Tafsir As-Saadi
6:12 - 6:12

کہہ دیجیے! کس کا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے؟ فرما دیجیے! اللہ ہی کا ہے، لازم کر لیا ہے اس نے اپنے نفس پر مہربانی کرنا، یقینا وہ جمع کرے گا انھیں روزقیامت کے، نہیں ہے کوئی شک اس میں ، جن لوگوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو، پس وہ نہیں ایمان لاتے(12)

[12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ سے فرماتا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ یعنی ان مشرکین سے توحید کا اقرار کرواتے اور ان پر اس کی حجت ثابت کرتے ہوئے کہیے ﴿لِّمَنۡ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے؟‘‘ یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے کس نے پیدا کیا۔ کون ان کا مالک اور ان میں تصرف کرنے والا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ان سے کہہ دیجیے ﴿ لِّلّٰه ِ﴾ ’’اللہ کا ہے‘‘ وہ اس کا اقرار کرتے ہیں انکار نہیں کرتے، کیا جب وہ یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ اکیلا ہی کائنات کا مالک اور اس کی تدبیر کرنے والا ہے تو اس کے لیے توحید اور اخلاص کا اعتراف کیوں نہیں کرتے؟ ﴿ كَتَبَ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ ﴾ ’’اس نے لکھا ہے کہ اپنے نفس پر رحم کرنا‘‘ یعنی تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کے اقتدار اور تدبیر کے تحت ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمت اور احسان کی چادر پھیلا رکھی ہے اور اس کی بے پایاں رحمت نے ان سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ اس نے اپنے لیے لکھ رکھا ہے کہ ’’اس کی رحمت اس کے غصے پر غالب ہے۔‘‘عطا کرنا اس کے نزدیک محروم کرنے سے زیادہ محبوب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام بندوں کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیے ہیں اگر بندے اپنے گناہوں کے سبب خود ان کو اپنے آپ پر بند نہ کر لیں ، پھر اس نے انھیں ان دروازوں میں داخل ہونے کی دعوت دی ہے اگر ان کے گناہ اور عیب ان کو ان دروازوں کی طلب سے روک نہ دیں ۔ ﴿ لَيَجۡمَعَنَّـكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ ’’البتہ اکٹھا کرے گا تم کو قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں ‘‘ اور یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قسم ہے اور وہ سب سے زیادہ سچی خبر دینے والا ہے اور اس پر اس نے ایسے براہین و دلائل قائم کیے ہیں جو اسے حق الیقین قرار دیتے ہیں مگر ان ظالموں نے دلائل و براہین کو ٹھکرا دیا اور اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کا انکار کر دیا کہ وہ مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور گناہ کرنے میں جلدی کی اور اس کے ساتھ کفر کرنے کی جسارت کی، پس وہ دنیا و آخرت میں خسارے میں پڑ گئے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَلَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’جن لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال لیا تو وہ ایمان نہیں لاتے‘‘

معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سورۂ مبارکہ توحید کو متحقق کرنے کے لیے ہر عقلی اور نقلی دلیل پر مشتمل ہے۔ بلکہ تقریباً تمام سورت ہی توحید کی شان، مشرکین اور انبیا و رسل کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ مجادلات کے مضامین پر مشتمل ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دلائل کا ذکر فرمایا ہے جن سے ہدایت واضح ہوتی ہے اور شرک کا قلع قمع ہوتا ہے۔