اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ غافل کر دے تمھیں تمھارا مال اور نہ تمھاری اولاد اللہ کے ذکر سے اور جو کوئی کرے یہ کام تو وہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(9) اور خرچ کرو تم اس میں سے جو رزق دیا ہے ہم نے تمھیں، پہلے اس سے کہ آئے کسی ایک کو تم میں سے موت ، پھر وہ کہے، اے میرے رب! کیوں نہیں ڈھیل (مہلت) دی تو نے مجھے ایک تھوڑی مدت تک کہ صدقہ کرتا میں اور ہو جاتا میں صالح لوگوں میں سے؟ (10) اور ہرگز نہیں ڈھیل (مہلت) دے گا اللہ کسی نفس کو جب آ جائے گی اجل اس کی، اور اللہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (11)
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کثرت کے ساتھ ذکر کرنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس میں نفع، فوز و فلاح اور بے شمار بھلائیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں مال اور اولاد کی محبت میں مشغول ہو کر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے سے روکا ہے کیونکہ مال اور اولاد کی محبت اکثر نفوس کی جبلت ہے، پس وہ مال اور اولاد کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر ترجیح دیتے ہیں اور اس میں بہت بڑا خسارہ ہے اس لیے فرمایا :﴿ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ﴾ جسے اس کے مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دیتے ہیں ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’تو وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔‘‘ ابدی سعادت اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے بارے میں خسارے میں رہنے والے ہیں کیونکہ انھوں نے ہمیشہ رہنے والی چیز پر فانی چیز کو ترجیح دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَاَوۡلَادُؔكُمۡ فِتۡنَةٌ١ؕ وَاللّٰهُ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ﴾(التغابن:64؍15) ’’بے شک تمھارے مال ا ور تمھاری اولاد آزمائش ہیں، اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔‘‘
[10]﴿ وَاَنۡفِقُوۡا مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰكُمۡ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے تمھیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرو۔‘‘ اس حکم میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ، کفارات، اہل و عیال اور غلاموں وغیرہ کا نان و نفقہ اور تمام نفقات مستحبہ ، مثلاً: تمام مصالح میں مال خرچ کرنا شامل ہیں اور فرمایا: ﴿ مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰكُمۡ﴾ یہ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے نفاق کا مکلف نہیں بنایا جو ان کے لیے نہایت مشکل ہو اور ان پر شاق گزرے، بلکہ ان کو اس رزق میں سے کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکالنے کا حکم دیا ہے، جو اسی نے ان کو عطا اور میسر کیا اور اس کے اسباب مہیا کیے۔پس انھیں چاہیے کہ وہ اپنے نادار بھائیوں کی مالی مدد کر کے اس ہستی کا شکر ادا کریں جس نے ان کو رزق عطا کیا ہے اور موت سے پہلے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کریں۔ موت جب آ جائے گی تو بندے کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ ذرہ بھر بھی بھلائی کر سکے، اس لیے فرمایا :﴿ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ فَيَقُوۡلَ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے اور پھر وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی اس کوتاہی پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے جو اس وقت واقع ہوئی جب اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ممکن تھا اور واپس لوٹائے جانے کی التجا کرتے ہوئے، حالانکہ یہ محال ہو گا، کہے گا:﴿ رَبِّ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنِيۡۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اے میرے رب! تو نے مجھے تھو ڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی؟‘‘ تاکہ جو میں نے کوتاہی کی ہے اس کا تدارک کر سکوں۔ ﴿ فَاَصَّدَّقَ﴾ پس اپنے مال میں سے صدقہ کروں جس کے ذریعے سے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جاؤ ں اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہروں ﴿ وَ اَكُنۡ مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ اور تمام مامورات کو ادا کر کے اور تمام منہیات سے اجتناب کر کے صالحین میں شامل ہو سکوں اور اس میں حج وغیرہ بھی شامل ہے۔
[11] اس التجا اور تمنا کا وقت چلا گیا، جس کا تدارک ممکن نہیں، بنابریں فرمایا :﴿ وَلَنۡ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفۡسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا﴾’’اور اللہ ہر گز مہلت نہیں دیتا کسی نفس کو جب اس کی موت کا وقت آجاتا ہے۔‘‘ جس کا آنا حتمی ہے ۔﴿ وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ یعنی تم جو اچھے یا برے اعمال کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان کی خبر رکھتا ہے وہ تمھاری نیتوں اور اعمال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔