اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ کھاؤ تم سود دگنا چوگنا کر کے اور ڈرو اللہ سے تاکہ تم فلاح پاؤ(130) اور ڈرو اس آگ سے جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے(131) اور اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی تاکہ تم رحم کیے جاؤ(132) اور جلدی کرو تم طرف بخشش کی، اپنے رب کی اور بہشت کی (طرف) کہ ہے عرض اس کا آسمان اور زمین، تیار کی گئی ہے وہ متقین کے لیے(133) وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور سختی میں اور پی جانے والے ہیں غصے کو اور معاف کر دینے والے ہیں لوگوں کواور اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(134) اور وہ لوگ کہ جب کر بیٹھتے ہیں کوئی برائی یا وہ ظلم کر گزرتے ہیں اپنے آپ پر تو یاد کرتے ہیں اللہ کو اور بخشش مانگتے ہیں اپنے گناہوں کی اور کون بخشتا ہے گناہوں کو سوائے اللہ کے؟ اور نہیں وہ اصرار کرتے اس پر جو انھوں نے کیا جبکہ وہ جانتے ہیں(135) یہ لوگ، بدلہ ان کا بخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور باغات ہیں، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا(136)
[130] اس تفسیر کے مقدمہ میں گزر چکا ہے کہ بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ خود اپنی ذات میں اور دوسروں میں اوامر و نواہی کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا حکم دیتا ہے تو سب سے پہلے بندۂ مومن پر یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی حدود کو پہچانے کہ وہ کیا چیز ہے جس پر عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تاکہ وہ اس کے حکم کی اطاعت کر سکے۔ جب اسے اس حکم کی حدود کی معرفت حاصل ہو جائے تو اپنی طاقت اور امکان بھر اپنی ذات اور دوسروں پر اس حکم کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرے اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔ اسی طرح جب اسے کسی امر سے روک دیا جائے تو وہ اس کی حدود کی معرفت حاصل کرے کہ کیا چیز اس کی حدود میں داخل ہے اور کیا چیز اس سے باہر ہے پھر اس کو ترک کرنے کی کوشش کرے اور اپنے رب سے مدد طلب کرے۔یہ ایسا اصول ہے جسے اللہ تعالیٰ کے تمام اوامر اور نواہی میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔ یہ آیات کریمہ بھلائی کے ان احکام اور خصائل پر مشتمل ہیں جن کا اللہ تبارک وتعالیٰ نے حکم اور ان کی ترغیب دی ہے اور ان کے اجر و ثواب سے آگاہ فرمایا ہے اور ایسی منہیات پر مشتمل ہیں جن کو ترک کرنے کی اللہ تعالیٰ نے تاکید کی ہے اور اُحد کے قصے کے درمیان ان آیات کو بیان کرنے کی حکمت شاید یہ ہے...واللہ اعلم...کہ گزشتہ آیات میں گزر چکا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کے دشمنوں پر فتح دے گا اور ان کے دشمنوں کی مدد چھوڑ دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾(آل عمران:3؍120) ’’اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔‘‘ فرمایا: ﴿ بَلٰۤى١ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَيَاۡتُوۡؔكُمۡ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا يُمۡدِدۡؔكُمۡ رَبُّكُمۡ ﴾(آل عمران : 3؍125) ’’کیوں نہیں اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور کفار تم پر اچانک زور کا حملہ کر دیں تو تمھارا رب تمھاری مدد کرے گا۔‘‘گویا نفوس انسانی تقویٰ کی خصائل کی معرفت کے مشتاق ہوئے، جن کے ذریعے سے فتح و نصرت اور فلاح و سعادت حاصل ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں تقویٰ کے اہم ترین خصائل کا ذکر فرمایا جن کو اگر بندۂ مومن قائم کر لے تو پھر دوسرے خصائل تقویٰ کو وہ بطریق اولیٰ اختیار کرے گا۔ ہمارے اس قول کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ’’تقویٰ‘‘ کا لفظ تین بار ذکر فرمایا ہے۔ ایک دفعہ بغیر کسی قید کے علی الاطلاق ذکر فرمایا ﴿اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ دو دفعہ تقویٰ کا ذکر مقید طور پر کیا ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو‘‘ ﴿ وَاتَّقُوا النَّارَ ﴾ ’’آگ سے ڈرو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی یوں آتا ہے ’’اے ایمان والو! فلاں کام کرو یا فلاں کام چھوڑ دو...‘‘ تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایمان ہی وہ سبب ہے جو اس حکم کی اطاعت کا داعی اور موجب ہے اور اس نواہی سے اجتناب کا باعث ہے، کیونکہ ایمان ان تمام امور کی تصدیق کامل کا نام ہے جن کی تصدیق واجب ہے اور اعضاء کے اعمال کو مستلزم ہے، چنانچہ انھیں کئی کئی گنا سود کھانے سے منع کیا۔ جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگوں کی عادت تھی یا وہ لوگ ہیں جو شرعی احکام کی پروا نہیں کرتے۔ زمانہ جاہلیت میں سود لینے کا طریقہ یہ تھا کہ جب تنگ دست مقروض کے قرض کی ادائیگی کا وقت ہو جاتا اور اس سے کچھ حاصل ہونے کی امید نہ ہوتی تو قرض خواہ اس سے کہتا کہ وہ یا تو اپنا قرض ادا کر دے یا قرض خواہ مدت بڑھا دے گا اور مقروض کے ذمہ جو رقم ہے اس میں اضافہ ہو جائے گا۔ پس تنگ دست مقروض مجبور ہو جاتا اور اپنی جان چھڑانے اور وقتی طور پر راحت کی خاطر قرض خواہ کی شرائط کا التزام کر لیتا۔ اس طرح اس کے ذمہ جو قرض ہوتا وہ، بغیر کسی فائدے کے، بڑھ کر کئی گنا ہو جاتا۔ پس اللہ تعالیٰ کے قول ﴿ اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَةً﴾ میں سود کی برائی پر سخت تنبیہ بیان ہوئی ہے اور اس میں سود کی تحریم کی حکمت کی طرف اشارہ ہے۔ اور سود کی حرمت کی حکمت یہ ہے کہ اس میں بے انتہا ظلم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سود لینے سے روک دیا اور وہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے کہ تنگ دست مقروض کومہلت دی جائے اور بغیر کسی اضافے کے اس کے ذمہ وہی قرض باقی رہنے دیا جائے جو اصل زر ہے اور اس پر اصل زر سے زیادہ رقم عائد کرنا سخت ظلم ہے۔ لہٰذا متقی مومن پر لازم ہے کہ وہ سود کو ترک کر دے اور اس کے قریب نہ جائے کیونکہ سود کو ترک کرنا موجبات تقویٰ میں سے ہے۔ فلاح تقویٰ پر موقوف ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَۚ۰۰﴾
[131]﴿وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيۡۤ اُعِدَّتۡ لِلۡكٰفِرِيۡنَ﴾ یعنی جہنم سے ڈرو اور ان تمام امور کو چھوڑ دو جو جہنم میں لے جاتے ہیں مثلاً کفر اور مختلف اقسام کے گناہ اور معاصی۔ کیونکہ تمام گناہ، خصوصاً کبیرہ گناہ کفر کی طرف لے جاتے ہیں بلکہ کبیرہ گناہ تو کفر کے خصائل ہیں جس کے حاملین کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے اور گناہ اور معاصی کو ترک کرنا جہنم کی آگ سے نجات دیتا ہے اور خدائے جبار کی ناراضی سے بچاتا ہے۔ نیکی اور اطاعت کے افعال رحمٰن کی رضا، جنت میں دخول اور حصول رحمت کے موجب ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[132]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت حصول رحمت کا سبب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ١ؕ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ …﴾(الاعراف: 7؍156) ’’اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے اور میں اسے ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکاۃ دیتے ہیں۔‘‘
[133] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے مغفرت اور اس جنت کی طرف سبقت کرنے کا حکم دیا ہے جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے۔ تب اس کی لمبائی کا کیا حال ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس کو متقین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ متقین ہی اس جنت کے وارث ہیں اور اعمال تقویٰ ہی جنت تک پہنچاتے ہیں۔
[134] پھر اللہ تعالیٰ نے متقین اور ان کے اعمال کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِي السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ ﴾ یعنی وہ تنگی اور فراخی میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، یعنی جب وہ مال دار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے راستے میں کثرت سے خرچ کرتے ہیں اور جب وہ تنگدست ہوتے ہیں تو وہ نیکی کے کسی کام کو حقیر نہیں سمجھتے خواہ وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ ﴿ وَالۡــكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ ﴾ یعنی جب ان کو دوسروں کی طرف سے کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو ان کے غصے کا موجب ہوتی ہے۔ یہاں (غیظ) سے مراد ان کے دلوں کا ایسے غصے سے لبریز ہونا ہے جو قول و فعل کے ذریعے سے انتقام کا موجب ہوتا ہے۔ یہ اہل تقویٰ طبائع بشری کے ان تقاضوں پر عمل نہیں کرتے بلکہ ان کے دلوں میں جو غصہ ہوتا ہے اسے دبا دیتے ہیں اور برا سلوک کرنے والے کے مقابلے میں صبر سے کام لیتے ہیں۔ ﴿وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ ﴾لوگوں کو معاف کر دینے میں ہر اس شخص کو معاف کردینا شامل ہے جو آپ کے ساتھ قول یا فعل کے ذریعے سے برائی سے پیش آتا ہے۔(عفو)(کظم) سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ ’’عفو‘‘ برائی کرنے والے سے درگزر کرنے کے ساتھ، مواخذہ ترک کرنے کا نام ہے۔ یہ سب کچھ وہی شخص کر سکتا ہے جس نے اپنے آپ کو اخلاق جمیلہ سے آراستہ اور عادات رذیلہ سے پاک کر لیا ہو اور وہ ان میں سے ہو جس کی تجارت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو۔ جو اللہ کے بندوں پر رحم اور احسان کرتے ہوئے اور اس خوف سے کہ کہیں ان کو برائی نہ پہنچے ان کو معاف کر دیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے اور اس کا اجر اس کے رب کریم پر واجب ہو، نہ کہ اس بندۂ فقیر پر۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوری : 42؍40) ’’جو کوئی معاف کر دے اور معاملے کی اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے (بندۂ مومن کے) ایسے حال کا ذکر فرمایا ہے جو دیگر احوال سے زیادہ عام، احسن و اعلیٰ اور زیادہ جلیل القدر ہے اور وہ ہے احسان۔ فرمایا ﴿وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے‘‘ احسان کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں احسان۔ (۲) اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ احسان۔خالق کی عبودیت میں احسان کی تفسیر رسول اللہﷺنے ان الفاظ میں کی ہے: ’اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فِانْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاَکَ‘ (صحیح البخاری، الإيمان، سؤال جبریل النبیE …..، حديث: 5، وصحیح مسلم، الإيمان، حديث: 1)’’احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی بندگی اس طرح کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے دیکھ نہیں رہا تو پھر وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘ رہا مخلوق کے ساتھ احسان تو یہ ان کو دینی اور دنیاوی نفع پہنچانے اور ان سے دینی اور دنیاوی شر کو ہٹانے اور دور کرنے کا نام ہے، چنانچہ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، جاہل کو تعلیم دینا، غافل کو وعظ ونصیحت کرنا، مسلمان عوام اور خواص کی خیر خواہی کرنا اور ان کو متحد رکھنے کی کوشش کرنا یہ تمام امور مخلوق کے ساتھ احسان کے زمرے میں آتے ہیں۔ نیز لوگوں کے مختلف احوال اور متباین اوصاف کے مطابق ان تک واجب اور مستحب صدقات وغیرہ پہنچانا بھی احسان ہی میں شامل ہے۔ پس سخاوت کرنا، لوگوں کی تکالیف رفع کرنا خود تکالیف برداشت کرنا احسان ہے۔ جیسا کہ انھی آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کا وصف بیان فرمایا ہے۔ پس جس نے مذکورہ بالا امور کو قائم کیا اس نے اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق کو ادا کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی اس معذرت کا ذکر فرمایا جو وہ اپنے جرائم اور گناہوں کے بارے میں اپنے رب کے سامنے پیش کرتے ہیں:
[135]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ یعنی جب کبھی ان سے کوئی بڑا یا چھوٹا گناہ صادر ہو جاتا ہے تو وہ فوراً توبہ اور استغفار کرتے ہیں، اور اپنے رب اور اس کی وعید کو یاد کرتے ہیں جو اس نے نافرمانوں کو سنا رکھی ہے اور اپنے رب کے اس وعدے کو یاد کرتے ہیں جو اس نے اہل تقویٰ سے کر رکھا ہے۔ پس وہ گناہوں کو ترک کرنے اور ان پر نادم ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنے ان گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اس سے اپنے عیوب پر پردہ پوشی کا سوال کرتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَمۡ يُصِرُّوۡا عَلٰى مَا فَعَلُوۡا وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ جانتے ہوئے اپنی بداعمالیوں پر اڑتے نہیں ہیں‘‘
[136]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ جَزَؔآؤُهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’ان کی جزا مغفرت ہے ان کے رب کی طرف سے۔‘‘ اور یہ مغفرت ان کے ہر گناہ کو زائل کر دے گی ﴿ وَجَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، شادمانی، خوبصورتی، رونق، بھلائی، مسرت، عالی شان محل، خوبصورت اور بلند منازل، پھلوں سے لدے ہوئے خوش کن درخت، اور ان خوبصورت مساکن و منازل میں نہریں بہہ رہی ہوں گی ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے انھیں وہاں سے نکالا جائے گا نہ وہ ان جنتوں کے بدلے میں کچھ اور چاہیں گے اور نہ ان نعمتوں کو، جن میں وہ رہتے ہوں گے، بدلا جائے گا۔ ﴿ وَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ﴾ ’’اور عمل کرنے والوں کا اجر اچھا ہے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر تھوڑا عمل کیا مگر ان کو بہت زیادہ اجر عطا ہوا۔ مشقت برداشت کرنے کے بعد ہی راحت کی امید ہوتی ہے اور جزا کے وقت ہی عمل کرنے والے کو اپنے عمل کا پورا اور وافر بدلہ عطا ہوتا ہے۔یہ آیات کریمہ مرجئہ کے برعکس اہل سنت والجماعت کے اس موقف پر دلالت کرتی ہیں کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اور آیت کریمہ سے استدلال کا پہلو سورۃ الحدید کی اس آیت کو ملا کر مکمل ہوتا ہے جو کہ اس آیت کی نظیر ہے ﴿ سَابِقُوۡۤا اِلٰى مَغۡفِرَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ﴾(الحدید: 57؍21) ’’اپنے رب کی بخشش اور جنت کی طرف لپکو جس کی چوڑائی زمین و آسمان کی چوڑائی کی مانند ہے جسے ان لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔‘‘اس آیت کریمہ میں صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’جنت متقین کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ پھر متقین کے اعمال مالیہ اور اعمال بدنیہ بیان فرمائے۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ وہ متقین، جو ان صفات سے متصف ہیں، وہی مومن ہیں۔