جس دن ہم اکٹھا کریں گے متقیوں کو رحمٰن کی طرف مہمان (بنا کر)(85) اور ہم ہانکیں گے مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے (86) نہیں اختیار رکھیں گے وہ سفارش کرنے کا مگر جس نے لیا رحمٰن (اللہ) کے ہاں سے عہد (87)
[85] اللہ تبارک و تعالیٰ دونوں گروہوں ، یعنی متقین و مجرمین کے درمیان تفاوت بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ متقین کو، ان کے شرک و بدعات اور دیگر گناہوں سے بچنے کے سبب سے، قیامت کے روز، اکرام و تعظیم کے ساتھ اکٹھا کرے گا اور وہ وفود کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ ان کی منزل اور ان کا مطلوب و مقصود رحمٰن و منان ہو گا اور یہ ضروری ہے کہ آنے والے کا دل امید سے لبریز ہو اور جس کے پاس آیا ہے اس پر حسن ظن ہو۔ پس اہل تقویٰ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بے پایاں احسان کی امید رکھتے ہوئے اور اس کی رضا کے گھر میں اس کی نوازشوں سے فوزیاب ہوتے ہوئے، اس کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور اس کا سبب ان کے وہ نیک اعمال ہوں گے جو انھوں نے آگے بھیجے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضاکی اتباع کی اور بے شک اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے انبیاء و رسل کی زبان پر ان کے لیے اس ثواب کا عہد کر رکھا ہے۔ پس وہ نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کی طرف رواں دواں ہوں گے۔
[86] رہے مجرم تو ان کو پیاسا ہی جہنم کی طرف ہانکا جائے گا اور یہ ان کی بدترین حالت ہو گی کہ ان کو انتہائی ذلت و رسوائی کے ساتھ سب سے بڑے قید خانے اور بدترین عذاب میں ، یعنی جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ وہ تھکے ماندے سخت پیاسے ہوں گے، وہ مدد کے لیے پکاریں گے مگر ان کی مدد نہ کی جائے گی، وہ دعائیں کریں گے مگر ان کی دعائیں قبول نہ ہوں گی اور وہ سفارش تلاش کریں گے مگر ان کی سفارش نہ کی جائے گی۔
[87] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَا يَمۡلِكُوۡنَ الشَّفَاعَةَ ﴾ یعنی وہ سفارش کے مالک ہوں گے نہ انھیں سفارش کا کوئی اختیار ہو گا۔ تمام تر سفارش کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہو گا۔ ﴿ قُلۡ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيۡعًا ﴾(الزمر:39؍44) ’’کہہ دیجیے سفارش سب اللہ کے لیے ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا ہے کہ سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لا کر اس سے کوئی عہد نہیں لیا… ورنہ وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے عہد لیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی تو وہ ان لوگوں میں شامل ہے جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے اور اس کو سفارش حاصل ہو گی، جیسا کہ فرمایا:﴿ وَلَا يَشۡفَعُوۡنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارۡتَضٰى ﴾(الانبیاء:21؍28) ’’وہ اس کے پاس کسی کی سفارش نہیں کر سکتے مگر اس شخص کی جس سے وہ (اللہ تعالیٰ) راضی ہو۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایمان باللہ اور اپنے رسولوں کی اتباع کو عہد قرار دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں میں اور اپنے انبیاء و رسل کی زبان پر عہد کیا ہے کہ وہ ان لوگوں کو جزائے جمیل عطا کرے گا جو انبیاء و رسل کی اتباع کریں گے۔