پھر جانشین ہوئے بعد ان کے ناخلف (برے) لوگ، ضائع کر دیا انھوں نے نمازوں کو اور پیروی کی انھوں نے خواہشات کی، پس عنقریب ملیں گے وہ ہلاکت کو (59) مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اورعمل کیا اچھا تو یہی لوگ داخل ہوں گے جنت میں اور نہ ظلم کیے جائیں گے وہ کچھ بھی (60)(یعنی ) باغات ہمیشگی کے، وہ جن کا وعدہ کیا ہے (اللہ) رحمٰن نے اپنے بندوں سے بن دیکھے، بلاشبہ ہے وعدہ اس کا (ہر صورت) آنے والا (61)نہیں سنیں گے وہ اس جنت میں لغوبات مگر سلام ہی اور ان کے لیے رزق ہو گا ان کا اس میں صبح اور شام (62) یہی وہ جنت ہے جس کا وارث بنائیں گے ہم اپنے بندوں میں سے اس کو جو ہو گا پرہیز گار (63)
[59] جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو مخلص، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو ان کے بعد آئے اور انھوں نے ان امور کو بدل دیا جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا، ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین بنے جو پیچھے لوٹ گئے۔ انھوں نے نماز کو ضائع کیا جس کی حفاظت اور اس کو قائم کرنے کا انھیں حکم دیا گیا تھا، انھوں نے نماز کو حقیر سمجھا اور اسے ضائع کر دیا۔ جب انھوں نے نماز کو ضائع کر دیا جو دین کا ستون، ایمان کی میزان اور رب العالمین کے لیے اخلاص ہے، جو سب سے زیادہ مؤکد عمل اور سب سے افضل خصلت ہے تو نماز کے علاوہ باقی دین کو ضائع کرنے اور اس کو چھوڑ دینے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ شہوات نفس اور اس کے ارادوں کے پیچھے لگ گئے، اس لیے ان کی ہمتوں کا رخ ان شہوات کو طرف پھر گیا اور انھوں نے ان شہوات کو حقوق اللہ پر ترجیح دی۔ یہیں سے حقوق اللہ کو ضائع کرنے اور شہوات نفس پر توجہ دینے نے جنم لیا۔ یہ شہوات نفس جہاں کہیں بھی نظر آئیں اور جس طریقے سے بھی بَن پڑا، انھوں نے ان کو حاصل کیا۔ ﴿فَسَوۡفَ يَلۡقَوۡنَ غَيًّا﴾ ’’پس عنقریب ملیں گے وہ ہلاکت کو۔‘‘ یعنی کئی گنا سخت عذاب۔
[60] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے استثناء فرمایا ﴿ اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ یعنی جس نے شرک، بدعات اور معاصی سے توبہ کر لی، ان کو ترک کرکے ان پر نادم ہوا اور دوبارہ ان کا ارتکاب نہ کرنے کا پکا عزم کر لیا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان لایا ﴿ وَعَمِلَ صَالِحًا﴾ ’’اور نیک عمل کیے۔‘‘ اور عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر مشروع فرمایا ہے جبکہ عمل کرنے والے کی نیت رضائے الٰہی کا حصول ہو۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی جس نے توبہ، ایمان اور عمل صالح کو یکجا کر لیا ﴿ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’وہ جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘ جو ہمیشہ رہنے والی نعمتوں ، ہر قسم کے تکدر سے سلامت زندگی اور رب کریم کے قرب پر مشتمل ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی ان کے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی بلکہ ان کو ان کے اعمال کا کئی گنا زیادہ اجر ملے گا۔
[61] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ جنت جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے عام باغات کی مانند نہیں بلکہ وہ تو ﴿ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾’’ہمیشہ قیام والی جنتیں ہیں ‘‘ جہاں نازل ہونے والے کبھی کوچ کریں گے نہ کہیں اور منتقل ہوں گے اور نہ ان کی نعمتیں زائل ہوں گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ یہ جنتیں بہت وسیع ہوں گی اور ان میں بے شمار نعمتیں ، مسرتیں ، رونقیں اور خوش کن چیزیں ہوں گی۔﴿الَّتِيۡ وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ عِبَادَهٗ بِالۡغَيۡبِ ﴾ یعنی جس کا رحمان نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنت کو اپنے اسم مبارک (الرحمان) کی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ ان میں ایسی رحمتیں اور ایسا حسن سلوک ہو گا کہ ان کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور میں کبھی ان کا گزر ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنت کو اپنی رحمت سے موسوم فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ ابۡيَضَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ فَفِيۡ رَحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾(آل عمران:3؍107) ’’اور جن کے چہرے سفید اور روشن ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف ان کی اضافت، ان کی مسرتوں کے دوام پر دلالت کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بقاء کے ساتھ یہ بھی باقی رہیں گی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار اور اس کی موجبات میں شمار ہوتی ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں (عباد) سے مراد اس کی الوہیت کے معتقد وہ بندے ہیں جو اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کی شریعت کا التزام کرتے ہیں ۔ پس عبودیت ان کا وصف بن جاتی ہے، مثلاً:(عباد الرحمن) وغیرہ بخلاف ان بندوں کے جو ملک کے اعتبار سے تو اس کے بندے ہیں مگر اس کی عبادت نہیں کرتے۔ یہ بندے اگرچہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے بندے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا، وہ ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کی تدبیر کرتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے بندے نہیں اور اس کی عبودیت اختیاری کے تحت نہیں آتے جس کو اختیار کرنے والا قابل مدح ہے۔ ان کی عبودیت تو عبودیت اضطراری ہے جو قابل مدح نہیں ۔ ارشاد مقدس ﴿بِالۡغَيۡبِ﴾ میں یہ احتمال ہے کہ ﴿وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ﴾ سے متعلق ہو تب اس احتمال کی صورت میں یہ معنیٰ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ ان جنتوں کا غائبانہ وعدہ کیا ہے جن کا انھوں نے مشاہدہ کیا ہے نہ ان کو دیکھا ہے، وہ ان پر ایمان لائے، غائبانہ ان کی تصدیق کی اور ان کے حصول کے لیے کوشاں رہے، حالانکہ انھوں نے ان کو دیکھا ہی نہیں اور اگر وہ ان کو دیکھ لیتے تب ان کا کیا حال ہوتا، اس صورت میں ان کی شدید طلب رکھتے ہیں ، ان میں بہت زیادہ رغبت رکھتے اور ان کے حصول کے لیے سخت کوشش کرتے۔ اس میں ان کے ایمان بالغیب کی بنا پر ان کی مدح ہے، یہی وہ ایمان ہے جو فائدہ دیتا ہے، نیز اس امر کا احتمال بھی ہے کہ (بالغیب)(عبادہ) سے متعلق ہو یعنی وہ لوگ جنھوں نے حالت غیب میں اور اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس کی عبادت کی۔ ان کی عبادت کا یہ حال ہے حالانکہ انھوں نے اس کو دیکھا نہیں اگر وہ اس کو دیکھ لیتے تو وہ اس کی بہت زیادہ عبادت کرتے اور اس کی طرف بہت زیادہ رجوع کرتے اور اللہ تعالیٰ کے لیے ان کے اندر بہت زیادہ محبت اور اشتیاق ہوتا۔ اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ یہ جنتیں ، جن کا رحمٰن نے اپنے بندوں کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے، ان کا تعلق ایسے امور کے ساتھ ہے جو اوصاف کے دائرۂ ادراک سے باہر ہیں ۔ جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔پس اس آیت کریمہ میں جنت کے لیے شوق ابھارا گیا ہے، نیز آیت کریمہ میں بیان کردہ مجمل وصف نفوس کو اس کے حصول اور ساکن کو اس کی طلب میں متحرک کرتا ہے اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍17) ’’کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے اعمال کے صلے میں ان کے لیے آنکھوں کی کون سی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔‘‘ مذکورہ تمام معانی صحیح اور ثابت ہیں ۔ البتہ پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے اوراس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿كَانَ وَعۡدُهٗ مَاۡتِيًّا﴾ ’’بے شک اس کا وعدہ آنے والا ہے۔‘‘ یعنی یہ ضرور ہوکر رہے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ وہ سب سے زیادہ سچی ہستی ہے۔
[62]﴿ لَايَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا ﴾ یعنی وہ جنت میں کوئی ایسی لغو بات نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی کوئی ایسی بات سنیں گے جس کا سننا گناہ ہو، لہٰذا وہ جنت میں کوئی سب و شتم، کوئی عیب جوئی اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کے سننے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب ہوتا ہو اور نہ ہی تکدر پر مبنی کوئی بات ﴿اِلَّا سَلٰمًا﴾ یعنی وہ صرف ایسی باتیں سنیں گے جو ہرعیب سے پاک ہوں گی، یعنی ذکر الٰہی، سلام، پر سرور باتیں ، بشارت، دوستوں کے درمیان خوبصورت اوراچھی اچھی باتیں ، رحمٰن کا خطاب، حوروں ، فرشتوں اور غلمان کی دل ربا آوازیں ، طرب انگیز نغمات اور نرم الفاظ سننے کو ملیں گے کیونکہ یہ سلامتی کا گھر ہے جہاں ہر لحاظ سے کامل سلامتی کے سوا کچھ نہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ رِزۡقُهُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’اور ان کے لیے ان کا رزق ہو گا اس میں ‘‘ یعنی ماکولات و مشروبات اور مختلف انواع کی لذات جب بھی وہ طلب کریں گے اور جب بھی رغبت کریں گے ہمیشہ موجود پائیں گے۔ ان کی تکمیل، ان کی لذت اور ان کا حسن یہ ہے کہ یہ معلوم اوقات میں ہوں گی ﴿ بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾ ’’صبح اور شام‘‘ تاکہ ان چیزوں کا وقوع باعظمت اور ان کا فائدہ کامل ہو۔
[63] وہ جنت جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے ﴿ الَّتِيۡ نُوۡرِثُ مِنۡ عِبَادِنَا مَنۡ كَانَ تَقِيًّا ﴾ ہم اہل تقویٰ کو اس جنت کا وارث بنائیں گے، اس جنت کو ہم ان کا دائمی گھر بنائیں گے جہاں سے وہ کبھی کوچ کریں گے نہ یہاں سے کہیں اور منتقل ہونا چاہیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَسَارِعُوۡۤا اِلٰى مَغۡفِرَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(آل عمران:3؍133) ’’دوڑ کر بڑھو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے جو اہل تقویٰ کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘