اور ڈرائیں آپ اسکے ذریعے ان کو جو ڈرتے ہیں اس سے کہ وہ اکٹھے کیے جائیں گے اپنے رب کی طرف ، نہیں ہوگا ان کا اس کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں (51) اور مت دور کریں ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام، چاہتے ہیں وہ چہرہ اس کا ، نہیں ہے آپ کے ذمے ان کے حساب میں سے کچھ اور نہیں ہے آپ کے حساب میں سے ان کے ذمے کچھ کہ دور کریں آپ ان کو! (ایسا کیا) تو ہوجائیں گے آپ ظالموں سے (52) اور اسی طرح فتنے میں ڈالا ہم نے ان کے ایک کو دوسرے کے ذریعے سے تاکہ کہیں وہ کیا یہی لوگ ہیں کہ احسان کیا اللہ نے ان پر ہمارے درمیان میں سے؟ کیا نہیں ہے اللہ خوب جانتا شکر کرنے والوں کو؟(53) اور جب آئیں آپ کے پاس وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں ہماری آیات پر تو کہہ دیجیے سلام ہو تم پر لازم کر لیا ہے تمھارے رب نے اوپر اپنے نفس کے مہربانی کرنا، بے شک جو شخص عمل کرے تم میں سے برا ، جہالت سے ، پھر وہ توبہ کرے اس کے بعد او ر اصلاح کرلے تو یقینا وہ بہت بخشنے والا مہربان ہے(54) اور اسی طرح ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیات کو اور تا کہ واضح ہو جائے راستہ مجرموں کا(55)
[51] یہ قرآن تمام مخلوق کے لیے انذار ہے مگر اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ﴿ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ اَنۡ يُّحۡشَرُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’جو اس حقیقت کا خوف رکھتے ہیں کہ انھیں ان کے رب کے پاس اکٹھے کیے جانا ہے۔‘‘ پس انھیں پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس گھر سے منتقل ہو کر آخرت کے ہمیشہ رہنے والے گھر میں داخل ہوں گے۔ وہ اپنے ساتھ وہی کچھ رکھتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں نقصان دیتا ہے۔ ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے اس کے بغیر‘‘ یعنی اللہ کے بغیر ﴿ وَلِيٌّ وَّلَا شَفِيۡعٌ ﴾ ’’کوئی دوست اور نہ سفارشی‘‘ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہو گی جو ان کے معاملے کی سرپرستی کر سکے جس سے ان کا مطلوب حاصل ہو جائے اور ان سے تکلیف دور ہو جائے، نہ ان کا کوئی سفارشی ہو گا کیونکہ تمام مخلوق کے پاس کوئی اختیار نہیں ﴿ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ پرہیز گار بنیں ۔‘‘ شاید وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور اس کے نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کریں ۔ کیونکہ انذار، تقویٰ کا موجب اور اس کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔
[52]﴿ وَلَا تَطۡرُدِ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَدٰؔوةِ وَالۡعَشِيِّ يُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَهٗ ﴾ ’’اور مت دور کیجیے ان لوگوں کو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں ، چاہتے ہیں اسی کا چہرہ‘‘ یعنی دوسروں کی مجالست کی امید میں اہل اخلاص اور اہل عبادت کو اپنی مجلس سے دور نہ کیجیے جو ہمیشہ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں ، ذکر اور نماز کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں ، صبح و شام اس سے سوال کرتے ہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے۔ اس مقصد جلیل کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں ۔ بنابریں یہ لوگ اس چیز کے مستحق نہیں کہ انھیں اپنے سے دور کیا جائے یا ان سے روگردانی کی جائے بلکہ یہ لوگ تو آپﷺ کی موالات، محبت اور قربت کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ یہ مخلوق میں سے چنے ہوئے لوگ ہیں اگرچہ یہ فقرا اور نادار ہیں ۔ اور یہی درحقیقت اللہ کے ہاں باعزت لوگ ہیں اگرچہ یہ لوگوں کے نزدیک گھٹیا اور کم مرتبہ ہیں ۔ ﴿مَا عَلَيۡكَ مِنۡ حِسَابِهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ وَّمَا مِنۡ حِسَابِكَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’نہیں ہے آپ پر ان کے حساب میں سے کچھ اور نہ آپ کے حساب میں سے ان پر ہے کچھ‘‘ یعنی ہرشخص کے ذمہ اس کا اپنا حساب ہے، اس کا نیک عمل اسی کے لیے ہے اور برے عمل کی شامت بھی اسی پر ہے ﴿ فَتَطۡرُدَهُمۡ فَتَكُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس اگر ان کو دور کرو گے تو ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔‘‘ رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پوری طرح پیروی کی، چنانچہ جب آپﷺ فقرائے مومنین کی مجلس میں بیٹھتے تو دلجمعی سے ان کے ساتھ بیٹھتے، ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے، ان کے ساتھ حسن خلق اور نرمی کا معاملہ کرتے اور انھیں اپنے قریب کرتے بلکہ آپﷺ کی مجلس میں زیادہ تر یہی لوگ ہوتے تھے۔ ان آیات کریمہ کا سبب نزول یہ ہے کہ قریش میں سے یا اعراب میں سے چند اجڈ لوگوں نے آپﷺ سے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تم پر ایمان لائیں اور تمھاری پیروی کریں تو فلاں فلاں شخص جو کہ فقرائے صحابہy میں سے تھے، اپنے پاس سے اٹھا دو۔ کیونکہ ہمیں شرم آتی ہے کہ عرب ہمیں ان گھٹیا لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھیں ۔ ان معترضین کے اسلام لانے اور ان کے اتباع کرنے کی خواہش کی بنا پر آپﷺ کے دل میں بھی یہ خیال آیا مگر اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور ان جیسی دیگر آیات کے ذریعے سے آپ کو ایسا کرنے سے منع فرمایا۔
[53]﴿ وَؔكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ لِّيَقُوۡلُوۡۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’اور اسی طرح ہم نے آزمایا ہے بعض لوگوں کو بعضوں سے تاکہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان میں سے، اللہ نے فضل کیا؟‘‘ یعنی یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی آزمائش ہے کہ اس نے بعض کو خوشحال بنایا اور بعض کو محتاج اور تنگ دست پیدا کیا، بعض کو صاحب شرف پیدا کیا بعض کو گھٹیا اور کم تر۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ کسی نادار اور کم تر شخص کو ایمان عطا کر کے اس پر احسان کرتا ہے تو یہ چیز خوشحالی اور بلند مرتبہ شخص کے لیے امتحان کا باعث ہوتی ہے۔ اگر اس کا مقصد اتباع حق ہے تو وہ ایمان لا کر مسلمان ہو جاتا ہے اور اسے ایمان لانے سے اس شخص کی مشارکت نہیں روک سکتی جس کو وہ مال و دولت اور جاہ و مرتبہ میں اپنے سے کم تر خیال کرتا ہے۔ اگر وہ طلب حق میں سچا نہیں تو یہ وہ گھاٹی ہے جو اسے اتباع حق سے روک دیتی ہے۔ جن کو وہ اپنے آپ سے کم تر خیال کرتے ہیں ان کو حقیر گردانتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا یہی لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان میں سے، اللہ نے فضل کیا؟‘‘ اسی چیز نے ان کی عدم طہارت کے باعث ان کو اتباع حق سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس کلام کا جو اللہ تعالیٰ پر اعتراض کو متضمن ہے کہ اس نے ان کو ہدایت سے نواز دیا اور ان کو محروم کر دیا۔۔۔ جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِاَعۡلَمَ بِالشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’کیا نہیں ہے اللہ خوب جاننے والا شکر کرنے والوں کو‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کو پہچانتے ہیں اور اس کا اعتراف کرتے ہیں اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل صالح کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ ایسے ہی کو اپنے فضل و احسان سے نوازتا ہے نہ کہ ان کو جو اس کے شکر گزار نہیں ہوتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے وہ اپنے فضل و کرم سے کسی ایسے شخص کو نہیں نوازتا جو اس کا اہل نہ ہو اور یہ معترضین اسی وصف کے مالک ہیں۔ اس کے برعکس جن فقرا کو اللہ تعالیٰ نے ایمان سے نوازا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار لوگ ہیں ۔
[54] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو اپنے مطیع مومن بندوں کو دور کرنے سے روک دیا تو ان کفار کے مقابلے میں انھیں اکرام، تعظیم، عزت اور احترام سے پیش آنے کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’جب آپ کے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو انھیں السلام علیکم کہیں ۔‘‘ یعنی جب اہل ایمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تو آپ ان کو سلام کہیں ، ان کو خوش آمدید کہیں ۔ سلام و تحیات سے ان کا استقبال کریں اور انھیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے جود و احسان کی بشارت دیں جو ان کے عزائم اور ارادوں میں نشاط پیدا کرے اور انھیں منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے ہر راستہ اور ہر سبب اختیار کرنے کی ترغیب دیں ۔ ان کو گناہوں پر قائم رہنے سے ڈرائیں اور انھیں گناہوں سے توبہ کرنے کا حکم دیں تاکہ وہ اپنے رب کی مغفرت اور اس کے جود و کرم کو پا سکیں ۔ ﴿ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنۡ عَمِلَ مِنۡكُمۡ سُوۡٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ وَاَصۡلَحَ ﴾ ’’لکھ لیا ہے تمھارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو جو کوئی کرے تم میں سے برائی، ناواقفیت سے، پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیک ہو جائے‘‘ یعنی (قبولیت توبہ کے لیے) گناہوں کو ترک کرنا، ان کا قلع قمع کرنا، ان پر نادم ہونا اور اعمال کی اصلاح کرنا ضروری ہے، نیز ان امور کی ادائیگی جن کو اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور جو ظاہری اور باطنی اعمال فاسد ہو چکے ہیں ، ان کی اصلاح کرنا ضروری ہے۔ جب یہ تمام امور موجود ہوں ﴿فَاَنَّهٗ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’تو بات یہ ہے کہ وہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جن امور کا حکم دیا ہے اس کی بجا آوری کے مطابق ان پر اپنی مغفرت اور رحمت کا فیضان کرتا ہے۔
[55]﴿وَؔكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اسی طرح ہم اپنی آیات کو واضح کرتے ہیں ، گمراہی میں سے ہدایت کے راستے کو ممیز کرتے ہیں ، رشد و ہدایت اور ضلالت میں فرق کرتے ہیں تاکہ راہ ہدایت پر چلنے والے ہدایت پا لیں تاکہ حق کا راستہ عیاں ہوجائے جس پر گامزن ہونا چاہیے۔ ﴿ وَلِتَسۡتَبِيۡنَ سَبِيۡلُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ مجرموں کا راستہ واضح ہو جائے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب تک پہنچاتا ہے۔ کیونکہ جب مجرموں کا راستہ ظاہر اور صاف واضح ہو جاتا ہے تو اس سے اجتناب کرنا اور اس سے دور رہنا آسان ہو جاتا ہے۔ اور اس کے برعکس اگر راستہ مشتبہ اور غیر واضح ہو تو یہ مقصد جلیل حاصل نہیں ہو سکتا۔