Tafsir As-Saadi
6:70 - 6:70

اور چھوڑ دیجیے ان لوگوں کو جنھوں نے بنا لیا اپنے دین کوکھیل اور تماشہ اور دھوکے میں ڈالا ان کو حیات دنیا نےاور نصیحت کیجیے آپ ساتھ اس قرآن کے تاکہ (نہ) ہلاک کی جائے کوئی جان بدلے اس کے جو کمایا اس نے، نہیں ہو گا اس کے لیے سوائے اللہ کے کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی اور اگر بدلے میں دے ہر طرح کا فدیہ تو بھی نہ لیا جائے گا اس سے، یہی ہیں وہ لوگ جو ہلاک کیے گئے بوجہ اس کے جو کمایا انھوں نے، ان کے لیے پینا ہو گا گرم پانی اور عذاب ہوگا درد ناک بوجہ اس کے جو تھے وہ کفر کرتے (70)

[70] بندوں سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کریں ، یعنی اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں ، اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے محبوب امور کے حصول میں مقدور بھر کوشش صرف کریں اور یہ چیز اس بات کو متضمن ہے کہ قلب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر اور اس کی طرف متوجہ رہے، بندے کی کوشش انتہائی سنجیدہ اور نفع مند ہو نہ کہ غیر سنجیدہ اور یہ کوشش اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو اس میں ریا اور شہرت کی خواہش کا شائبہ نہ ہو۔ یہی وہ حقیقی دین ہے جس کو دین کہا ہے۔ رہا وہ شخص جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ صاحب دین اور صاحب تقویٰ ہے اور حالت یہ ہے کہ اس نے دین کو لہو و لعب بنا رکھا ہے اور اس کا قلب اللہ تعالیٰ کی محبت اور معرفت سے خالی ہو کر لہو و لعب میں مستغرق ہو گیا اور ہر اس چیز میں مصروف ہو گیا جو اس کے لیے ضرر رساں ہے وہ اپنے بدن کے ساتھ لہو اور باطل میں مشغول ہے کیونکہ عمل اور بھاگ دوڑ اگر غیر اللہ کے لیے ہو تو وہ لہو و لعب ہے.... تو اس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے، اس سے بچا جائے، اس سے دھوکہ نہ کھایا جائے اور اس کے احوال پر غور کیا جائے، اس کی کارستانیوں سے ہشیار رہے اور وہ تقرب الٰہی والے اعمال سے روکے تو اس کے دھوکے میں نہ آئے۔ ﴿ وَذَكِّرۡ بِهٖۤ﴾ ’’اور اس کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیں ۔‘‘ یعنی قرآن کے ذریعے سے ان کو نصیحت کیجیے جو بندوں کے لیے نفع مند ہے قرآن کے احکامات سنا کر، اس کی تفصیلات بیان کر کے، قرآن میں جو اچھے اوصاف مذکور ہیں ان کی تحسین کر کے اور وہ اوصاف جو بندوں کے لیے ضرر رساں ہیں ان سے ان کو منع کر کے، اس کی انواع کی تفصیل بیان کیجیے اور جو قبیح اوصاف بیان ہوئے ہیں جن کا ترک کرنا ضروری ہے (ان سب کے ساتھ) ان کو نصیحت کیجیے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ کہیں نفس اپنے کسب کی وجہ سے ہلاکت میں نہ ڈال دیا جائے، یعنی بندے کا گناہوں میں گھس جانے، اللہ علام الغیوب کے سامنے جرأت کرنے اور گناہوں پر قائم رہنے سے پہلے اسے نصیحت کیجیے تاکہ وہ باز آجائے اور اپنے فعل سے رک جائے۔ ﴿ لَيۡسَ لَهَا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيٌّ وَّلَا شَفِيۡعٌ ﴾ ’’نہیں ہو گا واسطے اس کے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی‘‘ یعنی نفس کو اس کے گناہوں کا احاطہ کر لینے سے پہلے نصیحت کرو کیونکہ اس کے بعد مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے کام نہ آئے گا۔ نہ کوئی قریبی رشتہ دار اور نہ کوئی دوست، اللہ کے سوا اس کا کوئی ولی اور مددگار نہ ہو گا اور نہ اس کی کوئی سفارش کرنے والا ہو گا ﴿ وَاِنۡ تَعۡدِلۡ كُلَّ عَدۡلٍ ﴾ ’’اگرچہ وہ ہر چیز معاوضے میں دینا چاہے۔‘‘ یعنی اگر یہ نفس ہر قسم کا فدیہ دے خواہ وہ زمین بھر سونا کیوں نہ ہو ﴿ لَّا يُؤۡخَذۡ مِنۡهَا ﴾ ’’وہ اس سے قبول نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ یہ فدیہ کوئی فائدہ دے گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو مذکورہ اوصاف سے موصوف ہیں ﴿ الَّذِيۡنَ اُبۡسِلُوۡا ﴾ ’’جنھیں ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی ان کو ہلاک کر دیا گیا اور وہ ہر قسم کی بھلائی سے مایوس ہو گئے اور یہ ان کے اعمال کے سبب سے ہے ﴿لَهُمۡ شَرَابٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’ان کا مشروب ابلتا ہوا گرم پانی ہو گا‘‘ جو ان کے چہروں کو بھون دے گا اور ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا ﴿ وَّعَذَابٌ اَلِيۡمٌۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡفُرُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے کفر کی پاداش میں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘