Tafsir As-Saadi
82:1 - 82:5

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور جب تارے بکھر جائیں گے(2) اور جب سمندر چلا دیے جائیں گے(3) اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی(4) تو جان لے گا ہر نفس جو آگے بھیجا اس نے اور (جو) پیچھے چھوڑا(5)

تفسیر سورۂ انفطار

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] یعنی جب آسمان پھٹ کر پراگندہ ہو جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے اور ان کا حسن و جمال زائل ہو جائے گا، جب سمندر بہہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور ایک ہی سمندر بن جائیں گے، قبریں شق کر کے اکھاڑ دی جائیں گی، اور ان میں سے مردے باہر نکال لیے جائیں گے اور ان کو اعمال کی جزا و سزا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کرنے کے لیے جمع کیا جائے گا، پس اس وقت پردہ ہٹ جائے گا اور وہ سب کچھ زائل ہو جائے گا جو چھپاہوا تھا۔ اور ہر نفس جان لے گا کہ اس کے پاس کیا نفع اور خسران ہے، اس وقت جب ظالم دیکھے گا کہ اس کے ہاتھوں نے کیا کمائی آگے بھیجی ہے اور شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی کا یقین ہو جائے گا تو وہ (حسرت اور پشیمانی سے) اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ اس وقت متقین جنھوں نے صالح اعمال آگے بھیجے ہیں، عظیم کامیابی، دائمی نعمتوں اور جہنم کے عذاب سے سلامتی سے بہرہ مند ہوں گے۔