جھٹلایا تھا ان سے پہلے قوم نوح نے، پس انھوں نے تکذیب کی ہمارے بندے کی اور کہا (یہ) دیوانہ ہے، اور جھڑک دیا گیا(9) تو پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بے شک میں بے بس ہوں پس تو انتقام لے (10) سو کھول دیے ہم نے دروازے آسمان کے ساتھ پانی زور دار برسنے والے کے (11) اور جاری کر دیے ہم نے زمین سے چشمے، سو مل گیا (آسمان و زمین کا) پانی ایک امر پر جو مقدر کیا گیا تھا (12) اور سوار کیا ہم نے اس (نوح) کو اوپر (کشتی) تختوں اور میخوں والی کے (13) وہ چلتی تھی ہماری آنکھوں کے سامنے بدلہ لینے کے لیے اس شخص کا جس کا انکار کیا گیا تھا (14) اور تحقیق (بنا) چھوڑا ہم نے اس (کشتی) کو ایک نشانی پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (15) پس (بتاؤ ) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (16) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (17)
[9] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جنھوں نے اس کے رسول ﷺ کو جھٹلایا، نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ معجزات ان کو کوئی فائدہ دیں گے نہ ان کے کسی کام آئیں گے تو انھیں متنبہ کیا اور گزری ہوئی قوموں کی سزاؤ ں سے ڈرایا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا، اللہ تعالیٰ نے کیسے ان کو ہلاک کیا اور ان پر عذاب نازل کیا، چنانچہ قوم نوح کا ذکر کیا۔ حضرت نوح uپہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایسی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو بتوں کی عبادت کرتی تھی۔ نوحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسی اکیلے کی عبادت کا حکم دیا مگر انھوں نے شرک کو ترک نہ کیا اور کہنے لگے:﴿وَ لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّلَا يَغُوۡثَ وَيَعُوۡقَ وَنَسۡرًا﴾(نوح:71؍23) ’’تم اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو اور نہ چھوڑو تم ود کو اور نہ سواع اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو۔‘‘ حضرت نوحu انھیں شب و روز اور کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر ان میں عناد، سرکشی اور اپنے نبی میں جرح و قدح کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔ بنابریں یہاں فرمایا :﴿ فَكَذَّبُوۡا عَبۡدَنَا وَقَالُوۡا مَجۡنُوۡنٌ﴾ ’’چنانچہ انھوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا (یہ تو) دیوانہ ہے۔‘‘ ان کے زعم باطل کے مطابق ان کے آباء و اجداد جس شرک اور گمراہی کے راستے پر گامزن تھے، اسی پر عقل دلالت کرتی ہے، اور حضرت نوحu جو چیز پیش کر رہے ہیں وہ جہالت اور گمراہی ہے جو پاگلوں ہی سے صادر ہو سکتی ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں جھوٹ بولا اور ان حقائق کو بدل ڈالا جو عقلاً اور شرعاً ثابت شدہ تھے۔ کیونکہ حضرت نوحu جو کچھ لے کر آئے وہ ثابت شدہ حق تھا جو راست رو اورروشن عقل کی رشد و ہدایت اور روشنی کی طرف راہ نمائی کرتا تھا۔ اور ان کا موقف محض جہالت اور واضح گمراہی تھا۔ فرمایا:﴿ وَّ ازۡدُجِرَ﴾ یعنی ان کی قوم نے ان کو زجر و توبیخ کی اور برا بھلا کہا، کیونکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی تھی۔ آپ کی قوم نے... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے... آپ پر ایمان نہ لانے اور آپ کی تکذیب کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اپنے مقدور بھر آپ کو اذیتیں بھی دیں۔ تمام انبیاء و مرسلین کے دشمنوں کا اپنے نبیوں کے ساتھ یہی وتیرہ رہا ہے۔
[10] تب اس موقع پر نوح u نے اپنے رب کو پکارا اور کہا:﴿ اَنِّيۡ مَغۡلُوۡبٌ﴾ ’’بے شک میں کمزور ہوں۔‘‘ ان سے انتقام لینے کی مجھ میں قدرت نہیں کیونکہ حضرت نوحu کی قوم میں سے بہت تھوڑے اور چند لوگ ایمان لائے تھے جن میں اپنی قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ ﴿ فَانۡتَصِرۡ﴾ اے اللہ! میری طرف سے بدلہ لے۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں حضرت نوح نے دعا مانگی : ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب! کسی کافر کو زمین پر آباد نہ رہنے دے۔‘‘
[11] اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما لی اور حضرت نوحu کی طرف سے ان کی قوم سے بدلہ لیا۔ فرمایا:﴿ فَفَتَحۡنَاۤ اَبۡوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنۡهَمِرٍ﴾ چنانچہ ہم نے زور سے برسنے والے پانی کے ساتھ آسمان کے دہانے کھول دیے۔
[12]﴿وَ فَجَّرۡنَا الۡاَرۡضَ عُيُوۡنًا﴾ ’’اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کردیے۔‘‘ پس آسمان نے اتنا پانی برسایا جو خارق عادت تھا، تمام روئے زمین پر پانی کے چشمے پھوٹ پڑے حتیٰ کہ تنور سے بھی چشمہ پھوٹ پڑا، جہاں عادۃً چشمے کا ہونا تو کجا، پانی بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ تنور آگ کی جگہ ہے ﴿ فَالۡتَقَى الۡمَآءُ ﴾ تو (آسمان اور زمین کا) پانی مل گیا۔ ﴿عَلٰۤى اَمۡرٍ ﴾ ایک ایسے امر پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ قَدۡ قُدِرَ﴾ ’’بے شک طے تھا ‘‘ یعنی جسے اللہ تعالیٰ نے ازل میں لکھ رکھا تھا اور ان سرکش ظالموں کو سزا دینے کے لیے مقدر کر رکھا تھا۔
[13]﴿ وَحَمَلۡنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّدُسُرٍ ﴾ یعنی ہم نے اپنے بندے نوح کو کشتی پر سوار کرا کر(اس طوفان سے)نجات دی، جو لکڑی کے تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی، یعنی میخوں کے ذریعے سے تختوں کو جوڑا اور تسموں سے باندھا گیا تھا۔
[14]﴿ تَجۡرِيۡ بِاَعۡيُنِنَا﴾ یعنی یہ کشتی حضرت نوح کے ساتھ، ان لوگوں کے ساتھ جو آپ پر ایمان لائے تھے اور دیگر مخلوقات کی ان اصناف کے ساتھ (پانی پر) چل رہی تھی جن کو حضرت نوحu نے اپنے ساتھ اس میں سوار كيا تھا۔ يہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی، ڈوبنے سے اس کی حفاظت، اور اس کی خاص دیکھ بھال کے تحت پانی پر رواں دواں تھی اور وہ بہت اچھا حفاظت کرنے والا اور بہت اچھا کار ساز ہے۔ ﴿ جَزَآءًؔ لِّمَنۡ كَانَ كُفِرَ﴾ یعنی ہم نے نوح u کو غرق عام سے بچایا، اس جزا کے طور پر کہ آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کا انکار کیا مگر آپ ان کو دعوت دینے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے پر ڈٹے رہے، کوئی آپ کو اپنے مقصد سے ہٹا سکا، نہ آپ کا راستہ روک سکا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ١ؕ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾(ھود:11؍48)’’کہا گیا: اے نوح! اتر تو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر اوران قوموں پر (نازل کی گئی) ہیں، جو آپ کے ساتھ ہیں، اور کچھ دوسری قومیں ہیں جن کو ہم (دنیا میں) کچھ فائدہ اٹھانے دیں گے ، پھر انھیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا اور ہم نے ان کو عذاب اور رسوائی میں ڈالا، ان کے کفر اور عناد کی جزاکے طور پر۔ یہ معنی اس شخص کی قراء ت پر مبنی ہے، جس نے ’’کفر‘‘ کے کاف کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔
[15]﴿ وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ یعنی ہم نے قوم نوح کے ساتھ نوح uکے قصے کو ایک نشانی کے طور پر چھوڑا، جس سے نصیحت حاصل کرنے والے اس بات کی نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ جو کوئی رسولوں کی نافرمانی کرتا اور ان کے ساتھ عناد رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک عام اور سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالتا ہے۔ یا ﴿ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ ﴾کی ضمیر کشتی اور اس کی جنس کی طرف لوٹتی ہے ، اس لیے کہ کشتی کی صنعت کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول نوح uکو دی ، پھر اس کی صنعت اور اس کی جنس کو لوگوں میں باقی رکھا تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر رحمت اور عنایت، اس کی کامل قدرت اور انوکھی صنعت پر دلالت کرے۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا اور اپنے فکر و ذہن کو ان کے سامنے ڈال دینے والاہے ، بے شک یہ نشانیاں نہایت واضح اور بہت آسان ہیں۔
[16]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ پس اے مخاطب! تو نے اللہ تعالیٰ کے درد ناک عذاب اور اس کی اس تنبیہ کو کیسا دیکھا جو کسی کے لیے کوئی حجت نہیں چھوڑتی؟
[17]﴿ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ہم نے اس قرآن کے الفاظ کو یاد کرنے ان کو ادا کرنے، اور اس کے معانی کو علم و فہم کی خاطر نہایت آسان اور سہل بنایا کیونکہ قرآن لفظ کے اعتبار سے اچھا، معنیٰ کے اعتبار سے سب سے سچا اور تفسیر کے اعتبار سے سب سے واضح کلام ہے۔ جو کوئی قرآن کریم پر اپنی توجہ کو مرکوز کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے مطلوب و مقصود کو حد درجہ آسان اور سہل کر دیتا ہے۔(اَلذِّکْر) حلال و حرام کے احکام، امر و نہی، جزا و سزا کے احکام، مواعظ، عبرت انگیز واقعات، عقائد نافعہ اور اخبار صادقہ کو شامل ہے۔ بنابریں قرآن کریم کا علم، حفظ اور تفسیر کے اعتبار سے بہت آسان اور علی الاطلاق جلیل ترین علم ہے۔ قرآن کا علم بہت نفع مند علم ہے۔ بندۂ مومن جب اسے طلب کرتا ہے تو اس کی مدد کی جاتی ہے۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں سلف میں کسی کا قول ہے ’’کیا کوئی علم کا طالب ایسا ہے جس کی اس بارے میں مدد کی جائے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی طرف توجہ مبذول کرنے اور اس سے نصیحت کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا:﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ ’’ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔‘‘