتے ہو(2)

[1] یہ صفات کمال اور نعوت عظمت و جلال کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عمومی حمد و ثنا اور ان صفات کے ذریعے سے اس کی خصوصی حمد و ثنا ہے، چنانچہ اس نے اس امر پر اپنی حمد و ثنا بیان کی ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا۔ جو اس کی قدرت کاملہ، وسیع علم و رحمت، حکمت عامہ اور خلق و تدبیر میں اس کی انفرادیت پر دلالت کرتی ہے، نیز اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ اس نے تاریکیوں اور روشنی کو پیدا کیا۔ اور اس میں حسی اندھیرے اور اجالے بھی شامل ہیں ، جیسے رات، دن، سورج اور چاند وغیرہ اور معنوی اندھیرے اجالے بھی، مثلاً: جہالت، شک، شرک، معصیت اور غفلت کے اندھیرے اور علم، ایمان، یقین اور اطاعت کے اجالے۔ یہ تمام امور قطعی طور پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی عبادت اور اخلاص کا مستحق ہے مگر اس روشن دلیل اور واضح برہان کے باوجود ﴿ثُمَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’پھر وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اپنے رب کے ساتھ اوروں کو برابر کیے دیتے ہیں ‘‘ غیروں کو اللہ کے برابر قرار دیتے ہیں ۔ وہ انھیں عبادت اور تعظیم میں اللہ تعالیٰ کے مساوی قرار دیتے ہیں اگرچہ وہ کمالات میں ان کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر نہیں سمجھتے اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ہستیاں ہر لحاظ سے محتاج، فقیر اور ناقص ہیں ۔
[2]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’وہی ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا‘‘ یعنی تمھارا اور تمھارے باپ کا مادہ مٹی سے تخلیق کیا گیا ہے ﴿ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا ﴾ ’’پھر ایک مدت مقرر کر دی‘‘ یعنی اس دنیا میں رہنے کے لیے تمھارے لیے ایک مدت مقرر کر دی اس مدت میں تم اس دنیا سے فائدہ اٹھاتے ہو اور رسول بھیج کر تمھارا امتحان لیا جاتا ہے اور تمھاری آزمائش کی جاتی ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّؔكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ﴾(الملک: 67؍2) ’’تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاَجَلٌ مُّسَمًّى عِنۡدَهٗ ﴾ ’’اور ایک مدت مقرر ہے اللہ کے نزدیک‘‘ اس مدت مقررہ سے مراد آخرت ہے، بندے اس دنیا سے آخرت میں منتقل ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا ﴿ ثُمَّ ﴾ پھر اس کامل بیان اور دلیل قاطع کے باوجود ﴿اَنۡتُمۡ تَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’تم شک کرتے ہو‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے وعد و وعید اور قیامت کے دن جزا و سزا کے وقوع کا انکار کرتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اندھیروں ﴿الظُّلُمَاتِ﴾ کو ان کے کثرت مواد اور ان کے تنوع کی بنا پر جمع کے صیغے میں بیان فرمایا ہے اور اجالے ﴿النُّوۡرَ﴾ کو واحد استعمال کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا راستہ ایک ہی ہوتا ہے، اس میں تعدد نہیں ہوتا اور یہ وہ راستہ ہے جو حق، علم اور اس پر عمل کو متضمن ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنَّ هٰؔذَا صِرَاطِيۡ مُسۡتَقِيۡمًا فَاتَّبِعُوۡهُ١ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ ﴾(الانعام: 6؍153) ’’اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے اور تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو ورنہ تم اللہ کے راستے سے الگ ہو جاؤ گے۔‘‘