Tafsir As-Saadi
43:1 - 43:5

حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بے شک کیا ہم نے اس کو قرآن عربی زبان میں، تاکہ تم سمجھو(3) اور بلاشبہ وہ اصل کتاب میں ہمارے پاس یقیناً بہت بلند (درجے والا) نہایت حکمت والا ہے(4) کیا پس روک لیں گے ہم تم سے ذکر (نصیحت) کو، اعراض کرتے ہوئے، اس لیے کہ ہو تم لوگ حد سے گزر جانے والے(5)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن عظیم کی قرآن پر قسم ہے، اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین کی علی الاطلاق قسم کھائی اور متعلق کو ذکر نہیں فرمایا تاکہ یہ اس حقیقت پر دلالت کرے کہ یہ دین، دنیا اور آخرت کی ہر اس چیز کو بیان کر کے واضح کرتی ہے جس کی بندوں کو حاجت ہے۔ ﴿اِنَّا جَعَلۡنٰهُ قُرۡءٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ ’’ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے۔‘‘ یہ ہے وہ چیز جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سب سے فصیح، سب سے واضح اور سب سے زیادہ زور بیان والی زبان میں نازل فرمایا اور یہ اس کا بیان ہے اور اس میں پنہاں حکمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴾ شاید کہ تم اس کے الفاظ و معانی کو، ان کے آسان اور اذہان کے قریب ہونے کی بنا پر سمجھ سکو۔
[4]﴿وَاِنَّهٗ﴾ یعنی یہ کتاب ﴿فِيۡۤ اُمِّ الۡكِتٰبِ لَدَيۡنَا ﴾ ’’ (لوح محفوظ) میں ہمارے پاس ہے۔‘‘ یعنی ملأاعلیٰ میں بلند ترین اور افضل ترین مرتبے میں ہے۔ ﴿لَعَلِيٌّ حَكِيۡمٌ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ قدروشرف اور بلند مقام کی حامل ہے۔ یہ کتاب جن اوامرونواہی اور اخبار پر مشتمل ہے، ان میں حکمت رکھی گئی ہے۔ اس میں کوئی حکم ایسا نہیں جو حکمت، عدل اور میزان کے خلاف ہو۔
[5] پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس کی حکمت اور اس کا فضل تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنے بندوں کو مہمل اور آزاد نہ چھوڑے، ان کی طرف رسول بھیجے اور ان پر کتاب نازل کرے، خواہ وہ حد سے گزرنے والے ظالم ہی کیوں نہ ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿اَفَنَضۡرِبُ عَنۡكُمُ الذِّكۡرَ صَفۡحًا ﴾ یعنی کیا ہم تم لوگوں سے تمھارے اعراض اور عدم اطاعت کی بنا پر منہ موڑ کر تمھاری طرف نصیحت نازل کرنا چھوڑ دیں؟ نہیں، بلکہ ہم تم پر کتاب نازل کریں گے جس میں تمھارے لیے ہر چیز واضح کریں گے۔ اگر تم ایمان لائے اور راہ راست پر چلے تو یہ تمھیں عطا کی گئی توفیق ہے ورنہ تم پر حجت قائم ہو جائے گی اور تمھارا معاملہ تمھارے سامنے واضح ہو جائے گا۔