مثال ان لوگوں کی کہ اٹھوائے گئے وہ تورات ‘‘ پھر نہ اٹھایا انھوں نے اس کو، مانند مثال اس گدھے کی ہے جو اٹھاتا ہے کتابیں ،بری مثال ہے اس قوم کی جنھوں نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(5) کہہ دیجیے، اے لوگو جو یہودی ہوئے! اگر دعویٰ کرو تم اس بات کا کہ بلاشبہ تم دوست ہو اللہ کے سوائے (دوسرے) لوگوں کے تو تم تمنا کرو موت کی اگر ہو تم سچے(6) اور نہیں تمنا کریں گے وہ اس کی کبھی بھی بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ہے ان کے ہاتھوں نے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو(7) کہہ دیجیے! بلاشبہ موت، وہ کہ بھاگتے ہو تم اس سے، تو یقیناً وہ ملنے والی ہے تمھیں، پھر لوٹائے جاؤ گے تم طرف اس کی (جو) جانتا ہے غیب اور حاضر کو، پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے کہ جو تھے تم عمل کرتے(8)
[5] جب اللہ تعالیٰ نے اس امت پر اپنے احسانات کا ذکر فرمایا، جن کے اندر اپنا نبئ امی (ﷺ)مبعوث فرمایاتو ان کے ایسے خصوصی مناقب کا ذکر کیا جن میں کوئی شخص ان تک نہیں پہنچ سکا۔ اس سے مراد نبئ اُمی کی امت کے لوگ ہیں جو اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے، حتیٰ کہ اہل کتاب پر بھی فوقیت لے گئے جو اپنے آپ کو علمائے ربانی اور احبار متقدمین سمجھتے تھے ... تو یہ بھی ذکر فرمایا کہ یہود و نصاریٰ میں سے وہ لوگ جن پر تورات کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی اور ان کو حکم تھا کہ وہ تورات کی تعلیم حاصل کریں اور اس پر عمل کریں، انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھایا نہ پورا کیا، ان کے لیے کوئی فضیلت نہیں اور ان کی مثال اس گدھے کی سے ہے جس کی پیٹھ پرعلمی کتابوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہو۔ کیا یہ گدھا ان کتابوں سے مستفید ہو سکتا ہے جو اس کی پیٹھ پر لاد دی گئی ہیں؟ کیا اس سبب سے اسے کوئی فضیلت ہو سکتی ہے یا اس کا نصیب تو بس ان کتابوں کو اٹھانا ہے؟ یہی مثال اہل کتاب کے ان علماء کی ہے جو تورات کے احکامات پر عمل نہیں کرتے، جن میں سے جلیل ترین اور عظیم ترین حکم حضرت محمد مصطفیﷺ کی اتباع کا حکم، آپ کی بعثت کی بشارت اور آپ جو قرآن لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے کا حکم ہے، پس جس کا یہ وصف ہو وہ ناکامی اور خسارے اور اس کے خلاف حجت کے قائم ہونے کے سوا کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟ یہ مثال ان کے احوال کے عین مطابق ہے۔﴿ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔‘‘ یعنی وہ آیات جو ہمارے رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور جو کچھ آپ لے کر تشریف لائے ہیں اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کرتا۔‘‘ یعنی جب تک ظلم ان کا وصف اور عنادان کی صفت ہے، تب تک اللہ تعالیٰ ان کی ان کے مصالح کی طرف راہ نمائی نہیں کرے گا۔
[6] یہود کا ظلم اور عناد یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ باطل پر ہیں مگر وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور تمام لوگوں میں سے صرف وہی اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم اپنے زعم میں سچے ہو کہ تم حق پر ہو اور اللہ تعالیٰ کے دوست ہو ﴿فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ ﴾ ’’تو تم موت کی آرزو کرو۔‘‘ اور یہ بڑا خفیف سا معاملہ ہے کیونکہ اگر انھیں یقین ہے کہ وہ حق پر ہیں تو مقابلے کی اس دعوت (موت کی تمنا) پر توقف نہ کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کی دلیل اور موت کی تمنا نہ کرنے کو ان کے کذب کی دلیل قرار دیا ہے۔
[7] اس اعلان کے باوجود جب (انھوں نے اس کو قبول نہ کیا اور) ان سے موت کی تمنا واقع نہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے موقف کے بطلان اور اس کے فساد کو جانتے ہیں اس لیے فرمایا :﴿ وَلَا يَتَمَنَّوۡنَهٗۤ۠ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اس موت کی کبھی آرزو نہ کریں گے بسبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔‘‘ یعنی گناہ اور معاصی جن کی وجہ سے وہ موت سے خائف ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ اس پر ان کے ظلم میں سے کچھ چھپ سکے۔
[8] وہ اگرچہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے موت کی تمنا نہیں کرتے، بلکہ موت سے بہت زیادہ بھاگتے ہیں، مگر ان کا موت سے بھاگنا ان کو موت سے بچا نہیں سکے گا، بلکہ موت ان سے ضرور ملاقات کرے گی، جسے اللہ نے اپنے بندوں پر لکھ دیا ہے۔ پھر زندگی کی مدت پوری کرنے اور مرنے کے بعد قیامت کے روز تمام مخلوق کو غیب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے پیش کیا جائے گا وہ ان کو ان کے اچھے برے اور قلیل و کثیر اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گی۔