نہیں پہنچتی کوئی مصیبت مگر اللہ کے حکم ہی سے اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے وہ ہدایت دیتا ہے اس کے دل کو اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (11) اور اطاعت کرو تم اللہ کی او ر اطاعت کرو تم رسول کی، پس اگر رو گردانی کرو تم تو بلاشبہ ہمارے رسول پر ہے پہنچا دینا ظاہر (12) اللہ، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے اور اللہ ہی پر پس چاہیے توکل کریں مومن (13)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِيۡبَةٍ اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’جو مصیبت بھی آتی ہے وہ اللہ ہی کےحکم سے آتی ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ جان، مال، اولاد اور احباب کے مصائب وغیرہ سب کو شامل ہے، چنانچہ بندوں پر نازل ہونے والے تمام مصائب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم ہے، اس پر اس کا قلم جاری ہو چکا، اس پر اس کی مشیت نافذ ہو چکی اور اس کی حکمت نے اس کا تقاضا کیا ۔ مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ آیا بندے نے اس ذمہ داری کو پورا کیا جو اس مقام پر اس پر عائد تھی یا وہ اس کو پورا نہ کر سکا؟اگر اس نے اس ذمہ داری کو پورا کیا تو اس کے لیے دنیا و آخرت میں ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے۔ پس جب وہ اس حقیقت پر ایمان لے آیا کہ یہ مصیبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تب اس پر راضی ہوا، اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا، تو اللہ اس کے قلب کو ہدایت سے بہرہ مند کر دیتا ہے ، پس وہ مطمئن ہو جاتا ہے، تب وہ مصائب کے وقت گھبراتا نہیں، جیسا کہ اس شخص کا وتیرہ ہے جس کے قلب کو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا نہیں کرتا، مگر مصائب کے وارد ہونے پر اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی اور موجبات صبر کو قائم کرنے کی توفیق سے نوازتا ہے، اس سے اس کو دنیاوی ثواب حاصل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ، جزا و سزا کے دن کے لیے ثواب کو ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰؔبِرُوۡنَ اَجۡرَهُمۡ بِغَيۡرِ حِسَابٍ﴾(الزمر: 39؍10) ’’جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بے حد و حساب اجر عطا کیا جائے گا۔‘‘ اس سے یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ جو کوئی مصائب کے وارد ہونے پر اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا، اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کا لحاظ نہیں کرتا بلکہ محض اسباب کے ساتھ ٹھہر جاتا ہے، اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے۔جب بندہ نفس پر بھروسہ کرتا ہے تو نفس کے پاس چیخ و پکار اور بے صبری کے سوا کچھ نہیں۔ یہ وہ فوری سزا ہے جو آخرت کی سزا سے پہلے بندے کو اس دنیا میں اس پاداش میں ملتی ہے کہ اس نے صبر میں کوتاہی کی جو اس پر واجب تھا۔یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق ہے ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ يَهۡدِ قَلۡبَهٗ﴾ اور جو کوئی اللہ پر ایمان لائے تو مصائب کے خاص مقام میں بھی اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت عطا کرتا ہے۔ رہی وہ چیز جو عموم لفظی کی حیثیت سے اس سے تعلق رکھتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ہر وہ شخص جو ایمان لایا ، یعنی ایسا ایمان جو مامور بہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا، پھر ایمان جن لوازم و واجبات کا تقاضا کرتا ہے، اس کے ایمان نے ان کی تصدیق کی۔ یہ سبب جس کو بندے نے اختیار کیا، اس کے اقوال و افعال، اس کے تمام احوال اور اس کے علم و عمل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے ہدایت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یہ بہترین جزا ہے جو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو عطا کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی سے بہرہ مند کرتا ہے۔اصل ثابت قدمی، دل کی ثابت قدمی، اس کا صبر اور ہر قسم کے فتنہ کے وارد ہونے کے وقت اس کا یقین ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ﴾(ابراہیم:14؍27) ’’اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے مضبوط بات کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثبات عطا کرتا ہے۔‘‘ پس اہل ایمان کے دل لوگوں میں سب سے زیادہ راہ ہدایت پر اور وہ گھبراہٹ اور خوف کے موقعوں پر سب سے زیادہ ثابت قدم ہوتے ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایمان ہے۔
[12] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ﴾ ’’اور تم اللہ کی اطاعت کرو اور (اس کے) رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ یعنی ان دونوں کے اوامر کی تعمیل اور ان کے نواہی سے اجتناب میں ان کی اطاعت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺکی اطاعت، سعادت کا مدار اور فلاح کا عنوان ہے ﴿ فَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ﴾ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول(ﷺ) کی اطاعت سے روگردانی کرو ﴿ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’تو ہمارے رسول تو صرف پر کھول کر پہنچادینا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے رسول پر تو وہی ہے جو اسے دے کر تمھاری طرف بھیجا گیا ہے اور وہ سب کچھ نہایت واضح طور پر تمھیں پہنچا دیتا ہے جس کے ذریعے سے تم پر حجت قائم ہوتی ہے، تمھاری ہدایت اس کے قبضۂ قدرت میں ہے نہ تمھارا حساب اس کے اختیار میں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت اور عدم اطاعت کے بارے میں تمھارا محاسبہ وہ ہستی کرے گی جو غیب اور عیاں کا علم رکھنے والی ہے۔
[13]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں۔‘‘ یعنی وہ عبادت اور الوہیت کا مستحق ہے اس کے سوا ہر معبود باطل ہے ﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ پس اہل ایمان کو ہر معاملے میں جو بھی انھیں پیش آئے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ کوئی معاملہ آسان نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے۔ اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ پر بندے کا اعتماد اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک بندے کا اپنے رب کے ساتھ حسن ظن نہ ہو اور اس معاملے میں اس کے کافی ہونے کا وثوق نہ ہو، جس پر وہ بھروسہ کر رہا ہے۔ اور بندے کے ایمان کے مطابق اس کے توکل میں قوت اور ضعف ہوتا ہے۔