اور اسی کا ہے جو سکون کرتا ہے رات اور دن میں (اور جو حرکت کرتا ہے) اور وہ سننے جاننے والا ہے(13) کہہ دیجیے! کیا سوائے اللہ کے بنا لوں میں معبود؟ پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کااور وہ (سب کو) کھلاتا ہے اور (اسے) نہیں کھلایا جاتا، کہہ دیجیے! بے شک مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ہو جاؤں میں پہلا وہ جو اسلام لایااور نہ ہوں آپ مشرکین میں سے(14) کہہ دیجیے! بے شک میں خوف کرتا ہوں ، اگر نافرمانی کی میں نے اپنے رب کی، عذاب سے ایک بہت بڑے دن کی(15) جو شخص کہ ہٹا لیا گیا (عذاب) اس سے اس دن تو یقینا رحم کر دیا اس پر اس (اللہ) نےاور یہی ہے کامیابی ظاہر(16) اور اگر پہنچائے آپ کو اللہ کوئی تکلیف تو نہیں کوئی دور کرنے والا اسے مگر وہی اور اگر پہنچائے وہ آپ کو کوئی بھلائی تو وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(17) اور وہ غالب ہے اوپر اپنے بندوں کےاور وہی ہے خوب حکمت والا خبردار(18) کہیے! کون سی چیز زیادہ بڑی ہے شہادت کے اعتبار سے؟ کہہ دیجیے! اللہ ہی، گواہ ہے میرے اور تمھارے درمیان اور وحی کیا گیا ہے میری طرف یہ قرآن تاکہ ڈراؤں میں تمھیں اس کے ذریعے سےاور جس کو یہ پہنچے، کیا تم شہادت دیتے ہو کہ یقینا اللہ کے ساتھ معبود ہیں دوسرے (بھی)؟ کہہ دیجیے! نہیں شہادت دیتا میں ، کہہ دیجیے! بس وہ تو ایک ہی معبود ہےاور یقینا میں بری ہوں اس سے جو تم شریک ٹھہراتے ہو(19) وہ لوگ کہ دی ہم نے انھیں کتاب، پہچانتے ہیں وہ اسے، جس طرح پہچانتے ہیں وہ اپنے بیٹوں کو، وہ لوگ جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو تو وہ نہیں ایمان لاتے(20)
[13] چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَهٗ مَا سَكَنَ فِي الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ ﴾ ’’اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں ‘‘ یہ جن و انس، فرشتے، حیوانات اور جمادات سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں ۔ یہ سب اللہ کی تدبیر کے تحت ہیں یہ سب اللہ کے غلام ہیں جو اپنے رب عظیم اور مالک قاہر کے سامنے مسخر ہیں ۔۔۔ کیا عقل و نقل کے اعتبار سے یہ بات صحیح ہے کہ ان غلام اور مملوک ہستیوں کی عبادت کی جائے جو کسی نفع و نقصان پر قادر نہیں اور خالق کائنات کے لیے اخلاص کو ترک کر دیا جائے جو کائنات کی تدبیر کرتا ، اس کا مالک اور نفع و نقصان کا اختیار رکھتا ہے؟ یا عقل سلیم اور فطرت مستقیم اس بات کی داعی ہے کہ اللہ رب العالمین کے لیے ہرقسم کی عبادت کو خالص کیا جائے، محبت، خوف اور امید صرف اسی سے ہو؟ ﴿ وَهُوَ السَّمِيۡعُ﴾ ’’وہ سنتا ہے۔‘‘ اختلاف لغات اور تنوع حاجات کے باوجود وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے ﴿الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’وہ جانتا ہے۔‘‘ وہ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جو تھیں اور جو مستقبل میں ہوں گی اور ان کو بھی جانتا ہے جو نہ تھیں کہ اگر وہ ہوتیں تو کیسی ہوتیں ، اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن ہر چیز کی اطلاع رکھتا ہے۔
[14]﴿قُلۡ﴾ ’’کہہ دیجیے۔‘‘ یعنی آپ اللہ تعالیٰ سے شرک کرنے والوں سے کہہ دیجیے ﴿ قُلۡ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَتَّؔخِذُ وَلِيًّا﴾ ’’کیا اللہ کے سوا کسی اور کو میں مددگار بناؤں ؟‘‘ ان عاجز مخلوقات میں سے کون میرا سرپرست و مددگار بنے گا؟ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا والی اور مددگار نہیں بناتا کیونکہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا مالک ہے یعنی ان کا خالق اور ان کی تدبیر کرنے والا ہے ﴿ وَهُوَ يُطۡعِمُ وَلَا يُطۡعَمُ ﴾ ’’وہ سب کو کھلاتا ہے، اسے کوئی نہیں کھلاتا‘‘ یعنی وہ تمام مخلوقات کو رزق عطا کرتا ہے بغیر اس کے کہ اس کو ان میں سے کسی کے پاس کوئی حاجت ہو۔ تب یہ کیسے مناسب ہے کہ میں کسی ایسی ہستی کو اپنا والی بنا لوں جو پیدا کرنے والی ہے نہ رزق عطا کرنے والی، جو بے نیاز ہے نہ قابل تعریف۔ ﴿ قُلۡ اِنِّيۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَسۡلَمَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے حکم مانوں ‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی اطاعت کے ساتھ اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دوں ۔ کیونکہ میں ہی سب سے زیادہ اس بات کا مستحق ہوں کہ اپنے رب کے احکام کی اطاعت کروں ﴿ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ‘‘ یعنی مجھے اس بات سے بھی روک دیا گیا ہے کہ میں مشرکوں میں شامل ہوں ، یعنی ان کے اعتقادات میں ، نہ ان کے ساتھ مجالست میں اور نہ ان کے ساتھ اجتماع میں ۔ اور یہ حکم میرے لیے سب سے بڑا فرض اور سب سے بڑا واجب ہے۔
[15]﴿ قُلۡ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّيۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے، میں ڈرتا ہوں ، اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی، بڑے دن کے عذاب سے‘‘ کیونکہ شرک ہمیشہ جہنم میں رہنے اور اللہ جبار کی ناراضی کا موجب ہے۔
[16] اور یوم عظیم سے مراد وہ دن ہے جس کے عذاب سے خوف کھایا جاتا ہے اور اس کی سزا سے بچا جاتا ہے کیونکہ جو اس روز عذاب سے بچا لیا گیا وہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں ہو گا اور جس نے اس عذاب سے نجات پا لی وہی درحقیقت کامیاب ہے جیسے جس کو اس دن کے عذاب سے نجات نہ ملی تو وہ بدبخت ہلاک ہونے والا ہے۔
[17] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی توحید کے دلائل ہیں کہ صرف وہی ایک ہستی ہے جو تکلیفوں کو دور کرتی ہے اور صرف وہی ہے جو بھلائی اور خوشحالی عطا کرتی ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّمۡسَسۡكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ ﴾ ’’اور اگر اللہ تم کو کوئی سختی پہنچائے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تجھے کسی فقر، مرض، عسرت یا غم و ہموم وغیرہ میں مبتلا کر دے ﴿فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَاِنۡ يَّمۡسَسۡكَ بِخَيۡرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’تو اسے کو ئی دور کرنے والا نہیں ، سوائے اسکے اور اگر پہنچائے وہ تجھ کو کوئی بھلائی تو وہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ پس جب وہی اکیلا نفع و نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے تو وہی اکیلا عبودیت و الوہیت کا بھی مستحق ہے۔
[18]﴿ وَهُوَ الۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهٖ ﴾ ’’اور وہ غالب ہے اپنے بندوں پر‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف کر سکتا ہے نہ کوئی حرکت کرنے والا حرکت کر سکتا ہے اور نہ اس کی مشیت کے بغیر کوئی ساکن ہو سکتا ہے۔ مملوک کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس کی ملکیت اور تسلط سے نکل سکے، وہ اللہ کے سامنے مغلوب و مقہور اور اس کے دائرۂ تدبیر میں ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ غالب و قاہر ہے اور دوسرے مغلوب و مقہور تو ظاہر ہوا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے ﴿وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ دانا ہے۔‘‘ وہ اپنے اوامر و نواہی ، ثواب و عقاب اور خلق و قدر میں حکمت سے کام لیتا ہے ﴿ الۡخَبِيۡرُ ﴾ ’’خبردار ہے۔‘‘ وہ اسرار و ضمائر اور تمام مخفی امور کی اطلاع رکھتا ہے اور یہ سب توحید الٰہی کے دلائل ہیں ۔
[19]﴿ قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے۔‘‘ چونکہ ہم نے ان کے سامنے ہدایت کو بیان کر دیا اور سیدھی راہوں کو واضح کر دیا ہے اس لیے ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَيُّ شَيۡءٍ اَكۡبَرُ شَهَادَةً ﴾ ’’سب سے بڑھ کر کس کی شہادت ہے۔‘‘ یعنی اس اصول عظیم کے بارے میں کون سی شہادت سب سے بڑی شہادت ہے ﴿ قُلِ اللّٰهُ ﴾ کہہ دیجیے اللہ تعالیٰ کی شہادت سب سے بڑی شہادت ہے ﴿ شَهِيۡدٌۢ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَؔكُمۡ ﴾ ’’وہ گواہ ہے میرے اور تمھارے درمیان‘‘ پس اس سے بڑا کوئی شاہد نہیں ، وہ اپنے اقرار و فعل کے ذریعے سے میری گواہی دیتا ہے، میں جو کچھ کہتا ہوں ، اللہ تعالیٰ اس کو متحقق کر دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَيۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِۙ۰۰لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِ۰۰ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾(الحاقہ: 69؍44۔46) ’’اگر یہ ہمارے بارے میں کوئی جھوٹ گھڑتا تو ہم اس کو داہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ قادر اور حکمت والا ہے اس کی حکمت اور قدرت کے لائق نہیں کہ ایسے جھوٹے شخص کو برقرار رکھے جو یہ دعویٰ کرے کہ وہ اللہ کا رسول ہے حالانکہ وہ اللہ کا رسول نہ ہو اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان لوگوں کو دعوت دینے کا حکم دیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی حکم نہ دیا ہو اور یہ کہ جو اس کی مخالفت کریں گے، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ان کا خون، ان کا مال اور ان کی عورتیں مباح کر دی ہیں ۔ اس فریب کاری کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے اقرار و فعل کے ذریعے سے اس کی تصدیق کرے، وہ جو کچھ کرے معجزات باہرہ اور آیات ظاہرہ کے ذریعے سے اس کی تائید کرے اور اسے فتح و نصرت سے نوازے جو اس کی مخالفت کرے اور اس سے عداوت رکھے، اسے اپنی نصرت سے محروم کر دے۔ پس اس گواہی سے بڑی کون سی گواہی ہے؟ ﴿ وَاُوۡحِيَ اِلَيَّ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَؔكُمۡ بِهٖ وَمَنۢۡ بَلَغَ ﴾ ’’اور اتارا گیا میری طرف قرآن تاکہ ڈراؤں میں تم کو اس کے ساتھ اور جس کو یہ پہنچے‘‘ یعنی تمھارے فائدے اور تمھارے مصالح کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن میری طرف وحی کیا ہے تاکہ میں تمھیں دردناک عذاب سے ڈراؤں ۔ (اِنْذَار) یہ ہے کہ جس چیز سے ڈرانا مقصود ہو، اسے بیان کیا جائے۔ جیسے ترغیب و ترہیب، اعمال اور اقوال ظاہرہ و باطنہ۔ جو کوئی ان کو قائم کرتا ہے وہ گویا انذار کو قبول کرتا ہے۔ پس اے مخاطبین یہ قرآن تمھیں اور ان تمام لوگوں کو جن کے پاس، قیامت تک یہ پہنچے گا، برے انجام سے ڈراتا ہے۔ کیونکہ قرآن میں ان تمام مطالب الہیہ کا بیان موجود ہے جن کا انسان محتاج ہے۔
[20] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر اپنی گواہی کا ذکر فرمایا جو سب سے بڑی گواہی ہے تو اپنے رسولﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی خبر کی مخالفت کرنے والوں اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں سے کہہ دیجیے ﴿اَىِٕنَّـكُمۡ لَتَشۡهَدُوۡنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخۡرٰى١ؕ قُلۡ لَّاۤ اَشۡهَدُ ﴾ ’’کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور بھی معبود ہیں ، کہہ دیجیے! میں تو گواہی نہیں دیتا‘‘ یعنی اگر وہ گواہی دیں تو ان کے ساتھ گواہی مت دیجیے۔ پس اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے لاشریک ہونے پر ایک طرف اللہ کی گواہی ہے جو سب سے زیادہ سچا اور تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور اسی طرح مخلوق میں سے پاکیزہ ترین ہستی (آخری رسول) کی گواہی ہے جس کی تائید میں قطعی دلائل اور روشن براہین ہیں اور دوسری طرف مشرکین کی شہادت ہے جن کی عقل اور دین خلط ملط ہو گئے ہیں جن کی آراء اور اخلاق خرابی کا شکار ہو گئے ہیں اور جنھوں نے عقل مندوں کو اپنے آپ پر ہنسنے کا موقع فراہم کیا ہے، ان دونوں شہادتوں کے درمیان موازنہ کیا جائے۔ بلکہ ان مشرکین کی گواہی تو خود ان کی اپنی فطرت کے خلاف ہے اور ان کے اقوال اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے خداؤں کے اثبات کے بارے میں متناقض ہیں ۔ بایں ہمہ جس چیز کی وہ مخالفت کرتے ہیں اس کے خلاف دلائل تو کجا ایک ادنیٰ سا شبہ بھی وارد نہیں ہو سکتا۔ اگر تو سمجھ بوجھ رکھتا ہے تو اپنے لیے ان دونوں میں سے کوئی سی گواہی چن لے۔ ہم تو اپنے لیے وہی چیز اختیار کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کے لیے اختیار کی ہے اور اس کی پیروی کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا ﴿قُلۡ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ صرف وہی ایک معبود ہے۔‘‘ یعنی وہ اکیلا معبود ہے اور اس کے سوا کوئی عبودیت اور الوہیت کا مستحق نہیں ، جیسے وہ تخلیق و تدبیر میں منفرد ہے ﴿ وَّاِنَّنِيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّا تُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’اور میں بیزار ہوں تمھارے شرک سے‘‘ یعنی تم جن بتوں اور دیگر خداؤں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہو اور وہ تمام چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا جاتا ہے۔ میں ان سے براء ت کا اظہار کرتا ہوں ۔ یہ ہے توحید کی حقیقت، یعنی اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک سے اس کی نفی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر اپنی اور اپنے رسول کی شہادت کا ذکر فرمایا اور اس کے برعکس مشرکین کی شہادت کا بھی ذکر کیا جن کے پاس کوئی علم نہیں۔ تو اہل کتاب میں سے یہود و نصاریٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ يَعۡرِفُوۡنَهٗ ﴾ ’’وہ پہچانتے ہیں اسے‘‘ یعنی وہ توحید کی صحت کو جانتے ہیں ﴿ كَمَا يَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَهُمۡ ﴾ ’’جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ‘‘ یعنی اس کی صحت میں ان کے ہاں کسی بھی پہلو سے کوئی شک نہیں جیسے انھیں اپنی اولاد کے بارے میں کوئی اشتباہ واقع نہیں ہوتا، خاص طور پر وہ بیٹے جو غالب طور پر اپنے باپ کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر رسول اللہﷺ کی طرف لوٹتی ہو تب اس کے معنی ہوں گے کہ آپﷺ کی رسالت کے حق ہونے میں اہل کتاب کو کوئی اشتباہ تھا نہ کوئی شک۔ کیونکہ ان کے پاس آپ کی بعثت کے بارے میں بشارتیں موجود تھیں اور وہ تمام صفات (جو ان کی کتابوں میں لکھی ہوئی تھیں ) آپﷺ کے سوا کسی پر منطبق ہوتی تھیں نہ آپﷺ کے سوا کسی کے شایان شان تھیں ۔ دونوں معنی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں ۔ ﴿ اَلَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے اپنے نفسوں کو نقصان میں ڈالا‘‘ یعنی جس ایمان اور توحید کے لیے ان کے نفوس کو تخلیق کیا گیا تھا انھوں نے اپنے نفوس کو ان سے بے بہرہ کر دیا اور بزرگی کے مالک، بادشاہ حقیقی کے فضل سے ان کو محروم کر دیا ﴿ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ ایمان نہیں لائیں گے‘‘ پس جب ان کے اندر ایمان ہی موجود نہیں تو اس خسارے اور شر کے بارے میں مت پوچھ جو ان کو حاصل ہوگا۔