کہہ دیجیے! کیا پکاریں ہم سوائے اللہ کے ان کو جو نہ نفع دے سکیں ہمیں اورنہ نقصان پہنچا سکیں ہمیں اور پھیر دیے جا ئیں ہم اپنی ایڑیوں پر(الٹے پاؤں ) بعد اس کے کہ ہدایت دی ہمیں اللہ نے، مانند اس شخص کے جسے بہکادیا شیطانوں نے زمین میں ، حیران (پھرتا) ہے ، اس کے کچھ ساتھی ہیں جو بلاتے ہیں اسے سیدھی راہ کی طرف کہ آجا ہمارے پاس، کہہ دیجیے! یقینا ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے اور حکم دیے گئے ہیں ہم کہ مطیع ہو جائیں ہم رب العالمین کے (71)اوریہ کہ قائم کرو نماز اور ڈرو اس (اللہ) سے،اور وہی ہے کہ اس کی طرف اکٹھے کیے جاؤگے تم (72) اور وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے اور جس دن وہ کہے گا ہو جا تو(حشر برپا) ہو جائے گا ۔ اسی کا قول حق ہےاور اسی کی بادشاہی ہوگی جس دن پھونکا جائے گا صور میں ، جاننے والا ہے غیب اور حاضر کااور وہی ہے خوب حکمت والا خبردار (73)
[71]﴿ قُلۡ ﴾ اے رسولﷺ !اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے کہہ دو جو تمھیں اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں وہ دین جو ان کے معبودوں کے وصف کی تشریح کر کے واضح کرتا ہے۔ ایک عقل مند شخص کو ان معبودوں کو چھوڑنے کے لیے ان کے اوصاف کا ذکر ہی کافی ہے کیونکہ ہر عاقل شخص جب مشرکین کے مذہب میں غور و فکر کرتا ہے تو اس کے بطلان پر دلائل و براہین کے قائم ہونے سے پہلے ہی اس کے بطلان کا اسے قطعی یقین ہو جاتا ہے۔ اور وہ پکار اٹھتا ہے ﴿ اَنَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا ﴾ ’’کیا ہم اللہ کے سوا، ان ہستیوں کو پکاریں جو ہمیں نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان۔‘‘ اس وصف میں ہر وہ ہستی داخل ہے جس کی اللہ کے سوا بندگی کی جاتی ہے کیونکہ وہ نفع دے سکتی ہے نہ نقصان۔ اسے کسی معاملے کا کوئی اختیار نہیں ، تمام معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہء قدرت میں ہے۔ ﴿ وَنُرَدُّ عَلٰۤى اَعۡقَابِنَا بَعۡدَ اِذۡ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ ﴾ ’’اور کیا پھر جائیں ہم الٹے پاؤں ، اس کے بعد کہ اللہ سیدھی راہ دکھا چکا ہم کو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت سے نوازے جانے کے بعد کیا ضلالت کی طرف پلٹ جائیں ، رشد کو چھوڑ کر گمراہی کی طرف لوٹ جائیں ، نعمتوں بھری جنت کے راستے کو چھوڑ کر ان راستوں پر چل نکلیں جو اپنے سالک کو عذاب الیم کی منزل پر پہنچا دیتے ہیں ؟ رشد و ہدایت رکھنے والا شخص اس حال پر کبھی راضی نہیں رہ سکتا۔ ایسی حالت والے شخص کی مثال اس شخص کی سی ہے ﴿ كَالَّذِي اسۡتَهۡوَتۡهُ الشَّيٰطِيۡنُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ جسے شیاطین نے بیابان میں اس کے راستے سے بھٹکا دیا ہو جو اس کی منزل کو جاتا تھا ﴿ حَيۡرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصۡحٰؔبٌ يَّدۡعُوۡنَهٗۤ اِلَى الۡهُدَى ﴾ ’’وہ حیران ہے، اس کے ساتھی اسے راستے کی طرف بلاتے ہیں ‘‘ اور شیاطین اسے ہلاکت کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ وہ دونوں پکارنے والوں کے درمیان حیران و سرگرداں ہے۔ تمام لوگوں کا یہی حال ہے سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ہے، اس لیے کہ لوگ اپنے اندر کشش رکھنے والے امور اور متعارض داعیے رکھتے ہیں ۔ رسالت، عقل صحیح اور فطرت سلیم کے دواعی ﴿ يَّدۡعُوۡنَهٗۤ اِلَى الۡهُدَى ﴾ ’’اس کو صحیح راستے کی طرف بلاتے ہیں ۔‘‘ اور اعلیٰ علیین کی بلندیوں کی طرف دعوت دیتے ہیں اور شیطان کے داعیے اور وہ لوگ جو اس کی راہ پر گامزن ہیں اور نفس امارہ اسے گمراہی اور اسفل سافلین کی پستیوں میں گر جانے کی دعوت دیتے ہیں ۔ لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اپنے تمام امور میں یا اکثر امور میں ہدایت کے دواعی کے ساتھ چلتے ہیں اور کچھ ایسے لوگ ہیں جن کا رویہ اس کے برعکس ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جن میں دونوں قسم کے داعیے مساوی ہوتے ہیں ، اس وقت دو جاذب امور باہم متعارض ہوتے ہیں ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اہل سعادت اور اہل شقاوت کی پہچان ہوتی ہے۔ ﴿ قُلۡ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الۡهُدٰؔى ﴾ ’’اللہ نے جو راہ بتلائی ہے، وہی سیدھی راہ ہے‘‘ یعنی اس راستے کے سوا کوئی راستہ ہدایت کا راستہ نہیں ، جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی زبان پر مشروع کیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر راستے گمراہی، موت اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ﴿وَاُمِرۡنَا لِنُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم پروردگار عالم کے تابع رہیں ‘‘ یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مانیں اس کے اوامرونواہی کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں اور اس کی عبودیت کے تحت داخل ہو جائیں کیونکہ یہ بندوں پر سب سے بڑی نعمت اور اس کی سب سے کامل ربوبیت ہے جو اس نے اپنے بندوں تک پہنچائی ہے۔
[72]﴿ وَاَنۡ اَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اور یہ کہ نماز پڑھتے رہو۔‘‘ یعنی ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط، سنن اور اس کی تکمیل کرنے والے تمام امور کے ساتھ قائم کریں ﴿ وَاتَّقُوۡهُ ﴾ ’’اور اس سے ڈرتے رہو۔‘‘ جس چیز کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اسے بجا لا کر اور جس چیز سے روکا ہے اس سے اجتناب کر کے تقویٰ کا التزام کرو ﴿ وَهُوَ الَّذِيۡۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہی تو ہے جس کے پاس تم جمع کیے جاؤگے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز تم اس کے پاس جمع ہو جاؤ گے اور وہ تمھیں تمھارے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔
[73]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’وہی ذات ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ‘‘ تاکہ وہ بندوں کو حکم دے اور بعض چیزوں سے روکے پھر اس پر انھیں ثواب و عقاب دے ﴿ وَيَوۡمَ يَقُوۡلُ كُنۡ فَيَكُوۡنُ١ؕ۬ قَوۡلُهُ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور جس دن کہے گا کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گا، اس کا ارشاد برحق ہے۔‘‘ جس میں کوئی شک ہے نہ کوئی ایچ پیچ اور نہ اللہ تعالیٰ کوئی عبث بات کہتا ہے ﴿وَلَهُ الۡمُلۡكُ يَوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ ﴾ ’’اور اسی کی بادشاہی ہے جس دن پھونکا جائے گا صور‘‘ یعنی قیامت کے روز۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر قیامت کے دن کا ذکر اس لیے کیا ہے، حالانکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے کیونکہ قیامت کے دن تمام ملکیتیں ختم ہو جائیں گی اور اللہ واحد و قہار کی ملکیت باقی رہ جائے گی۔ ﴿عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ١ؕ وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡخَبِيۡرُ ﴾ ’’وہ جاننے والا ہے چھپی اور کھلی باتوں کا اور وہی حکمت والا، خبردار ہے‘‘ جو حکمت تام، نعمت کامل اور احسان عظیم کا مالک ہے، اس کا علم اسرار نہاں ، باطنی راز اور چھپے ہوئے امور کا احاطہ کیے ہوئے ہے جس کے سوا کوئی معبود اور کوئی رب نہیں ۔