اور اسی طرح بنائے ہم نے ہر نبی کے دشمن، شیطان انسانوں اور جنوں (دونوں) میں سے، ڈالتا ہے ایک ان کا دوسرے کی طرف ملمع کی ہوئی بات، دھوکہ دینے کے لیے اور اگر چاہتا آپ کا رب تو نہ کرتے وہ یہ (کام)، پس چھوڑیے آپ ان کو اور جو وہ افترا باندھتے ہیں(112)اور تاکہ مائل ہو جائیں اس (جھوٹ) کی طرف دل ان کے جو نہیں ایمان لاتے آخرت پراور تا کہ راضی ہوںوہ اس (جھوٹ) سےاور تاکہ کرتے رہیں (برے کام) جو وہ کر رہے ہیں(113)
[112] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے جس طرح ہم نے آپ کے دشمن بنا دیے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہیں اور آپ سے حسد کرتے ہیں تو یہ ہماری سنت ہے، ہم ہر نبی کے، جس کو ہم مخلوق کی طرف مبعوث کرتے ہیں ، جن اور انسانوں میں سے دشمن مقرر کر دیتے ہیں وہ ان تمام امور کی مخالفت کرتے ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ ﴿ يُوۡحِيۡ بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ زُخۡرُفَ الۡقَوۡلِ غُرُوۡرًا ﴾ ’’سکھلاتے ہیں وہ ایک دوسرے کو ملمع کی ہوئی باتیں ، فریب دینے کے لیے‘‘ یعنی وہ ایک دوسرے کو ان باطل امور کو سجا کر اور مزین کر کے پیش کرتے ہیں جن کی طرف وہ دعوت دیتے ہیں اور وہ اس کی تعبیرات کو آراستہ کر کے بہترین اسلوب میں پیش کرتے ہیں تاکہ بیوقوف اس سے دھوکہ کھا جائیں اور سیدھے سادے لوگ ان کے سامنے سراطاعت خم کر دیں جو حقائق کا فہم رکھتے ہیں نہ معانی کو سمجھتے ہیں بلکہ خوبصورت الفاظ اور ملمع سازی ان کو اچھی لگتی ہے، پس وہ حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے لگتے ہیں ۔
[113] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلِتَصۡغٰۤى اِلَيۡهِ ﴾ ’’تاکہ اس کی طرف مائل ہوں ۔‘‘ یعنی اس مزین کلام کو سننے کی طرف مائل ہوں ﴿ اَفۡــِٕدَةُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’ان لوگوں کے دل جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے‘‘ کیونکہ یوم آخرت پر ان کا ایمان نہ رکھنا اور عقل نافع سے ان کا محروم ہونا، ان کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے ﴿ وَلِيَرۡضَوۡهُ ﴾ ’’اور تاکہ وہ اس کو پسند بھی کر لیں ‘‘ یعنی اس کی طرف مائل ہونے کے بعد۔ پس ان کے دل پہلے اس کی طرف مائل ہوتے ہیں پھر ان خوبصورت اور مزین عبارت کو جب دیکھتے ہیں تو ان کو پسند کرنے لگتے ہیں یہ عبارات ان کے دل میں سج جاتی ہیں اور ایک راسخ عقیدہ اور لازم وصف بن جاتی ہیں ، پھر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان سے اس قسم کے اعمال سرزد ہوتے ہیں یعنی وہ اپنے قول و فعل میں جھوٹ کا ارتکاب کرتے ہیں جو ان عقائد قبیحہ کا لازمہ ہیں پس یہ حال ان شیاطین جن و انس کا ہے جو ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ۔ رہے آخرت پر ایمان رکھنے والے عقل مند اور سنجیدہ لوگ تو وہ ان عبارات سے دھوکہ کھاتے ہیں نہ ان ملمع سازیوں کا شکار ہوتے ہیں ۔ بلکہ ان کی ہمت اور ان کے ارادے حقائق کی معرفت حاصل کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ ان معانی پر نظر رکھتے ہیں جن کی طرف دعوت دینے والے دعوت دیتے ہیں ۔ اگر یہ معانی حق ہیں تو انھیں قبول کر لیتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں خواہ ان کو کم تر عبارات اور غیر وافی الفاظ میں کیوں نہ بیان کیا گیا ہو اور اگر یہ معانی باطل ہیں تو انھیں ان کے قائل کی طرف لوٹا دیتے ہیں خواہ ان کا قائل کوئی بھی ہو اور خواہ ان الفاظ کو ریشم سے بھی زیادہ خوشنما لبادہ اوڑھا دیا گیا ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے کہ اس نے انبیا کرام علیہ السلام کے دشمن بنا دیے اور باطل کے انصار و اعوان مقرر کر دیے جو باطل کی طرف دعوت دیتے ہیں تاکہ اس کے بندوں کی آزمائش اور امتحان ہو سکے اور سچے، جھوٹے، عقل مند اور جاہل، صاحب بصیرت اور اندھے کے درمیان امتیاز ہو سکے اور یہ بھی اس کی حکمت کا حصہ ہے کہ حق و باطل کی اس کشمکش کے اندر حق کی تبیین اور توضیح ہے کیونکہ جب باطل حق کا مقابلہ کرتا ہے تو حق روشن ہو کر اور نکھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ تب اس وقت حق کے وہ دلائل اور شواہد واضح ہو جاتے ہیں جو حق کی صداقت اور حقیقت اور باطل کے فساد اور اس کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں جو سب سے بڑا مقصد ہے جس کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔