Tafsir As-Saadi
6:161 - 6:165

کہہ دیجیے!بلاشبہ میں،ہدایت دی مجھے میرے رب نے طرف صراط مستقیم کی(، یعنی ) دین صحیح کی،جو طریقہ ہے ابراہیم کا اس حال میں کہ وہ رب کا پرستارتھا،اورنہیں تھا وہ مشرکوں میں سے(161) کہہ دیجیے!یقینا میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت(سب) اللہ رب العالمین کے لیے ہے(162) نہیں کوئی شریک اس کا،اور اسی کا حکم دیا گیا ہوں میں،اور میں سب سے پہلامسلمان ہوں (163) کہہ دیجیے!کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں رب؟جبکہ وہی ہے رب ہر چیز کا،اور نہیں کماتی کوئی جان(گناہ) مگر اسی پر ہے(وبال) اور نہیں اٹھائے گی کوئی (جان) بوجھ اٹھانے والی بوجھ دوسری(جان)کا، پھر طرف تمھارے رب کی واپسی ہے تمھاری پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے کہ تھے تم اس میں اختلاف کرتے(164) اور وہی ہے جس نے بنایا تمھیں جانشین زمین میں اور بلند کیا تمھارے ایک کو دوسرے پر درجات میں تاکہ آزمائے وہ تمھیں ان(نعمتوں) میں جو اس نے تمھیں دیں،بے شک آپ کا رب جلد سزادینے والا ہے اور بلاشبہ بہت بخشنے والا،مہربان ہے(165)

[161] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے کہ وہ جس راہ ہدایت اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں اس کے بارے میں اعلان کر دیں یعنی معتدل دین کا جو عقائد نافعہ، اعمال صالحہ، ہر اچھی بات کے حکم اور ہر بری بات سے ممانعت کو متضمن ہے۔ یہ وہ دین ہے جس پر تمام انبیا و مرسلین عمل پیرا رہے، جو خاص طور پر امام الحنفاء، بعد میں مبعوث ہونے والے تمام انبیا و مرسلین کے باپ اور اللہ رحمن کے خلیل ابراہیمu کا دین تھا۔ یہی وہ دین حنیف ہے جو تمام اہل انحراف، مثلاً: یہود و نصاریٰ اور مشرکین کے ادیان باطلہ سے روگردانی کو متضمن ہے۔یہ عمومی ذکر ہے ۔
[162] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے افضل ترین عبادت کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿قُلۡ اِنَّ صَلَاتِيۡ وَنُسُكِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ میری نماز اور میری قربانی۔‘‘ان دو عبادات کا ذکر ان کے فضل و شرف اور اس بنا پر کیا ہے کہ یہ دونوں عبادات اللہ تعالیٰ سے محبت، دین کو اس کے لیے خالص کرنے، قلب و لسان، جوارح اور قربانی کے ذریعے سے اس کے تقرب کے حصول پر دلالت کرتی ہیں اور قربانی سے مراد ہے کہ مال وغیرہ کو جو نفس کو محبوب ہے، اس ہستی کے لیے خرچ کرنا جو اس کو سب سے زیادہ محبوب ہے، یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ۔ جس نے اپنی نماز اور قربانی کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا تو یہ اس بات کو مستلزم ہے کہ اس نے اپنے تمام اعمال و اقوال کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا۔ ﴿ وَمَحۡيَايَ وَمَمَاتِيۡ ﴾ ’’اور میرا جینا اور میرا مرنا۔‘‘ یعنی میں جو کچھ اپنی زندگی میں کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ جو کچھ میرے ساتھ کرتا ہے اور زمانہ موت میں اللہ تعالیٰ میرے لیے جو کچھ مقدر کرے گا۔﴿ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔
[163]﴿ لَا شَرِيۡكَ لَهٗ ﴾ عبادت میں اس کا کوئی شریک ہے نہ اقتدار اور تدبیر میں ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے لیے یہ اخلاص کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں جو میں نے خود گھڑ لی ہو بلکہ ﴿ وَبِذٰلِكَ اُمِرۡتُ ﴾ ’’اور مجھے اسی (اخلاص) کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘ یعنی حتمی حکم۔ اور اس حکم کی تعمیل کیے بغیر میں اس کی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے اول فرماں بردار ہوں ۔‘‘ یعنی اس امت میں ، پہلا مسلمان ہوں ۔
[164]﴿ قُلۡ اَغَيۡرَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے، کیا اب میں اللہ کے سوا‘‘ یعنی مخلوق میں سے ﴿اَبۡغِيۡ رَبًّا﴾ ’’تلاش کروں کوئی رب؟‘‘ کیا یہ میرے لیے اچھا اور میرے لائق ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اپنا رب اور مدبر بنا لوں ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا رب ہے اور تمام مخلوق اس کی ربوبیت کے تحت داخل اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ پس مجھ پر اور دیگر لوگوں پر یہ بات واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب تسلیم کریں اور اس پر راضی رہیں ۔ محتاج، عاجز اور مربوب مخلوق میں سے کسی کو رب نہ بنائیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ جزا و سزا کی ترغیب و ترہیب کے لیے فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍ ﴾ ’’اور جو کوئی جو کماتا ہے‘‘ یعنی ہر شخص خیر و شر کا جو ارتکاب کرتا ہے ﴿ اِلَّا عَلَيۡهَا ﴾ ’’اس کی جزا و سزا صرف اسی کے لیے ہے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا ﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے اس کی جزا اسی کے لیے ہے اور جو برا کام کرتا ہے اس کا وبال اسی پر ہے۔‘‘ ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾ ’’کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘‘ بلکہ ہر شخص اپنا بوجھ خود اٹھائے گا۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی گمراہی اور اس کے گناہ کا سبب بنا تو اسے سبب بننے کے گناہ کا بوجھ اٹھانا ہو گا اور گناہ کا ارتکاب کرنے والے کے گناہ میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ ﴿ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ مَّرۡجِعُكُمۡ ﴾ ’’پھر تمھارے رب کے پاس ہی تم کو لوٹ کر جانا ہے‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا۔‘‘ یعنی خیروشر میں جو تم اختلاف کرتے ہو، اس کے بارے میں تمھیں آگاہ کرے گا اور تمھیں اس کی پوری پوری جزا دے گا۔
[165]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ جَعَلَكُمۡ خَلٰٓىِٕفَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور وہی توہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا۔‘‘ یعنی تم ایک دوسرے کے جانشین بنتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھیں زمین میں جانشین بنایا اور زمین کی تمام موجودات کو تمھارے لیے مسخر کر کے تمھیں آزمایا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ ﴿ وَرَفَعَ بَعۡضَكُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰؔتٍ ﴾ ’’اور بلند کیا اس نے تمھیں درجوں میں ایک کو ایک پر‘‘ یعنی قوت، عافیت، رزق، خلقت اور خلق میں ایک دوسرے پر فوقیت عطا کی ﴿ لِّيَبۡلُوَؔكُمۡ فِيۡ مَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھیں آزمائے وہ ان چیزوں میں جو اس نے تمھیں دیں ۔‘‘ پس تمھارے اعمال ایک دوسرے سے متفاوت ہیں ﴿اِنَّ رَبَّكَ سَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’تمھارا رب ان لوگوں کو بہت جلد سزا دینے والا ہے۔‘‘ ان کو جو اس کی نافرمانی اور اس کی آیات کی تکذیب کرتے ہیں ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ ان لوگوں کے لیے جو اس پر ایمان لاتے ہیں ، نیک عمل کرتے ہیں اور مہلک گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔