اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے اچھے،نہیں تکلیف دیتے ہم کسی جان کو مگر اس کی طاقت کے مطابق ہی،یہ لوگ ہیں جنتی،وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(42) اور نکال دیں گے ہم جوہوگا ان کے سینوں میں کینہ بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں،اور کہیں گے وہ،سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہدایت دی ہمیں اس کی اور نہ تھے ہم کہ ہدایت پاتے اگر نہ ہوتی یہ بات کہ ہدایت دی ہم کو اللہ نے، البتہ تحقیق آئے تھے رسول ہمارے رب کے ساتھ حق کے اور آواز دیے جائیں گے وہ کہ یہ جنت ہے،وارث بنائے گئے ہوتم اس کے بسبب اس کے جو تھے تم عمل کرتے(43)
[42] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نافرمان ظالموں کو دیے جانے والے عذاب کا ذکر فرمایا، تب اس نے اہل اطاعت بندوں کے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی جو دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کرتے رہے۔‘‘ یعنی اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے۔ پس اس طرح وہ ایمان و عمل، اعمال ظاہرہ اور اعمال باطنہ کو جمع کرتے ہیں اور بیک وقت فعل واجب اور ترک محرمات پر عمل کرتے ہیں ۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ایک عام لفظ ہے جو واجب اور مستحب تمام نیکیوں کو شامل ہے اور بسااوقات بعض نیکیاں بندے کی مقدرت سے باہر ہوتی ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَاۤ ﴾ ’’ہم ہر نفس کو اس کی طاقت کے مطابق مکلف کرتے ہیں ‘‘ اور اس کی مقدرت سے بڑھ کر اس پر بوجھ نہیں ڈالتے۔ لہٰذا اس حال میں اس پر فرض ہے کہ وہ استطاعت بھر اللہ تعالیٰ سے ڈرے اگر بعض فرائض و واجبات کی تعمیل سے عاجز ہو اور ان کو بجا لانے پر قادر نہ ہو تو یہ فرائض اس پر سے ساقط ہو جاتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا﴾(البقرۃ: 2؍286) ’’اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی شخص پر صرف وہی چیز فرض کرتا ہے جسے سر انجام دینے کی وہ طاقت رکھتا ہے۔ فرمایا : ﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا﴾(الطلاق: 65؍7) ’’اللہ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا مگر صرف اسی کے مطابق جو اس کو عطا کیا ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِي الدِّيۡنِ مِنۡ حَرَجٍ ﴾(الحج: 22؍78) ’’اور (اللہ تعالیٰ نے) تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔‘‘فرمایا : ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ ﴾(التغابن: 64؍16)’’پس جہاں تک طاقت ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ پس معلوم ہوا کہ عاجز ہونے کی صورت میں واجب کی ادائیگی لازم نہیں اور نہ اضطراری صورت حال میں محرمات سے اجتناب واجب رہتا ہے۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’ایسے ہی لوگ‘‘ یعنی ایمان اور عمل صالح سے متصف لوگ ﴿ اَصۡحٰؔبُ الۡجَنَّةِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’اہل بہشت ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی انھیں جنت سے نکالا نہیں جائے گا اور نہ وہ خود جنت کے بدلے کوئی اور چیز چاہیں گے۔ کیونکہ انھیں جنت میں انواع و اقسام کی لذتیں حاصل ہوں گی، تمام خواہشات پوری ہوں گی، انھیں کوئی روک ٹوک نہ ہوگی اور اس سے بلند تر کسی مقام کی طلب نہ ہوگی۔
[43]﴿ وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ ﴾ ’’اور نکال لیں گے ہم جو کچھ ان کے دلوں میں خفگی ہو گی‘‘ یہ اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور احسان ہوگا کہ دنیا میں ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کینہ اور بغض اور ایک دوسرے سے مقابلے کی جو رغبت موجود تھی، اللہ تعالیٰ اس کو زائل اور ختم کر دے گا یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرنے والے بھائی اور باصفا دوست ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾(الحجر: 15؍47) ’’اور ان کے دلوں میں جو کینہ اور کدورت ہوگی ہم اسے نکال دیں گے اور وہ بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔‘‘اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم عطا کرے گا جس پر ہر ایک کو خوشی اور مسرت ہوگی اور ہر ایک یہی سمجھے گا کہ جو نعمتیں اسے عطا ہوئی ہیں ان سے بڑھ کر کوئی اور نعمت نہیں اس لیے وہ حسد اور بغض سے محفوظ و مامون رہیں گے۔ کیونکہ حسد اور بغض کے تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔ ﴿ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡهٰرُ ﴾’’بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں ‘‘ یعنی وہ جب چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے نہریں نکال لیں گے۔ اگر وہ یہ نہریں اپنے محلات میں لے جانا چاہیں یا اپنے بلند و بالا خانوں میں یا پھولوں سے سجے ہوئے باغات کی روشوں میں لے جانا چاہیں تو لے جائیں گے۔ یہ ایسی نہریں ہوں گی جن میں گڑھے نہیں ہوں گے اور بھلائیاں ہوں گی جن کی کوئی حد نہ ہوگی۔﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ اس لیے جب وہ اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کو دیکھیں گے ﴿قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ هَدٰؔىنَا لِهٰؔذَا ﴾ ’’کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں یہاں کا راستہ دکھایا۔‘‘ یعنی وہ پکار اٹھیں گے ہر قسم کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے ہم پر احسان فرمایا، ہمارے دلوں میں الہام فرمایا اور اس پر ایمان لے آئے اور ایسے اعمال کیے جو نعمتوں کے اس گھر تک پہنچاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ایمان و اعمال کی حفاظت کی حتیٰ کہ اس نے ہمیں اس جنت میں داخل کر دیا۔ بہت ہی اچھا ہے وہ رب کریم جس نے ہمیں نعمتیں عطا کیں ، ظاہری اور باطنی اتنی نعمتوں سے نوازا کہ کوئی ان کو شمار نہیں کر سکتا۔ ﴿وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِيَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ ﴾ ’’اور اگر اللہ ہم کو راستہ نہ دکھاتا تو ہم راستہ نہ پاسکتے۔‘‘ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اپنی ہدایت اور اتباع رسل سے نہ نوازا ہوتا تو ہمارے نفوس میں ہدایت کو قبول کرنے کی قابلیت نہ تھی۔ ﴿لَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَقِّ ﴾’’یقینا لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات‘‘ یعنی جب وہ ان نعمتوں سے متمتع ہو رہے ہوں گے جن کے بارے میں انبیا و مرسلین نے خبر دی تھی اور یہ خبر ان کے لیے علم الیقین کے بعد حق الیقین بن گئی۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے یہ بات متحقق ہوگئی اور ہم نے ہر وہ چیز دیکھ لی ہے جس کا انبیا و رسل نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا اور یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ وہ سب کچھ حق الیقین ہے جو انبیا و مرسلین لے کر مبعوث ہوئے۔ جس میں کوئی شک و شبہ اور کوئی اشکال نہیں ۔﴿وَنُوۡدُوۡۤا ﴾ ’’اور منادی کردی جائے گی۔‘‘ تہنیت و اکرام اور سلام و احترام کے طور پر انھیں پکارا جائے گا ﴿ اَنۡ تِلۡكُمُ الۡجَنَّةُ اُوۡرِثۡتُمُوۡهَا ﴾ ’’یہ جنت ہے، وارث ہوئے تم اس کے‘‘ یعنی تم اس کے وارث ہو اور یہ تمھاری جاگیر ہے جبکہ جہنم کافروں کی جاگیر ہوگی۔ ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اپنے اعمال کے بدلے میں ‘‘ سلف میں سے کسی نے فرمایا ہے کہ اہل جنت اللہ تعالیٰ کے عفو کی وجہ سے جہنم سے نجات پائیں گے، اس کی رحمت کی بنا پر جنت میں داخل ہوں گے اور اپنے اعمال کے بدلے اس کے وارث بنیں گے اور اس کی منازل کو باہم تقسیم کریں گے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے بلکہ اس کی رحمت کی بلند ترین نوع ہے۔