Tafsir As-Saadi
7:24 - 7:26

کہا(اللہ نے) اُترو تم،ایک تمھارا،دوسرے کادشمن ہے،اور تمھارے لیے زمین میں ٹھہرنااور فائده اٹھانا ہے ایک وقت(معین) تک(24) فرمایا اسی(زمین) میں زندہ رہو گے تم اور اسی میں مرو گے تم اور اسی سے(روزقیامت)نکالے جاؤ گے(25) اے بنی آدم!تحقیق اتارا ہم نے تم پر ایسا لباس جو چھپاتا ہے تمھاری شرم گاہیں اور(اتارا) لباس زینت، اورلباس تقویٰ کا،یہ بہت بہتر ہے۔یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ وہ (لوگ)نصیحت حاصل کریں(26)

[24]یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدم اور حوا i کو جمع کے صیغے کے ساتھ مخاطب کر کے نیچے اترنے کا حکم دیا کیونکہ ابلیس تو اس سے قبل اتارا جا چکا تھا، پھر سب زمین کی طرف اتارے گئے۔ آدم و حوا کے ساتھ ابلیس کو بھی بتکرار حکم دیا گیا تاکہ معلوم ہو کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گے۔ کیونکہ ابلیس انسان سے کبھی جدا نہیں ہوتا بلکہ ہر وقت ساتھ رہتا ہے اور اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔﴿ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ ﴾ کا جملہ (اِھِبْطُوْا)کی ضمیر سے حال ہونے کی بنا پر نصب کے مقام پر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم و حواء iاور شیطان سے کہا کہ سب جنت سے نکل کر زمین پر اتر جاؤ درآں حالیکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو زمین پر تمھارا ٹھکانا ہے، اس وقت تک، جب تک تمھارا زمین میں رہنا مقدر ہے۔[25] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدمu، ان کی بیوی اور ان کی اولاد کو زمین پر اتار دیا تو ان کو زمین کے اندر ان کے قیام کے احوال کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ زمین کے اندر ان کے لیے ایک ایسی زندگی مقرر کر دی ہے جس کے تعاقب میں موت ہے جو ابتلاء و امتحان سے لبریز ہے۔ وہ اسی دنیا میں رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی طرف اپنے رسول بھیجے گا، ان پر کتاب نازل کرے گا۔ حتیٰ کہ ان پر موت آئے گی اور وہ اسی زمین میں دفن کر دیے جائیں گے، پھر جب وہ اپنی مدت پوری کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زندہ کرے گا اور اس دنیا سے نکال کر حقیقی گھر میں ، جو دائمی قیام کا گھر ہے، داخل کرے گا۔
[26] پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو ضروری لباس مہیا فرمایا۔ وہ لباس جس سے خوبصورتی مقصود ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انھیں تمام اشیا ، مثلاً: کھانا پینا، سواری اور بیویاں وغیرہ عطا کیں ۔ اس کی تکمیل کی خاطر اللہ تعالیٰ نے دیگر ضروریات مہیا کیں اور ان پر واضح کر دیا کہ یہ سب کچھ بالذات مقصود نہیں ہے بلکہ یہ لباس اللہ تعالیٰ نے صرف اس لیے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت میں ان کا مددگار ثابت ہو۔ بنا بریں فرمایا:﴿ وَلِبَاسُ التَّقۡوٰى ١ۙ ذٰلِكَ خَيۡرٌ﴾’’اور جو تقویٰ کا لباس ہے وہ سب سے اچھا ہے۔‘‘ یعنی تقویٰ کا لباس، حسی لباس سے بہتر ہے۔ کیونکہ لباس تقویٰ بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے کبھی پرانا اور بوسیدہ نہیں ہوتا اور لباس تقویٰ قلب و روح کا جمال ہے۔ رہا حسی اور ظاہری لباس تو اس کی انتہا یہ ہے کہ یہ ایک محدود وقت کے لیے ظاہری ستر کو ڈھانپتا ہے یا انسان کے لیے خوبصورتی کا باعث بنتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کا اور کوئی فائدہ نہیں ۔ نیز فرض کیا یہ لباس موجود نہیں تب زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ اس کا ظاہری ستر منکشف ہو جائے گا جس کا اضطراری حالت میں منکشف ہونا نقصان دہ نہیں اور اگر لباس تقویٰ معدوم ہو جائے تو باطنی ستر کھل جائے گا اور اسے رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا پڑے گا۔﴿ذٰلِكَ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’یہ نشانیاں ہیں اللہ کی قدرت کی تاکہ وہ غور کریں ‘‘ یعنی یہ مذکورہ لباس جس سے تم ایسی چیزوں کو یاد کرتے ہو جو تمھیں نفع و نقصان دیتی ہیں اور اس ظاہری لباس سے تم اپنے باطن کی ستر پوشی میں مدد لیتے ہو۔