Tafsir As-Saadi
15:87 - 15:99

اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)

[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔
[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔
[89]﴿وَقُلۡ اِنِّيۡۤ اَنَا النَّذِيۡرُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے، میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں ‘‘ یعنی لوگوں کو ڈرانے، رسالت کی ادائیگی، قریب اور بعید، دوست اور دشمن کو تبلیغ کی ذمہ داری آپ(ﷺ) پر عائد ہے اسے پورا کیجیے۔ جب آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی تو ان کا حساب آپ(ﷺ) پر ہے نہ آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے۔
[90]﴿ كَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَ ﴾ ’’جیسا کہ (عذاب) بھیجا ہم نے ان بانٹنے والوں پر‘‘ یعنی (آپ ان کو اس طرح عذاب سے ڈرا رہے ہیں ) جیسے ہم نے اس چیز کو جھٹلانے والوں پر، جسے لے کر آپﷺ مبعوث ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے میں کوشاں رہنے والوں پر، عذاب نازل کیا۔
[91]﴿الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔‘‘ یعنی جنھوں نے قرآن کو مختلف اصناف، اعضا اور اجزا میں تقسیم کر رکھا ہے اور اپنی خواہشات نفس کے مطابق اس میں تصرف کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض (قرآن کے متعلق) کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ کہانت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ افتراء پردازی ہے اور اس قسم کے دیگر اقوال جو ان جھٹلانے والے کفار نے پھیلا رکھے ہیں جو محض اس مقصد کے لیے قرآن میں جرح و قدح کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے روک سکیں ۔
[93,92]﴿ فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔؔلَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’پس قسم ہے آپ کے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے‘‘ یعنی ان تمام لوگوں سے جنھوں نے اس قرآن میں جرح و قدح کی، اس میں عیب چینی اور اس میں تحریف کر کے اس کو بدل ڈالا۔ ﴿ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ہم ان سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھیں گے۔ یہ ان کے لیے سب سے بڑی ترہیب اور ان کے اعمال پر زجروتوبیخ ہے۔
[94] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کر دیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کر دیں ، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں ﴿ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکین سے اعراض کریں ۔‘‘ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہیے۔
[95]﴿ اِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہیں جو تم سے استہزا کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے لے کر آپ مبعوث ہوئے ہیں تمسخر اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول سے یہ وعدہ ہے کہ تمسخر اڑانے والے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان کے مقابلہ میں ، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسا کر دکھایا، چنانچہ جس کسی نے بھی رسول اللہﷺ اور حق کے ساتھ استہزاء کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کیا اور اسے بدترین طریقے سے قتل کیا۔
[96] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا وصف بیان کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح آپ کو ایذا پہنچاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ایذا دیتے ہیں ۔ ﴿الَّذِيۡنَ يَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے معبود‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کا رب اور ان کا خالق ہے اور ان پر تمام احسان اسی کی طرف سے ہیں ۔ ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ جان لیں گے‘‘ یعنی جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو انھیں اپنے کرتوتوں کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
[97]﴿ وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّكَ يَضِيۡقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی وہ آپ کی تکذیب اور استہزاء کی بابت جو باتیں کہتے ہیں ، وہ ہمیں معلوم ہیں اور ہم عذاب کے ذریعے سے ان کے استیصال پر پوری پوری قدرت رکھتے ہیں نیز ان کو فوری طور پر وہ سزا دے سکتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے، تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔
[98]﴿ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَ كُنۡ مِّنَ السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’پس (اے محمدﷺ) آپ اپنے رب کی خوبیاں بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تحمید کیجیے اور نماز پڑھیے کیونکہ اس سے شرح صدر حاصل ہوتا ہے اور یہ ذکر اور نماز آپ کے امور میں آپ کی مدد کریں گے۔
[99]﴿ وَاعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتّٰى يَاۡتِيَكَ الۡيَقِيۡنُ ﴾ ’’اور اپنے رب کی عبادت کیجیے، یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات آجائے‘‘ یعنی آپ کو موت آ جائے، یعنی اپنے تمام اوقات میں ، اللہ تعالیٰ کے قرب کے لیے دائمی طور پر مختلف عبادات میں مصروف رہیے۔ پس نبی مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی حتیٰ کہ آپ کو آپ کے رب کی طرف سے واپسی کا حکم آ پہنچا۔ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کثیرا۔